id: 16617
1402/3/30 17:39

یہودیت، عیسائیت اور اسلام میں حجاب

 یہودی نقطہ نظر سے، حجاب

حجاب عفت،اور پاکدامنی کی پابندی، یہودی مذہب کے سخت احکامات میں سے ایک ہے، اور یہ ان چیزوں میں سے ہے، جن کی قدیم زمانے سے سختی سے پابندی کی جاتی رہی ہے۔ یہودیوں میں حجاب کا رواج کا واضح ہونا، مورخین کے نزدیک کچھ اس قدر اہمیت کا حامل ہے کہ بہت سے مورخین اور مفکرین نے دوسری قوموں مثلاً عرب اور ایران میں حجاب کی پابندی کو یہودی قوم کے ساتھ تعلقات کا نتیجہ سمجھا ہے۔انہوں نے نہ صرف یھودی خواتین کے درمیان پردہ کو مرسوم ہونے کو لازمی قرار دیا ہے  بلکہ یہودی عورتوں میں حجاب کے معاملے میں کی جانے والی سخت  پابندیوں، کے بارے میں بھی بہت کچھ کہا ہے:

"اگرچہ پردہ عربوں میں عام نہیں تھا، اور اسلام کے ذریعے سے پردے کو رواج ملا ، لیکن، غیر عرب اقوام میں پردہ انتہائی سخت انداز میں رائج تھا۔ ایران، یہودیوں اور یہودی افکار کی پیروی کرنے والے افراد کے درمیان، حجاب اس سے کہیں زیادہ سخت طریقہ سے رائج تھا، جس کی اسلام میں تاکیدکی جاتی ہے۔ حجاب کی پابندی ،توریت کے نقطہ نظر سے واضح تھی، جس کا ذکر مختلف طریقوں سے کیا گیا ہے۔توریت میں حجاب کو اس قدر اہم سمجھا گیا ہے کہ بعض اوقات مجرم  خواتین کو سزا دینے کے لیے ان کے حجاب کو عارضی طور پر اتارنے کا حکم دیا گیا ہے۔ (توریت، سفر اعداد ، باب 5، پیراگراف 18)

مقدس کتاب میں دیگر کئی مقامات پر بھی  حجاب کی پابندی کا ذکر آیا ہے۔ خدا کی کتاب توریت میں مردوں اور عورتوں کے لیے ان کے خصوصی لباس کی اہمیت، اور مرد اور عورت کے لباس کی ایک دوسرے سے شباہت رکھنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے :

"عورت کو مردوں کے کپڑے اور لوازمات نہیں پہننے چاہئیں اور مرد کو عورتوں کے کپڑے نہیں پہننے چاہئیں۔ کیونکہ جو بھی  یہ کام کرتا ہے۔ اس کا یہ کام  خدا کی نگاہ میں ناپسند اور مکروہ ہے۔" ( توریت کتاب استثناء، باب 22، پیراگراف 5) یھودی قوانین کے مطابق حجاب،کی  خواہش فطری ہے۔انسانی اقدار کے حصول کی خواہش فطری ہے، جسے سکھانے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ لہذا فطرت کی بنیاد پر ہر انسان عزت کے ساتھ جینا چاہتا ہے۔یہی  وجہ ہے کہ وہ بچہ جو ابھی تک اچھائی اور برائی کی تشخیص کے مرحلے تک  نہیں پہنچا ہے ،اسے بھی  تذلیل ہونے سے نفرت آتی ہے۔ بلاشبہ حجاب ان عوامل میں سے ایک ہے جو انسانی شخصیت کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ اور اس کی خواہش فطرت میں موجود ہوتی ہے،اور فرد اور معاشرے کی صحت کی  یقینی ضمانت کے لئے بہت ضروری ہے۔ ہم توریت میں حضرت آدم اور حوا (علیہما السلام) کے قصے میں پڑھتے ہیں: "اور جب خاتون نے دیکھا کہ درخت پر  اچھی  خوراک ہے اور یہ ایک خوبصورت، خوشگوار اور علم دینے والا درخت لگتا ہے، تو اس نے اس درخت کا پھل کھایا اور اپنے شوہرکو  بھی دیا۔ اس نے بھی کھایا، پھر ان کی آنکھ روشن ہو گئی اور  معلوم ہوا کہ وہ برھنہ ہیں۔ بعد ازاں، انجیر کے پتوں کو ملا کر انہوں نے سلائی کی اور اپنے لیے ایک پوشاک تیار کی ۔ کھالیں بنائیں اور انہیں ڈھانپیں۔" مزید لکھا ہے:"اور خدا نے آدم اور اس کی زوجہ کے لئے کھال سے کپڑے تیار کئے اور ان کو چھپایا(توریت، کتاب پیدائش، باب 3، آیات 8-6 اور 20-21)

اس قصے کے بارے میں قرآن یوں فرماتا ہے:

"فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْآتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَرَقِ الْجَنَّةِ"(اعراف/22)

