id: 16619
1402/3/30 17:41

اسلام میں عورتوں اور مردوں کے درمیان دیت (قانون خون بہا )کی تفریق کی وجوہات

دیت، کسی انسان کی قیمت اور قدر کی علامت نہیں ہے، کیونکہ انسان کی ذاتی قدروقیمت کہیں زیادہ  ہے اور اسے کسی مال سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اسے کسی مال سے پیمائش کی جا سکتی ہے۔ دیت کے قانون کو جانی نقصان کے ازالے کے لئے، معاشی پہلو کو مدنظر رکھ کر بنایا گیا ہے۔مزید وضاحت یہ کہ انسان  کئی جہتوں کے مالک ہیں، جو مندرجہ ذیل ہیں:

1-انسانی اورخدائی جہت

2- علم و دانش پسندی کی جہت

3-جسمانی اور مادی جہت، صرف جسمانی اور مادی جہت سے مرد اور عورت کے درمیان فرق ہے،جبکہ پہلی اور دوسری جہت کے اعتبار سے عورتوں اور مردوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔

جسمانی اور مادی جہت کے اعتبارسے: اس جہت میں مرد اور عورت کے درمیان فرق ہے۔ یہ تفریق، دونوں جنسوں (مرد اور عورت) میں سے ہر ایک  کے لئے،ذاتی حالات کے مطابق ذمہ داریاں قبول کرنے کا سبب بنتی  ہے۔اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلام نے خاندان کی معاشی ذمہ داریاں مرد کے کندھوں پر ڈالی ہیں اور یہ ذمہ داریاں عورت کے بجائے مرد پر عائد کی ہیں۔ اور عورتیں بھی کبھی یہ نہیں کہتیں کہ یہ ذمہ داری ہمیں کیوں نہیں سونپی گئی ہے۔مرد حضرات، خواتین کے برعکس خاص جسمانی اور ذہنی طاقت و قوت کے مالک ہوتے ہیں، جبکہ خواتین میں جذبات ومیلانات کا غلبہ ہوتا ہے۔یہی سبب ہے کہ زیادہ مشکل کام کی ذمہ داری مردوں پر رکھی گئی ہے۔جیسے خوراک، لباس، مکان اور دیگر ضروریات زندگی فراہمی کے لیے کام اور محنت کرنا،گھر اور خاندان کے تحفظ اور نگہداشت اور غیروں کی مداخلت کے خلاف دفاع کے علاوہ، معاشرے میں سیکیورٹی اور حفاظت عامہ کی برقراری،انتظامی امور کی سربراہی اور سماجی میں امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنانا وغیرہ وہ سخت امور ہیں جو مرد کی قوت کے مطابق اس  کے کندھوں پر ڈالے گئے ہیں۔عورت کو بھی اس کی قوت کے پیش نظر مناسب فرائض دیئے گئے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ مرد ،(اسلام کی جانب سے دی گئی ذمہ داریوں کے عین مطابق) خاندان کی معیشت میں زیادہ کردار ادا کرتے ہیں۔یہی سبب ہے کہ ان کی موت سے خاندان پر زیادہ معاشی اثر پڑتا ہے۔ اسی لیے چونکہ مرد اور عورت جسمانی طاقت کے اعتبار سے مختلف ہوتے ہیں، لہٰذا یہ تفریق، معاشی معاملات میں بھی دونوں کے کردار میں فرق کا سبب بنتی ہے، اور اسی کے مطابق وہ مخصوص ذمہ داریوں اور فرائض کے حامل جانے جاتے ہیں۔پس ان کے درمیان فرق کسی کمی یا کمال کی بنیاد پر نہیں ہے بلکہ تناسب کی بنیاد پر ہے۔

نتیجہ:

