ڈاکٹر خزعلی نے آیورا اجلاس میں کہا:
ایرانی خواتین، اقتصادی تعامل کے میدان میں ترقی کی جانب گامزن رہی ہیں،
مشیر صدر مملکت برائے خواتین اور خاندانی امور نے بحر ہند کے ممالک کی، خواتین کو اقتصادی میدان میں بااختیار بنانے کے ورکنگ گروپ کے ساتویں اجلاس میں مختلف شعبوں میں ایرانی خواتین کی شاندار کامیابیوں اور اقتصادی تعلقات کے میدان میں ان کی ترقی پر زور دیا۔
شعبہ مشاورت صدر مملکت برائے خواتین و خاندانی امور کی تعلقات عامہ کی رپورٹ کے مطابق مشیر صدر مملکت برائے خواتین اور خاندانی امور ڈاکٹر انسیہ خزعلی نے ،یونین آف انڈین اوشین کنٹریز کے خواتین کے اقتصادی خودمختاری پروگرام کے ورکنگ گروپ" آیورا" کے ساتویں اجلاس میں جس کا آج تہران میں انعقاد کیا گیا، بحر ہند کے سرحدی علاقے میں خواتین کی حیثیت کو بہتر بنانے اور انہیں بااختیار بنانے کے سلسلے میں رکن ممالک کے معاملے میں اہم تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران، خواتین کی ترقی کے لیے اس اجتماعی ارادے کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ اور اسلام کی خصوصی تاکید، آئین اور ملک کے اعلیٰ دستاویزات کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف شعبوں خصوصاً اقتصادی تعامل کے میدان میں خواتین کے انسانی وقار کے حوالے سے ترقی کی راہ پر گامزن ہوا ہے اور آج ایرانی خواتین کے درخشاں کردار کو مختلف بین الاقوامی میدانوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔
انہوں نے اقتصادی دہشت گردی کی کوششوں اور یکطرفہ جبر کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے، جو کہ ایرانی قوم کے خلاف غیر قانونی طور پر نافذ کی جا رہی ہیں مزید کہا: اس وقت ہماری خواتین ظالمانہ پابندیوں کے دباؤ سے نبرد آزما ہیں ۔جن سے ان کی اور ان کے بچوں کی زندگی، صحت، معاش اور ترقی کو خطرہ لاحق ہے۔
مشیر صدر مملکت برائے خواتین و خاندانی امور نے خواتین کمیشن کی رکنیت کے ایرانی خواتین کے قانونی حق سے انکار پر تنقید کرتے ہوئے کہا: ایرانی خواتین نے ایک قانونی طریقہ کار کے ذریعے خواتین کمیشن کی رکنیت حاصل کی تھی اور مغربی طاقتور سیاست دانوں کا انہیں اس قانونی حق سے محروم کرنے کا اقدام، نہ صرف اقوام متحدہ کے اصولوں اور دنیا کے کثیرالجہتی عقائد و نظریات اور ثقافتی تنوع کے احترام کی خلاف ورزی ہے، بلکہ یہ ایک ایسا خطرناک اور غلط طریقہ کار ہے جسے ہم یقینی طور پر مستقبل میں بار بار دیکھیں گے
ڈاکٹر خزعلی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: آزادی اور ثقافتی تنوع کے مخالفین کے تمام دعووں کے برعکس، ایرانی خواتین ،44 سال سے ہر قسم کے ناجائز حملوں اور پابندیوں کے خلاف ایک دم توڑ دینے والی جدوجہد میں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں اور دوگنی کوششوں کے ساتھ ان کا مقابلہ کرتے ہوئے زبردست تبدیلیوں کو وجود میں لانے میں کامیاب رہی ہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ علاقائی اور بین الاقوامی تعاون کو مضبوط اور وسعت دے کر ہم ایرانی خواتین کے لیے قابل قدر نتائج اور کامیابیوں کا مشاہدہ کریں گے۔ انہوں نے خواتین کی تعلیم اور بااختیار بنانے کے سلسلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے تجربات کو شیئر کرنے کے لیے آیورا کے رکن ممالک کے ساتھ تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا۔