  ترجمہ: "جب (آدم اور حوا) نے اس ممنوعہ درخت کا مزہ چکھ لیا تو وہ اپنا پردہ کھو بیٹھے۔ (ان کے پوشیدہ مقامات ظاہر ہوئے) اور انہوں نے جلدی سے اپنے آپ کو بہشتی  درختوں کے پتوں سے ڈھانپ لیا۔"

 توریت میں ہے کہ: جنت میں مختصر قیام کے بعد، جو آخرت کے دنوں میں سے آدھا دن تھا، آدم علیہ السلام،ہندوستان میں کوہ "نوذ" اور حوا جدہ میں (زمین پر )اترے ۔ جدائی  کے اختتام کے بعد جب انہیں ملنا تھا،وہ عریاں اور برھنہ تھے۔ خدا نے، جنت  سے ان کے ساتھ دیئے گئے ،مینڈھوں کے  آٹھ جوڑوں میں سے ایک کو ذبح کرنے کا حکم دیا۔ حوا نے اس کی اون کات کر حضرت آدم علیہ السلام کی مدد سے اس کے ریشوں سے ایک لباس بنایا۔ آدم علیہ السلام کے لیے ایک لمبا (جبہ) بُنا گیا اور حوا کے لیے قمیص اور اسکارف بُنا گیا۔

اور عریانیت کی شرمندگی سے نجات پا گئے ۔

متذکرہ روایت کو نقل کرنے کے بعد بعض مصنفین کہتے ہیں: اسلام سے پہلے حجاب اور نقاب تھا اورابتدائے خلقت میں انسان؛ آسمانی قوانین کی یاددھانی سے پہلے اس کا خیال رکھتا تھا۔ بعض دیگر افراد کا خیال ہے کہ،خود کو ڈھانپنے کی خواہش انسان کے  وجودکے بنیادی ڈھانچہ میں موجود ہے اور جو خود کو چھپانے کے فطری امر ہونے کو  بیان کرتی ہے ۔ لیکن اس نکتے کی بنا پر کہ انسان ذاتی طور پر اچھی چیزوں کی طرف رجحان رکھتاہے، حجاب کرنے کی رغبت بھی   ایک فطری بات ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی میں، ہر دور میں خواتین باپردہ زندگی گزارتی تھیں، اور حجاب کو ائمہ (علیھم السلام) نے بھی سراہا ہے، لہذا یہ بزرگان اسلام کا یقینی طرز زندگی ہے، جو صدر اسلام کے آغاز سے لے کر ہمارے زمانے تک جاری ہے۔ پس حجاب اور پردہ کسی قسم کی محدودیت نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا فطری کام  بات ہے جس کی پابندی پر  ،عورت کی عزت کا انحصار ہے۔یہی سبب ہے کہ عفت اور حیا ایک ایسی تدبیر ہے،جسے خواتین کو مردوں کے مقابلے میں اپنی حیثیت کو تحفظ دینے اور گراں قیمت بنانے میں استعمال کرنا چاہیے۔

سچائی کے متلاشی لوگ ہمیشہ اورہر دور میں حقیقت پسندانہ انداز میں سوچتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ گرمیوں کے موسم میں جرائم اور اس کے اثرات سردیوں کے موسم سے زیادہ نظر آتے ہیں۔ زیادہ تر ماہرین اس مسئلے کی موثر وجوہات میں سے ایک ،مکمل بے پردگی یا پردے  کی کمی کو قرار دیتے ہیں ۔ لہٰذا یہ کہنا کہ؛ عورت کی پاکیزگی اس کے لباس میں نہیں ہے بلکہ دل میں ہونی چاہیے یا یہ کہ عورتوں کا چادر پہننا  مردوں کومزیدعورت کی جانب  متجسس بناتا ہے اورتوجہ کرنے پر  اکساتا  ہے، کیونکہ"الانسان حریص علی ما منع " (یعنی، انسان کو جس چیز کا منع کیا جائے وہ اس  چیز کا زیادہ حریص ہو جاتا ہے) یہ ساری باتیں منطقی نہیں ہیں ۔چارلی چپلن، مزاح نگار اور غیر مسلم اداکار نے  اپنی  بیٹی جیکولین کو لکھے گئے ایک خط میں، بے پردگی اور عورتوں کے برہنہ جسم کو، معاشرے کی زبوں حالی اور تباہی کا ذمہ دار سمجھا ہے اور حجاب کی پابندی کو بدعنوانی اور تباہی کو روکنے کا  ایک  موثر عامل جانا ہے۔ یہاں موضوع کی مناسبت سے خط کے کچھ اقتباسات کا حوالہ پیش خدمت ہے۔ "... (جیکولین) ! میں جانتا ہوں تمہارا کام بہت مشکل ہے۔ اسٹیج پر ریشم کے پتلے ٹکڑوں کے سوا کوئی چیز تمہارے جسم کو نہیں ڈھانپتی۔ آرٹ کی وجہ سے، آپ اسٹیج پر برہنہ ہو سکتے ہیں (یہ اس کے نقطہ نظر سے) جبکہ زیادہ ملبوس اور کنوارے پن کے ساتھ لوٹا جاسکتا ہے۔ لیکن اس دنیا میں کوئی بھی چیز یا کوئی بھی فرد  اس کا مستحق نہیں ہےکہ جس کے لئے  کوئی لڑکی، اپنے پیر کے ناخن ننگے کرے۔ وہ جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے: عریانیت ہمارے دور  کی بیماری ہے، اور میرے جیسا  بوڑھا آدمی، شاید  مضحکہ خیز باتیں کہہ رہا ہے، لیکن میرے گمان کے مطابق تمہارے، ننگے جسم کا مالک کسی ایسے شخص کو ہونا چاہیے جس کی روح کو تم برہنہ دیکھنا  پسند کرتی  ہو۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شریعت میں حجاب

