وراثت کے حصہ کے بارے میں عمومیات
( الف) وراثت کے حصوں میں فرق کا کوئی قدری پہلو نہیں ہے، اور عورت کے مقابلے میں مرد کے حق وراثت دوگنا ہونے کا مطلب ھرگز یہ نہیں ہے کہ مردوں کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ جس طرح وراثت میں بیٹی کا زیادہ حصہ ہونے کے یہ معنی نہیں ہےکہ اسے باپ سے زیادہ اہمیت حاصل ہے اور یہی صورتحال اس کے برعکس ہے۔
ب) وراثت میں حصوں کی تقسیم کی بنیاد، ہر فرد کے حقوق اور ذمہ داریوں میں توازن اور تعادل کے مطابق ہے۔ اس نکتے پر توجہ دینے سے اس تقسیم میں زیادتی کے تصور اور امتیازی سلوک کا وہم دور ہو جاتا ہے۔اگر وراثت کے مسئلے کو؛ خاندانی حقوق کی ایک شاخ اور معاشرتی نظام سے مربوط ایک عنصر کے طور پر مدنظر رکھا جائے،جس میں مادی اور روحانی دونوں پہلوؤں پر توجہ ہے ،اس کے ساتھ معاشی اعتبارسے، عورت اور مرد کی خاندان اور معاشرے میں یکسر مختلف ذمہ داریوں کا موازنہ کیا جائے،تو بخوبی یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اس تقسیم میں نہ صرف خواتین پر ظلم نہیں کیا گیا، بلکہ اس کے انفرادی، نفسیاتی اور معاشرتی مفادات کو بھی بہترین انداز میں مدنظر رکھا گیا ہے۔
(ج) اگرچہ اس تقسیم کی ظاہری صورت یہ ہے کہ بعض صورتوں میں مرد کو وراثت سے دوگنے معاشی فوائد حاصل ہوتے ہیں، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ کیونکہ اس تقسیم کا نتیجہ یہ ہے کہ ’’ملکیت پر قبضے‘‘ کے مرحلے میں مرد دوگنی رقم کا مالک بن جاتا ہے۔ مگر "کھپت اور استعمال" کے مرحلے میں عورت تقریباً مرد سے کہیں زیادہ فائدہ اٹھاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ،عورت اپنا حصہ اور جائیداد اپنے لیے محفوظ رکھتی ہے اوراس پر(کسی دوسرے شخص پر)خرچ کرنے کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے، لیکن مرد کا حصہ،غالبا عملی طور پر، اپنے خاندان کی معاشی ضروریات اور اخراجات پورا کرنے میں خرچ ہوتا ہے ،
(د)غالبا مرد ذاتی طور پر ،خواتین سے زیادہ بہتر طریقے سے اپنے سرمائے کو،معاشرے کی معیشت کے چرخے میں چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اس طرح وہ معاشی جمود کو دور کرتے ہیں اور معاشرے کی معیشت کی ترقی اور ترقی کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ وراثت ایک قسم کا مالی فائدہ ہے اور یہ توقع کی جاتی ہے کہ جو رقم وراثت کے طور پر لوگوں کے پاس آئے گی وہ پیداواری صلاحیت کی حامل ہوکر معیشت کے چکر میں گردش کرے گی، وراثت کے اکثر معاملات میں مرد اور عورت کی نفسیات کو مدنظر رکھتے ہوئے، زیادہ حصہ مرد کو جاتا ہے اور پیداوار کے لیے زیادہ سرمایہ مرد کے حصے میں آتا ہے۔مرد سے یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ اپنے سرمائے کو پیداواری شعبوں میں کام میں لائے اور اپنے خاندان کے مالی اخراجات پوری کرنے کی ذمہ داری بھی مرد پر ہی عائد ہوتی ہے۔ اس لیے مرد معاشی سرگرمیوں اور معاملات سے نمٹتا ہے اور عورت گھریلو امور کے انتظام اور بچوں کی پرورش کو ترجیح دیتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ خواتین کسے باہر کام کرنے اور معاشی سرگرمیاں انجام دینے کی توقع نہیں کی جاتی ہے۔