 پردہ اور عفت کو، اس اعتبار سے کہ ایک فطری چیز ہے اور انسانی سماجی زندگی کی ضرورت ہے،  آسمانی مذاہب اور ادیان میں ایک خاص مقام کا حامل ہے۔ تمام آسمانی مذاہب میں خواتین کے لیے حجاب اور پردے کو واجب اور لازم شمار کیا گیا ہے اور  انسانی معاشرے کو اس کی جانب دعوت دی گئی ہے۔ تمام توحیدی مذاہب میں عفت اور پردہ داری  کو ایک ضروری امرقرار دے کر اس پر توجہ دی گئی ہے۔ انجیل میں بیان کیا گیا ہے کہ : پولس نے مسیحیوں کے نام اپنے خط میں واضح کیا کہ: "لیکن میں چاہتا ہوں کہ تم جان لو کہ ہر مرد کا سر مسیح ہے، اور عورت کا سر مرد ہے، اور مسیح کا سر خدا ہے۔ اگر کوئی مرد جس کا سر  ڈھکا ہوا ہے۔ اگر وہ نماز یا نبوت نہیں کرتا تو وہ اپنے آپ کو رسوا کرتا ہے۔ لیکن ہر وہ عورت جو ننگے سر کے ساتھ نماز پڑھتی ہے، وہ اپنے سر کو رسوا کرتی ہے۔ کیونکہ یہ سر مونڈنے کے مترادف  ہے۔ کیونکہ اگر عورت نہ پہنے تو بال کٹوائے اور جبکہ عورت بال کٹوائے یامنڈوائے تو یہ قباحت رکھتا ہے،لہٰذا خود کو پہنائے رکھے۔ مرد کو اپنا سر نہیں چھپانا چاہیے کیونکہ وہ خدا کا جلال اور اس کی صورت ہے۔ لیکن عورت مرد کا جلال ہے۔ کیونکہ مرد عورت سے نہیں ہیں، بلکہ عورت مرد سے ہے اور مرد کو عورت کے لیے پیدا نہیں کیا گیا ہے بلکہ عورت کو مرد کے لئے اس اعتبار سے عورت کو اپنے سر پر عزت رکھنا چاہیے۔ فرشتوں کے سبب۔۔۔۔۔ اپنے دل میں انصاف رکھو کیا یہ بات زیب دیتی ہے عورت کو کہ وہ خود کو چھپائے بغیر خدا کے پاس دعا کرے ۔ (پیدائش کا سفر، باب 11، آیت 143)پس دعا کے موقع پر عورت کو سر ڈھانپنا چاہیے، تو جب غیر محرم کا سامنا ہو تو سر ڈھانپنا زیادہ ضروری ہوگا۔ اور اس سلسلے میں بھی  "انجیل" پر ایک نظر ڈالیں جہاں پولس اپنے خط میں تیموتاوس کو بتاتا ہے

"اور اسی طرح عورتیں حیا اور پرہیزگاری کا لباس پہنیں نہ کہ ،زلفیں سنوارنا  ،سونے اور موتی اور قیمتی لباس پہننا۔بلکہ جس طرح خواتین کو زیب دیتا ہے کہ وہ اعمال صالحہ کے ذریعے دینداری کا دعوی کریں۔( انجیل پطرس رسول،کا خط  باب دوئم ، پیراگراف 159)

عورتوں کے وقار اور امانت داری کے بارے میں پڑھنے کو ملتا ہے کہ "اور اسی طرح عورتوں کو باوقار اور امانتدار ہونا چاہئے

اور غیبت کرنے والی نہیں ہونی چاہیے بلکہ ہوشیار اور ہر معاملے میں امانت دار

(انجیل ،پطرس رسول،کا خط  ،تیسرا باب ،پیراگراف 11) عیسائی مذہب نے نثر یہودی شریعت میں موجود پردے  احکام کو تبدیل نہیں کیا بلکہ ان شدید قوانین کو جاری رکھا۔ کیونکہ عیسی کہتے ہیں: یہ مت سمجھو کہ میں توریت صحیفوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں، بلکہ میں ان کو باقی رکھنے کے لئے آیا ہوں۔(عہد جدید انجیل متی ،باب 70)

یہی وجہ ہے کہ عیسائی مذہب نے عورتوں کی جانب سے ہر قسم کے اکسانے اور جذبات کے بھڑکاؤ کو ممنوع قرار دیتے ہوئے مکمل حجاب اور ہر قسم کی آرائش سے دوری اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ فقہی  دستاویزات کے حصے میں اس موضوع پر تفصیل سے گفتگو کی جائے گی۔ تاریخی کتابوں کے مطابق اس زمانے میں تمام خواتین یہاں تک کہ امیر خواتین کے لیے بھی چادر اور اسکارف کا پہننا لازمی تھا۔ عید کے موقع پر بھی اسے ترک  نہیں کیا جاتا تھا۔

سونے، چاندی اور  ریشمی کپڑوں سے اسے سجایا بھی جاتا تھا۔ یہاں تک کہ تفریح اور محفل انس کے موقع پر نامحرموں کی نگاہوں سے دور شرکت کی جاتی تھی۔ اسی طرح انجیل میں پڑھتے ہیں کہ: بوڑھی خواتین کو چاہیے کہ تفریح کے موقع پر غیبت نہ کریں اور نہ ہی زیادہ شراب پئیں۔ بلکہ نیک تعلیمات سکھانے والی بنیں اور جوان لڑکیوں کو،عقل والے امور سکھائیں تاکہ وہ  شوہر اور بچوں کی ہمدرد  اور پاکدامن، عقلمند، گھریلو،نیکوکار،  اور اپنے شوہروں کی فرمانبردار ہوں تاکہ خدا کا کلام مورد الزام قرار نہ پائے۔(انجیل، پولس بھتیتوس، کا خط ،باب دوئم ،فقرہ 61 )

اسی طرح اے خواتین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔، بالوں کو سنوارنا ،سونا پہننا، لباس سے خود کو آراستہ کرنا، یہ سب ظاہری زینت کے لیے نہ ہو،بلکہ دل اور باطن کی انسانیت اور غلط لباس  کے بغیر، بردبار اور پر سکون روح جو خدا کے نزدیک بہت قیمتی ہے۔ کیوں کہ اسی طرح پچھلے زمانے میں مقدس خواتین جو خدا پر بھروسہ کرتی تھیں وہ اسی طرح خود کو زینت دیا کرتی تھیں۔(انجیل ،پطرس رسول کا خط،باب سوئم۔پیراگراف61)گذشتہ موارد کے علاوہ عہد جدید میں بھی بالوں  کو چھپانے کو لازم سمجھا گیا ہے۔ خاص طور پر عبادت کے موقع پر۔( انجیل ، پولس رسول کا حواریوں کو خط ، گیارہواں باب ، پیراگراف 171)چرچ میں خاموشی اختیار کی جائے۔(انجیل ،پولس رسول کا حواریوں کو خط ، چودھواں باب، پیراگراف 3436)عورتوں کو باوقار اور امانتدار ہونا چاہئے(انجیل ،پولس رسول کا تیموناوس کو خط،باب سوئم، پیراگراف11)

 عیسائی خواتین کی عملی سیرت کے بارے میں لاروس انسائیکلوپیڈیا بیان کرتا ہے کہ: عیسائیت نے حجاب کو  عورتوں کے لئے باقی رکھا۔ جب یورپ میں داخل ہوا تو اسے نیک سمجھا۔ گلیوں میں اور نماز کے وقت عورتیں حجاب میں ہوتی تھیں۔ قرون وسطی، خاص طور پر نویں صدی میں حجاب رائج تھا۔ اس حجاب کے ذریعے سے خاتون کے کاندھے چھپے رہتے تھے۔پردہ کرنے والا کپڑا زمین تک پہنچتا تھا۔ تیرہویں صدی تک یہی طریقہ کار باقی تھا۔ویل ڈیورنٹ، عیسائی خواتین کی عملی زندگی کے بارے میں کچھ اسطرح لکھتا ہے: اس زمانے میں عورتوں کی ٹانگوں کا نچلا حصہ مفت میں اور ملاء عام میں نظر نہیں آیا کرتا تھا۔۔۔۔۔ فوجی جشنوں میں علماء کے لئےخواتین کا لباس ایک اہم موضوع قرار پاتا تھا، جس میں چرچ کی مینجمنٹ یہ طے کرتی تھی کہ خواتین کا لباس کتنا لمبا ہونا چاہیے۔ جس وقت پادریوں نے عیسائی  مذہب کی اخلاقیات میں چادر اور اسکارف  کو شامل کیا تو خواتین کو اس کا حکم دیا گیا۔انہوں  نے باریک سوتی اور ریشم سے چادریں تیار کیں۔( ول ڈیورنٹ ،1391، ج4، ص757) یورپی اور عیسائی خواتین کے لباس سے متعلق جو تصاویر باقی رہ گئی ہیں ان میں عورتوں کے مکمل پردے کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔( براون و اشنایدر  1370،ص 116)