مرد اور عورت کی وراثت
فقہ میں ہر رشتہ دار کی وراثت کی مقدار کا تعین، مرحوم سے قربت اور درجہ بندی کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، اوراگر قریبی رشتہ دار موجود ہو تو دور کے رشتے دار کی باری نہیں آتی۔ ان اصولوں کے مطابق میاں بیوی ہمیشہ ایک دوسرے کی وراثت کے حقدار ٹھرتے ہیں۔ خونی رشتہ داروں میں تین درجے ہوتے ہیں۔ پہلے طبقے میں مرحوم کے والدین اور ان کے بچے (اور مرحوم کے بچوں کی غیر موجودگی میں پوتے اور نواسے ) ،دوسرے طبقے میں مرحوم کے آباؤ اجداد اور اس کے بھائی اور بہن (اور بھائی، بہن کی غیر موجودگی میں بھانجے اور بھتیجے ) شامل ہیں۔ تیسرے طبقے میں چچا اور پھوپھی، ماموں اور خالہ شامل ہیں اور اگر وہ موجود نہیں ہیں تو ان کے بچے شامل ہوں گے۔
مندرجہ بالا باتوں پر غور کرتے ہوئے، جب تک مرحوم کےپہلے طبقے کا وارث موجود ہوتو اگلے طبقے کے وارث کی باری نہیں آتی۔ مثال کے طور پر جب تک مرحوم کے بچے موجود ہیں، اس کے بھائی بہن کی باری نہیں آتی ہے۔ خاندان میں عورت کو کبھی ماں،کبھی اولاد، کبھی زوجہ اور کبھی بہن کے طور پر وراثت ملتی ہے۔ زیادہ ترمواقع پر عورت کا حصہ مرد کا نصف ہے، لیکن بعض صورتوں میں یہ برابر یا اس سے بھی زیادہ ہے۔
زیادہ تر مواقعوں میں، وراثت کا پہلا طبقہ موجود ہوتا ہے اور دیگر طبقات کی باری نہیں آتی ہے۔ پہلی طبقے میں مرحوم کے بیٹوں کو اس کی بیٹیوں سے دگنا حصہ ملتا ہے۔ زیادہ تر خاندان، میاں بیوی اور بچوں پر مشتمل ہوتے ہیں اور اکثر میاں یا بیوی مر جاتے ہیں، بچے زندہ ہوتے ہیں ۔ اور یہ بچے، بیوی، اور بعض اوقات والدین (خاص طور پر جہاں ایک نوجوان فوت ہو جاتا ہے) موجود ہوتے ہیں جو زندہ ہونے کے باعث وراثت میں حصہ دار قرار پاتے ہیں۔اسی لیے اکثر بہن بھائیوں یا مادری بہن بھائیوں کی باری نہیں آتیہی اسی لیے، "لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ " کے مصادیق کا غلبہ رہتا ہے۔ اگرچہ ماں باپ کی موجودگی میں بچے کا مرنا،نادر موارد میں سے ہے، لیکن اس کے باوجود اگر مرحوم کا والدین کے علاوہ کوئی بچہ بھی موجود ہو تو والدین کا حصہ چھٹا حصہ دیا جاتا ہے ہے، یعنی ان دونوں کا حصہ برابر ہے۔ یہاں اس وجہ سے والدین کو وراثت میں برابر کا حصہ ملتا ہے کیونکہ وہ اکثر بوڑھے ہوتے ہیں اور اول یہ کہ ان کے پاس اخراجات زیادہ نہیں ہوتے ہیں۔ دوسرے یہ ہے کہ اب باپ بچوں کے اخراجات کا ذمہ دار نہیں ہوتا ہے اور اس نے اپنی بیوی کا حق مہر بھی ادا کر دیا ہوتا ہے یا اتنے سال کام کرنے کے بعد گھر یااس طرح کی کوئی چیز موجود ہوتی ہے کہ جس سے وہ اپنی زوجہ کا حق مہر ادا کرنے پر قادر ہو ۔ دوسری طرف اب وہ طاقت فرسا کام، یا معاشی پیداواری صلاحیت کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے لہذا، والدین کے لیے دہری وراثت کی معاشی حکمت اب ان پر صادق نہ انے کی وجہ سے لاگو نہیں ہوتی۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا کہ بعض صورتوں میں عورت کی وراثت نہ صرف مرد کی آدھی نہیں ہوتی ہے بلکہ بعض اوقات برابر اور بعض اوقات مرد کی نسبت دوگنی بھی ہوا کرتی ہے۔ مساوی وہاں ہے جہاں مرحوم کے پسماندگان میں والد، والدہ اور دو بیٹیاں موجود ہیں۔ یہاں باپ کو چھٹا حصہ، ماں کو چھٹا حصہ اور بیٹیوں کو ایک تہائی حصہ ملے گا۔ وہ جگہ جہاں عورت کو مرد سے زیادہ وراثت ملتی ہے،وہاں ہے ،جہاں وارث والدین اور شوہر ہوتے ہیں۔ ماں کو ایک تہائی جبکہ باپ کو چھٹا حصہ ملتا ہے اور نصف حصہ شوہر کو جاتا ہے۔ پس یہاں ماں کو باپ سے دوگنی وراثت ملی ہے۔ مرد کو عورت سے دوگنی وراثت وہاں ملتی ہے، جہاں مرحوم کے لڑکے اور لڑکیوں سمیت کئی اولادیں ہیں تو بیٹا بیٹی سے دگنی وراثت پائے گا۔
- وہ صورتیں جن میں مرد اور عورت کا حصہ یکساں ہوتاہے :
مرحوم کے والدین: اگر مرحوم کی کوئی اولاد موجود ہو تو اس کے والدین کے حصے یکساں ہوں گے اور ان میں سے ہر ایک کے حصے میں وراثت کا چھٹا حصہ آئے گا۔
مرحوم کے مادری بھائی اور بہنیں، یکساں طور پر وراثت میں حصہ دار ہوں گے، مختلف مقدار میں نہیں۔ یعنی مرحوم کی مادری بہن کو اتنا ہی میراث ملتی ہے جتنا کہ مرحوم کے مادری بھائی کو ملتی ہے۔
- وہ صورتیں جن میں عورت کا حصہ مرد سے زیادہ ہوتا ہے:
وہ صورت جہاں مرحوم کے ورثاء میں صرف باپ اور بیٹی موجود ہوں تو وہاں وراثت کا چھٹا حصہ باپ کو ملتا ہے اور باقی ساری وراثت بیٹی کو ملتی ہے۔
اگر مرحوم کے وارث صرف پوتے اور نواسے ہوں تو یہاں پوتی کو وراثت میں اتنا حصہ ملتا ہے جتنا ایک لڑکے کا حصہ ہوتا ہے اور نواسے کو اتنا حصہ ملتا ہے جتنا ایک لڑکی کا حصہ ہوتا ہے۔ ایسی صورتحال میں لڑکی ،لڑکے کے مقابلے میں دوگنا حصہ حاصل کرتی ہے۔لہذا خواتین کو ملنے والی میراث ہمیشہ مردوں کے مقابلے میں کم نہیں ہوتی ہے۔
میراث کی تقسیم میں مرد اور عورت کے فرق کی اہم حکمتیں:
(الف) حق مہر، کفالت اور جہیز کے مالی بوجھ کا معاوضہ
وراثت میں عورت کا حصہ، مرد کا آدھا ہونے کی سب سے اہم وجہ، نان و نفقہ اور حق مہر جیسے امور میں عورت کا خصوصی حیثیت کا حامل ہونا ہے۔جیسا کہ شہید مطہری کہتے ہیں: ’’کیونکہ اسلام حق مہر اور نان و نفقہ کو ضروری سمجھتا ہے، اسی وجہ سے اخراجات زندگی میں، عورت پر سے اس بوجھ کو ہٹا کر مرد پر ڈال دیا گیا ہے۔ اسلام؛ اس بوجھ کی تلافی وراثت کے ذریعے کرنا چاہتا ہے۔لہٰذا اس نے مرد کے لیے، عورت کے مقابلے میں، وراثت کا حصہ دوگنا قرار دیا ہے۔ پس یہ حق مہر اورنان و نفقہ ہے جس نے عورت کے وراثت میں حصہ کو کم کر دیا ہے۔"