عیسائیت کی نگاہ میں حجاب

عیسائیت میں خواتین کے حجاب کو واجب سمجھا جاتا تھا۔ عیسائی دانشور ،جورجی زیڈن اس بارے میں کہتے ہیں: ’’اگر حجاب سے مراد، بدن و جسم کو ڈھانپنا لیا جائے تو یہ صورت حال اسلام سے پہلے یہاں تک کہ عیسائی مذہب آمد سے پہلے بھی موجود تھی۔جس کے آثار آج بھی یورپ میں موجود ہیں۔"عیسائی مذہب نے نہ صرف یھودی مذہب میں موجود خواتین کے پردے کے احکامات میں کوئی تبدیلی نہیں بلکہ سختی سے ان  قوانین کو اپنے درمیان جاری رکھا ہے ۔ بعض صورتوں میں تو  اس نے قدم آگے بڑھاتے ہوئے حجاب کی ضرورت پر زیادہ زور دیا ہے۔ چونکہ یہودیوں کی شریعت میں  خاندان کی تشکیل اور شادی کو مقدس سمجھا جاتا تھا، اور ول ڈیورنٹ کی  کتاب "تہذیب کی تاریخ" کے مطابق، 20 سال کی عمرمیں شادی کرنا  لازمی تھی۔ جبکہ  عیسائی مذہب کی نگاہ میں، کنوارہ رہنے کو مقدس سمجھا جاتا رہا ہے۔لہذا، اس میں کوئی شک نہیں کہ جنسی محرک کے سیاق و سباق کو ختم کرنے کے لیے، اس مذھب  میں،  ڈھانپنے، مکمل عفت اور کسی بھی میک اپ اور سجاوٹ سے پرہیز کرنے کا خواتین سے زیادہ سختی سے مطالبہ کیا گیا ہے۔البتہ عیسائی مذہب کی تعلیمات میں عام  دنیاوی لذتوں کو ترک کرنے اور شہوت  کو ختم کرنے پر بھی زیادہ زور دیا گیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ چوتھی اور پانچویں صدی میں رہبانیت وجود میں آئی اور عیسائی خواتین راہبائیں پوری عفت اور حجاب کے ساتھ عوام کی خدمت میں مصروف نظر آئیں۔(وِل ڈیورنٹ، 1367: جلد 1، صفحہ 328)(یہ بات قابل ذکر ہے کہ اب،عیسائی مذھب، تمام عیسائیوں کے لیے شادی کو مقدس سمجھتا ہے اورصرف پاپ  اور پادریوں کے لیے اسے ممنوع سمجھا جاتا ہے۔)انجیل میں حجاب کی فرضیت اور پردہ پہننے پر زور دیا گیا ہے اور وہ اپنے  پیروکاروں کو شہوت انگیزی سے باز رہنے اور حیا و عفت کے کاموں کی دعوت دیتا ہے۔ ہم انجیل میں پڑھتے ہیں: جوان خواتین کو؛ ذہین، پاک دامن، گھریلو، نیک اور اپنے شوہروں کا فرمانبردار ہوناچاہئے۔ پوپ  اور عیسائی کارڈینلز کے مذہبی احکامات کے مطابق چہرے کو ڈھانپنا فرض تھا اور بالوں کو سیٹ کرنا، سنوارنا اور آئینے میں ان کو منظم کرنا  کان چھیدنا اور  ہار ، پازیب، سونے اور قیمتی کنگن پہننا، بالوں کو رنگنا اور بدلنا ظاہری شکل میں تبدیلی لانا منع تھا۔ (بائبل، پطرس رسول کا خط، باب سوئم، پیراگراف 6)

 

 

 

 اسلام میں حجاب اور پردے کا فلسفہ

اسلام میں خواتین کے پردے کے لیے ایک خاص فلسفہ موجود ہے جو عقلی اعتبار سے اس حکم کا جواز فراہم کرتا ہے۔ اسے تجزیاتی اعتبار سے حجاب کی بنیاد سمجھا جا سکتا ہے۔ اگر درست انداز میں معاشرے میں حیا اور پردہ  نہ ہو تو مرد اور عورت میں سے ہر ایک آگ اور روئی کی مانند  ایک دوسرے کے قریب آتے رہیں گے  اور بھڑکتے رہیں گے ۔ یہ واضح ہے کہ اس آگ  سے اٹھنے والا  سیاہ دھواں سب کی آنکھوں کو نقصان پہنچائے گا  اور مختلف؛ جرائم اور تباہ کاریوں کی پیدائش کا سبب بنے گا۔ اسی بنا پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورت ایک بے دفاع، کمزور اور نقصان کی زد پر موجود مخلوق ہے ، جب بھی وہ (بغیر حجاب کے) گھر سے نکلتی ہے، شیطان اسے گھیر لیتا ہے اوروہ شیطان کے اثر و رسوخ کا اولین مرکز قرار پاتی ہے۔اس بات کو یوں واضح کیا جا سکتا ہے کہ، خدائی مخلوقات میں عورت مرد سے زیادہ نزاکت کی حامل  ہے۔؛اسی لئے اگر وہ ایسے ماحول میں ہو جہاں قانون کی بالادستی نہ ہو یا عقل و منطق کو غیر اہم سمجھا جاتا ہو، تو مردوں کی جانب سے اسے نقصان اور مظلوم بنائے جانے کا اندیشہ زیادہ رہتا ہے کیونکہ مردوں میں جسمانی طاقت اور تشدد کرنے کی صلاحیت،خواتین سے کہیں زیادہ ہے۔حجاب اور چادر مردوں اور عورتوں کے لیے ایک  دوسرے کے حقوق کی خلاف ورزی اور ظلم کو روکنے کے لیے ایک مضبوط قلعہ ہے۔  اگر حجاب ڈیم ٹوٹ گیا اور ان کے درمیان کی خندق ختم ہوگئی تو عورت کے سر پر وہی مصیبت نازل ہوگی جس میں، آج مغربی دنیا اور مغرب کے متوالے  مغرب والے ، پھنس گئے ہیں۔ انصاف کے ساتھ بجا طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ بے پردگی اور بے حجابی کی وجہ سے جو نقصان انہوں نے اٹھایا ہے اسے کسی دوسرے نقصان سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔ اگر عورت کے اندر موجود،سجنے سنورنے کی خواہش کو لگام نہ دیا  جائے تو یہ خواہش اسے آرائشی اور چمکدار لباس پہننے اور مختلف زیورات کے  استعمال کے ساتھ مختلف قسم کی غلط حرکات پر مجبور کرے گی۔ دوسری جانب ،چمک دمک کے متلاشی، بے لگام مردوں کی خواتین کو تاڑنے  کی عادت؛ مرد اور خواتین، دونوں ہی کو، بیہودگی، ڈسپوزیبل اور بلا مقصد زندگی کی جانب دھکیل رہی ہے ،جس کا انجام سوائے گمراہ، تباہی،خاندانی نظام کے خاتمے اور سائنس، علم، اخلاقیات سے دوری کے سوا کچھ نہیں۔اسی بنا پر قرآن،آنکھوں کی پاکیزگی کی حفاظت کے بیان کے بعد کہتا ہے:

" ذلک ازکی لھم "(ترجمہ)"یہ حکم ان کے لیے بہتر اور پاکیزگی پر مبنی  ہے۔‘‘ (سورہ نور/30) اسلام کے مطابق،پردے کا فلسفہ کئی چیزیں ہوسکتی ہیں: ان میں سے کچھ کا تعلق نفسیاتی پہلو سے ہے اور کچھ کا گھریلو اور خاندانی زندگی، جبکہ کچھ دوسرے پہلو سماجی ہیں اور دیگر پہلوؤں میں خواتین کی عزت بڑھانا  اور اسے  فحاشی سے  روکنا  بھی شامل ہیں۔اسلام نے عورت کو، حجاب کی پابندی کرتے ہوئے ان تمام پہلوؤں کا خیال رکھنے کی ترغیب دی ہے تاکہ خود کو، اپنے خاندان، اور معاشرے کو نقصان نہ پہنچے۔ کیونکہ عورت جتنی مودب ، باوقار اور پاکدامن ہوگی اور  مردوں کے سامنے اپنی نمائش کرنے سے پرہیز کرے گی،اسی قدر قابل احترام قرار پائے گی۔

 

عقلی اعتبارسے ،حجاب اور پاکدامنی کا فلسفہ

 

 پردہ کی ضرورت، عقلی اعتبار سے بالکل واضح اور روشن ہے، کیونکہ ہر صاحب عقل انسان اس چیز کوبخوبی سمجھنے پر قادر ہے کہ،وہ چیز انسان کے استحکام کا باعث ہے،جو اسے انحراف، بیہودگی اور لغو امور سے حفاظت،اور اس کی عزت کا سبب بنے ۔ اور ہر وہ چیز  جو اخلاقی بے راہ روی اور عریانیت کے بھیانک نتائج پر مشتمل ہو ،وہ  قابل مذمت اور ناپسندیدہ ہے۔ پردہ،خوشگوار زندگی کے عوامل میں سے ایک ہے۔ یہ فرد اور معاشرے کی صحت اور ترقی کا سبب بنتا ہے، جبکہ عریانیت اوربے پردگی، تنزلی اور برے نتائج کا باعث بنتی ہے۔ لہذا ہم عقلی اعتبار سے اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ مردوں اور خواتین کے لیے، پردہ ایک انتہائی قابلیت کی حامل ضروری چیز ہے۔ مجموعی طور پر ہر وہ  چیز جو کسی معاشرے اور اس کے افراد کی ترقی، پیش رفت اور سلامتی کی ضامن ہو، عقل بھی اس چیز کو بہتر جانتی ہے اور اس کو انجام دینے کو ضروری امر سمجھتی ہے۔ عقل کی شاخوں میں سے  ایک خصلت "حیا" بھی ہے۔ کیونکہ یہ حیا ہی ہے جو انسان کو پردے اور پاکدامنی کی طرف دعوت دیتی ہے۔

حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں: خداوندعالم نے حضرت آدم(ع) کو وحی کی؛" میں تمہیں تین صفات میں سے ایک صفت حاصل کرنے کا اختیار دیتا ہوں، جو یہ ہیں عقل ،حیا اور دین، ان میں سے ایک صفت کو انتخاب کرو اور باقی دو کو چھوڑ دو" آدم نے عرض کی "میں نے عقل کو چن لیا" خدا نے جبرئیل کے ذریعے حیا اور دین کو پیغام دیا کہ تم دونوں عقل سے جدا ہو جاؤ اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دو۔ ان دونوں نے جبرائیل سے کہا: ہمیں خدا کی طرف سے حکم دیا گیا ہے کہ ہم عقل سے جدا نہ ہوں، جہاں بھی عقل ہوگی ہم بھی اس کے ساتھ ہوں گے۔ جبرئیل نے کہا: اسی طرح کرو

 

بے پردگی کے اجتماعی نقصانات

ناقص انداز میں حجاب کرنے کے بہت سے برے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ جن میں سے کچھ یوں ہیں:

: 1 - خاندانی نظام کا نقصان:

وہ مرد جو ایمان اور قوت ارادی کے لحاظ سے کمزور ہے اور ہر روز میک اپ کے ساتھ بنی سنوری، ہر قسم کی عورتوں کا سامنا کرتا ہے۔ اور روزانہ مختلف چہروں کا مشاہدہ کرتا ہے ،( ظاہرہے کہ ) اسکی زوجہ  کی طرف اس کی دلچسپی کم ہو جاتی ہے اور  خاندان کو نقصان پہنچنے کے اندیشے بڑھ جاتے ہیں

 2- جنسی تناؤ اور کشش میں اضافہ:

جب معاشرے میں بہت زیادہ جنسی تناؤ وجود میں آتا ہے  ہے تو مرد حضرات محض نگاہ ڈالنے پر اکتفا نہیں کرتے ہیں، اور سارے عام اصول ٹوٹ جاتے ہیں اور ناجائز جنسی تعلقات قائم ہوتے ہیں۔ یہ وہی چیز جو آج مغرب میں تباہ کن حد تک پھیل  چکی ہے،اور جس نے مغربی دنیا کو سخت چیلنجز اور ناخوشگوار مسائل میں الجھا کر رکھ دیا ہے،جیسے  ناجائز بچےوں کی پیدائش اور اسقاط حمل وغیرہ۔۔۔۔۔۔جن کے اعدادوشمار یورپین ممالک میں بہت زیادہ ہیں۔

 

3۔خاندانی نظام تشکیل دینے کی خواہش کا فقدان:

وہ افراد،جن کی  جنسی ضروریات کا ایک بڑا حصہ معاشرے میں بآسانی فراہم ہوجاتا  ہے، وہ خاندان کی تشکیل میں بہت کم  دلچسپی رکھتے ہیں۔ انہیں شادی کی خواہش نہیں رہتی اور مردوں کے نزدیک،عورت کی کشش کم ہوجاتی ہے۔اصولی اعتبار سے بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ،حجاب کا ایک فلسفہ یہ یہ بھی ہے کہ عورتوں  کی دلکشی اور ان سے دلچسپی  مردوں کے لیے باقی رہے، ورنہ مرد کبھی بھی شادی پر راضی نہیں ہوگا۔ کیونکہ جو چیز ہر جگہ میسر ہو ، تو مرد کیوں اس کے حاصل کرنے کے لئے خود کو زحمت میں ڈالیں اور شادی کریں۔

4- خواتین کے خلاف تشدد کے اعداد و شمارمیں اضافہ؛

اگر معاشرے سے  حجاب کو ہٹا دیا جائے تو خواتین پر تشدد کی تعداد میں اضافہ ہو گا اور آج مغرب میں جنسی ہراسانی اور خواتین پر تشدد کا مسئلہ، بے پناہ اضافے کے ساتھ گھمبیر صورتحال سے دوچار ہے ۔

 

 حجاب اور پاکدامنی کے معاشرے پر اثرات

پردہ کرنے اور حجاب اور پاکدامنی کی تہذیب پر توجہ دینے سے  معاشرے کی سطح پر بہت سے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں، جن  میں سب سے اہم یہ ہیں :

 1-خاندانی بندھن میں استحکام:

ہر وہ چیز جو خاندانی بندھن کو مضبوط کرے اور ازدواجی رشتے کی قربت کا سبب بنے،  وہ خاندانی مرکز کے لیے مفید واقع ہوتی ہے۔ اور اس کی فراہمی کے لیے زیادہ سے زیادہ کوششیں کی جانی چاہئیں۔ جبکہ  اس کے برعکس، کوئی بھی ایسی چیز جو ازدواجی جوڑے کے تعلقات کو کمزور کرنے اور ان کی حوصلہ شکنی کا سبب بنے وہ  خاندانی زندگی کے لیے نقصان دہ ہے اور اس اے مقابلہ کرنا چاہیے۔ پردے کا خیال رکھنا، میاں بیوی کی زندگی  اور  خاندان میں محبت کا باعث  ہے۔ پردے اور حجاب کی پابندی کی نوعیت کچھ اس طرح کی ہے کہ  اجنبی لوگوں کو،شوہر اور بیوی کی خصوصی زندگی اور صحت مند تعلقات میں مداخلت کی اجازت نہیں مل پاتی ہے۔ لہذا، خاندانی بنیاد کے استحکام اور پاکیزہ اور پرسکون نسل کی پیدائش، کی ضمانت اسلامی تعلیمات پر مبنی حجاب کا خیال رکھنے میں ہے۔