ہو سکتا ہے اعتراض کیا جائے کہ اسلام وراثت میں عورتوں کا حصہ کیوں کم کرتا ہے تاکہ اس کی تلافی حق مہر اور نان و نفقہ سے ہو؟ وہ مغربی دنیا میں رائج قوانین کی طرح انہیں شروع ہی سے وراثت میں برابر کا حصہ کیوں نہیں دیتا اور مرد کے کندھوں سے حق مہر اور کفالت کی ذمہ داری کیوں نہیں ہٹا دیتا ؟
اس سوال کے جواب میں شہید مطہری کہتے ہیں: ’’سب سے پہلے تو یہ ماؤں سے زیادہ مہربان بنے والے لوگ، یہ جان لیں کہ انھوں نے خالق کو مخلوق اور مخلوق کو خالق سمجھ لیا ہے ( اور مغالطےکا شکارہوئے ہیں)۔ انہوں نے یہ تصور کیا ہے کہ حق مہر اور کفالت کا حق ،وراثت میں عورت کی حیثیت کے نتیجہ میں ملا ہے، وہ اس بات سے بے خبر ہیں کہ وراثت میں عورت کی خصوصی حیثیت، حق مہر اور حق کفالت کے نتیجہ میں وجود میں آئی ہے۔ دوسری بات یہ کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہاں جو کچھ اہم ہے وہ صرف مالی اور معاشی پہلو ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر صرف مالی اور اقتصادی پہلو ہی مدنظر رکھنا ہوتا تو حق مہر اورنان و نفقہ کو قرار ہی نہ دیا جاتا اور نہ ہی مرد اور عورت کے وراثت میں فرق رکھا جاتا ۔ (حق کفالت) نان و نففہ اور حق مہر کی ضرورت کے بارے میں اسلام نے بہت سے پہلوؤں کو مدنظر رکھا ہے جن میں کچھ فطری اور کچھ نفسیاتی ہیں۔ایک طرف عورت کی بہت سی ضرورتیں اور پریشانیاں جن کا تعلق نسل کی پیدائش سے ہے ، اور مرد ان سب مسائل سے آزاد ہے، تو دوسری طرف، دولت اور روزگار کے حصول، میں عورت کا مردوں سے کم طاقت کا حامل ہونا اور تیسری طرف، عورت کا مال کو مرد سے زیادہ ضائع ہونے کا اندیشہ رہتا ہے ۔ اس کے علاوہ مردوں اور عورتوں کے درمیان مخصوص ذہنی اور نفسیاتی فرق، دوسرے لفظوں میں، مرد اور عورت کی علم نفسیات کے اعتبار سے تفریق اور یہ حقیقت کہ مرد کو ہمیشہ عورت کے لیے خرچ کرنے والا ہونا چاہیے، اور بالآخر وہ ، حتمی نفسیاتی اور سماجی خصوصیات جن کے سبب خاندانی بندھن مضبوط رہتا ہے ، اسلام ان سب پہلوؤں کو مدنظر رکھتا ہے اور ان پہلوؤں کی بنا پر حق مہر اور حق کفالت کو( عورت کے لئے )ضروری سمجھتا ہے۔ یہ وہ ضروری اور لازمی امور ہیں جو بالواسطہ طور پر، مرد کے بجٹ پر بوجھ ڈالتے ہیں۔ اسی لیے اسلام نے حکم دیا ہے کہ مرد کو عورت کی وراثت سے دوگنا حصہ ملنا چاہیے تاکہ مرد پر ڈالے گئے بوجھ کی تلافی ہو سکے۔ لہذا صرف مالی اور معاشی پہلو ہی مدنظر نہیں ہے کہ یہ کہا جا سکے کہ کیا ضرورت ہے کہ عورت کا حصہ ایک جگہ سے کاٹ کر دوسری جگہ اس کی تلافی کردی جائے"
(ب)کچھ سماجی ذمہ داریوں اور جرموں کی تلافی:
حق مہر اور نان و نفقہ کے علاوہ بھی کچھ سماجی اور خاندانی فرائض ،کا ایک سلسلہ ہے،جو مرد حضرات کے لئے بلاواسطہ یا بالواسطہ بعض معاشی اور مادی بوجھ کا باعث بنتے ہیں، جبکہ ان سماجی فرائض سے عورتیں بھی مستفید ہوتی ہیں۔ عورت کے مقابلے میں مرد کا، وراثت میں دوگنا حصہ، بعض مسائل کے وجود میں آنے کی صورت میں، مردوں پر اس مالی بوجھ کی تلافی کا باعث بنتا ہے۔مثال کے طور پر، جہاد اور دشمن سے لڑنا ہمیشہ سے مردوں پر فرض رہا ہے۔اس فریضہ کی ادائیگی کے وقت، مردوں کے لئے اقتصادی اور مالی طور پر، روزگار فراہم کرنے کا امکان نہیں رہتا ہے بلکہ یہ صورتحال مزید اخراجات کو وجود میں لاتی ہے۔(جیسا کہ زخموں کے علاج،یا اعضاءبدن میں کمی کے اخراجات وغیرہ) جبکہ خواتین سماجی تحفظ سے لطف اندوز ہوتی ہیں اور اس کی انہیں کوئی قیمت بھی ادا نہیں کرنی پڑتی یہاں تک کہ موجودہ دور میں بھی (ایران میں) مردوں کے لئے لازمی ہے کہ وہ اپنی زندگی کے 2 بہترین سال فوجی ٹریننگ میں گزاریں۔وہ وقت جو پیسہ کمانے اور اپنے کیرئیر اور مالی مستقبل کی تشکیل کے لئے بہترین موقع سمجھا جاتا ہےجب کہ ان ہی ایام کے دوران،خواتین ذہنی سکون واطمینان کے ساتھ کما سکتی ہیں یا گھریلو زندگی بھی شروع کر سکتی ہیں۔ اس اعتبار سے مردوں کی وراثت میں دوگنا حصہ اس معاشی خلا کو اچھے طریقے سے بھر سکتا ہے۔
(ج)لڑکوں کی معاشی معاونت اور کوششوں کا معاوضہ:
عام طور پر، بیٹوں کو خاندان کے معاشی نظام کے فریم ورک میں خاندان کی زندگی کے شروع سے آخر تک رکھا جاتا ہے اور وہ سربراہ کے معاشی کاموں کو آگے بڑھانے میں مؤثر طریقے سے شامل ہوتے ہیں۔ خاندان، خاص طور پر والدین کے بڑھاپے اور بے بسی کے زمانے میں، ان کی نگہداشت اور روحانی سرپرستی، دراصل خاندان کے لڑکوں(مرد) کی ذمہ داری ہوتی ہے، جبکہ خاندان کی بیٹیوں کا نہ صرف خاندان کی معیشت، میں کوئی کردار ہوتا ہے بلکہ ان کے جہیز اور شادی کے اخراجات کا مالی بوجھ اٹھائے جانے کے بعد، وہ کسی دوسرے مرد کی معاشی کفالت میں خاندان کے دائرہ کار سے باہر نکل جاتی ہیں اور وہ والدین یا خاندان کے دیگر افراد کی کفالت کا شاذونادر ہی بوجھ اٹھاتی ہیں۔ کیونکہ عموماً یہ ذمہ داریاں زوجہ کے فرائض سے متصادم ہوتی ہیں۔ یہاں لڑکوں کا وراثت میں دوگنا حصہ کرنا، درحقیقت والدین کی خدمت اور نگہداشت کے زیادہ موثر تعاون کی،نفسیاتی اور معشی ترغیب و تلافی ہے۔
(د) وراثت کے طریقہ کار کے،خاندانی نظام کے استحکام پر اثرات
سابقہ نتائج کے علاوہ، جن میں سے ہر ایک آئیڈیل خاندانی نظام کی ساخت پر زور دیتا ہے، وراثت کی تقسیم کا موجودہ طریقہ کار خاندانی نظام کی بنیادوں پر مثبت اثر ڈالتا ہے۔ جیسا کہ معاشی انتظامات اور گھر سے باہر کے انتظامی امور میں مردوں کی سرپرستی کے متعلق گفتگو میں کہا گیا، خاندانی نظام کے ترقی پسند اور مثبت نکات میں سے ایک مرد کے انتظامی کردار کی پرزور تاکید ہے۔ اس کردار کو عملی میدان میں پورا کرنے کے لیے مردوں کی معاشی مدد، ایک اہم ترین جز ہے، جیسا کہ سورہ نساء کی آیت نمبر 34 نے مرد کے سپرست ہونے کو اس بنیاد کے تابع قرار دیا ہے۔
"الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَی النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ الله بَعْضَهُمْ عَلَیٰ بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ "
(ترجمہ)"مرد عورتوں پر حاکم ہیں اس لئے کہ اللہ نے بعض کو بعض سے افضل بنایا ہے اور اس لئے بھی کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں"
بلاشبہ، وراثت کے معاملے میں عورت پر مرد کو معاشی برتری،مرد کی اقتصادی میدان میں سربراہی اور خاندانی اور معاشرتی زندگی میں تمام افراد کے مفادات کے حصول کی راہ ھموار کرتی ہے۔
(ھ)خدائی احکام میں موجود حکمتوں اور مصلحتوں پر یقین اور اسے عبادت سمجھ کر قبول کرنا
دینی احکامات،وہ نسخے ہیں جو خدا نے انبیاء کو بھیجے ہیں تاکہ ہم انسانوں کی سعادت اور خوشنصیبی کو یقینی بنایا جاسکے۔ اگر ہم اس کے معتقد ہوں کہ یہ احکامات خدا کے لامحدود علم کے ذریعے بیان ہوئے ہیں اورخدا کوئی فضول اور لغو کام نہیں کرتا ہے، تو ہمیں یقین ہوجائے گا کہ اسلام کے احکام ہمارے لیے فائدہ مند ہوں گے۔ یقیناً اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ احکامات کے فلسفے پر سوال نہ اٹھائے جائیں، کیونکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام کے اصولوں کی بنیاد انسانی مفادات پر رکھی گئی ہے حالانکہ ہم محدود انسانی علم کی وجہ سے اسلام کے بعض احکامات کے فلسفے کو نہیں سمجھ سکتے ہیں۔ امام علی علیہ السلام نھج البلاغہ میں فرماتے ہیں:خدا اپنے بندوں کو مختلف مشکلات سے آزماتا ہے اور ان سے مختلف کوششوں کے ساتھ عبادت اور بندگی کا مطالبہ کرتا ہے۔ وہ بندوں کو ایسے طریقوں سے آزماتا ہے جو انسانی طبعیت کے لیے قابل پسند نہیں ہوتے ہیں۔ تاکہ ان کے دلوں سے غرور،خودخواہی کو دور کرنے اور ان کی روحوں میں عاجزی کو جگہ دینے کے اسباب فراہم ہو سکیں ... اب کیا خدا کے بندے ہونے کے ناطے ہمیں خدا کا حکم صرف اسی وقت ماننا چاہیے جب ہم اس کی وجہ اور فلسفہ کو سمجھیں اور اگر ہمیں اس کی وجہ کا علم نہ ہو،تو کیا ہم اس کو ماننے سے انکار کردیں؟یقینا ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے اور اگر کوئی اپنی مذھبی زندگی میں ایسا ہے تو وہ واقعی اسلام کی حقانیت سے میلوں دور ہے۔ کیونکہ اسلام کا جوہر، خدا کی مرضی کے سامنے مکمل سر تسلیم خم کرنا ہے۔ خدا سورہ نساء کی آیت نمبر 13 اور 14 میں وراثت کے بعض احکام بیان کرنے اور اس کی بعض تقسیموں کا ذکر کرنے کے بعد فرماتا ہے : "تلک حدود اللہ" یہ خدا کی حدود و قیود ہیں، اور اس بات کو مضبوطی سے بیان کرتا ہے کہ خدا، اس کے رسول اور ان کے احکام کی اطاعت، کامیابی اور نجات اور جنت میں داخلہ کا باعث ہے اور ان کی نافرمانی جھنم کی آگ اور ذلت آمیز عذاب کا سبب بنتی ہے۔