2- اجتماعی استحکام:

عورت کی طاقت کو مفلوج کرنے اور اس کی صلاحیتوں کو قید کرنے کا سبب عورت کا اس طرح حجاب کرنا ہے،جو  اسے ثقافتی، سماجی اور اقتصادی سرگرمیوں سے محروم کردے ۔جبکہ  اسلام میں ایسا کوئی طریقہ سے سے موجود ہی نہیں ہے ۔ اسلام یہ نہیں کہتا کہ عورت گھر سے باہر نہ نکلے، اور نہ ہی یہ کہتا ہے کہ اسے تعلیم حاصل کرنے کا حق نہیں، بلکہ علم کے حصول کو ، مردوں اور عورتوں کا مشترکہ فرض سمجھتا ہے، اور  خواتین کے لیے کسی مخصوص معاشی سرگرمی کو ممنوع قرار نہیں دیتا ہے ۔ اسلام  کبھی نہیں چاہتا کہ عورت بیکار  فضول  بن کر بیٹھی رہے اور غیر فعال رہ کر بوجھ نظر آئے ۔چہرے اور ہتھیلیوں کے علاوہ باقی  جسم کو ڈھانپنے سے کسی؛ ثقافتی، سماجی یا اقتصادی سرگرمی میں رکاوٹ پیدا نہیں ہوتی۔ جو چیز معاشرے کے مفلوج ہونے کا سبب بنتی  ہے وہ کام کے ماحول کو جنسی لذتوں سے آلودہ کرنا ہے۔ خدا سورہ مومن  کی آیت 19 میں فرماتا ہے :" خدا ان آنکھوں کو جو خیانت کرتی ہیں اور جو کچھ سینوں میں چھپا ہوا ہے اس کو جانتا ہے۔"

3۔خواتین کی عزت و آبرو کا تحفظ:

عورت حقوق اور انسانی شخصیت کے لحاظ سے مرد کے برابر ہے اور اس کی عزت اور وقار یہ ہے ایک معزز شخص کی مانند اس کی طرف دیکھا جائے ۔ نہ کہ ایک جنسی آلے اور اشتھاراتی سامان، کمرے کی سجاوٹ کا ذریعہ یا  سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا ایک عنصر، وغیرہ۔جس معاشرے میں حجاب کے قانون کے فقدان کی بنا پر  عورت کی شخصیت کو گڑیا یا کم قیمت شے  کی طرح گھٹا دیا جاتا ہے  وہاں اس کی روحانی قدریں بالکل فراموش ہوجاتی ہیں۔ ایسے معاشرے میں کیسے عورت اپنی شناخت کا احساس کر سکتی ہے اور اپنے انسانی کردار کو مجرموں کے نقصان سے بچا سکتی ہے؟!ایسے معاشروں میں اس کے سوائے کیا  ہوسکتا ہے کہ اپنی  عزت نفس پر توجہ نہ دینا،اور خود اعتمادی کی کمی ،انسان کو آلودگی اور خالی زندگی کی طرف لے جاتا ہے؟ اس لیے ہمیں تمام برے نتائج سے سبق حاصل کرنا چاہیے جیسا کہ امیر المومنین علی علیہ السلام نے فرمایا: " جسے اسکے  عزت نفس اورانسانی وقار نے مضبوط نہیں بنایا، اسے   توہین اور بے کار زندگی،ادب کا سبق پڑھا دے گی "

4- خاندانی اور ازدواجی تعلقات میں گرمجوشی:

عورت جتنی پاک دامن رہ کر  معاشرے میں عمل کرتی ہے اورخود کو  اجنبی مردوں کی دسترس سے بچاتی ہے۔ اتنا ہی اسکی شادی شدہ زندگی زیادہ کامیاب ہوتی ہے اور ایسی عورت کی موجودگی سے مرد، زیادہ خوش اور خرم  رہتا  ہے۔ بے پردگی، ازدواجی تعلق میں سرد مہری اور خشکی پیدا کرتی ہے۔وہ  غیر شادی شدہ لڑکیاں جومسلسل نامحرموں کی نظروں میں رہتی ہیں،وہ  شادی کے بعد اپنے شوہر کے  ساتھ کامیاب ازدواجی تعلقات کی حامل  نہیں ہوں  گی۔ یہ صورتحال نہ صرف روحانی اور  نفسیاتی بلکہ جسمانی اثرات کا بھی باعث ہے ۔

5-خواتین میں گرمجوشی پر مبنی، پائیدار ممتا  کا جذبہ:

آج مغربی دنیا زچگی کے منصب سے مستعفی ہو چکی ہے اور جس کی وجہ سے ماں اور بچے دونوں ہی مشکل سے دوچار  ہیں۔ حجاب عورت کے اندر ممتا کے جذبات اور ماں کے مقام کی حیثیت کو کھونے سے روکتا ہے اور باعث بنتا ہے کہ خاندان،گھریلو خوشیوں سے لطف اندوز ہوتا رہے۔ جس کے نتیجے میں ماں کی گرمجوشی اور خوش مزاجی نسل کی ذہنی صحت کو برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