چونکہ، معاشی ذمہ داریوں جیسے: معاشی کفالت ، حق مہر، اور دیت کی ادائیگی جیسے معاملات، مذھب اسلام میں مردوں کے ذمے ہیں، اور خاندان کے مرد کے وفات پا جانے سے خاندان کے ارکان (بیوی اور بچوں)کو معاشی نقصان کا سامنا ہوتا ہے، لہذا اس نقصان کی کمی لانے اور تلافی کے لیے،شریعت اسلام میں دیت کو  کو دوگنا کرنے کی تجویزدی گئی ہے۔اگر ہم اس شرعی حکم میں غورکریں تو معلوم ہوگا کہ اس معاملے میں خواتین اور خاندان کی حالت کو مدنظر رکھا گیا ہے، کیونکہ مردوں کی دیت  کے دوگنا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ خاندان کے افراد(یعنی زوجہ اور بچوں)کو دگنی رقم حاصل ہوگی۔دوسری طرف عورت کے لیے نصف دیت کا مطلب ہے کہ بدلہ لینے کی صورت میں آدھی رقم ادا کرنی  ہوگی تاکہ زوجہ اور بچے(جو بدلہ کی رقم حاصل کریں گے)انہیں اس کمائی سے زندگی گزارنے کے مواقع میسر آئیں گے۔ لہٰذا اس مسئلے کو جس زاویے سے بھی دیکھا جائے،ہر جگہ عورت اور بچوں، غرض یہ کہ خاندان کے افراد کی مراعات کا خیال رکھا گیا ہے۔جبکہ اصولی اعتبار سے بعض صورتوں میں تو جن مرد اور عورتوں کی دیت کے مسئلے سے فائدہ اٹھانے کے لیے غیر ضروری موارد موجود ہی نہیں ہیں۔اس سے یہ ظاہر ہوتا ہےکہ اسلامی قوانین میں دیت کے مسئلہ کو ،مردوں اور عورتوں کے حالات اور خاندان میں ان کی ذمہ داریوں کے مطابق منظم طریقے سے بنایا گیا۔جو مکمل طور پر مصلحتوں اور حکمتوں پر مبنی ہے۔

 

اسلام میں، عورت اور مرد کی دیت میں تفریق کا قانونی اور فقہی جائزہ

 قرآن کریم تمام مسلمانوں کی مقدس کتاب ہے، جس کے انسانی کمالات کی راہ ھموار کرنے والے طریقہ کار، زندگی کے مختلف معاملات میں تمام مسلمانوں کے لیے مکمل دستور العمل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ قرآن کے تیسرے مفصل سورے کو "النساء " کہا گیا ہے اور قرآن کے دیگر  کئی سوروں میں بھی خواتین کے مقام اور ان کے متعلق مسائل بیان کئے گئے ہیں۔یہ خواتین کی عزت ہے۔ قرآن پاک میں جگہ جگہ عورتوں کو مردوں کی مانند، نصیحتوں کے دوران مخاطب کیا گیا ہے۔ قرآن کے نقطہ نظر سے مرد اور عورت کی تخلیق کا مقصد ،خدا کی عبادت اور اس کا قرب حاصل کرنا ہے۔ مردوں کی طرح عورتوں کو بھی اسی مقصد کے حصول کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ ہمارے عقیدے کے مطابق مرد اور عورت کی حقیقی تخلیق کا مطلب یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک کو اپنے اپنے کمال کے حصول کے لیے پیدا کیا گیا ہے، اور ایسا نہیں ہے کہ اصل میں مرد کا کمال تک پہنچنا مقصود ہے اور عورت کو صرف مرد کو کمال تک رسائی کا آلہ یا ذریعہ سمجھا جاتا ہو ۔سمجھا جاتا ہے۔ البتہ مرد اور عورت کی  تخلیق کی اصلیت اور حقیقی ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ وہ ایک دوسرے سے جدا اور  آزاد ہوکر اپنا کمال حاصل کر سکتے ہیں، بلکہ مرد اور عورت ایک دوسرے کو کمال تک رسائی دینے میں موثر کردار ادا کرتے ہیں اور درحقیقت ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ قرآن کی آیات کا جائزہ لینے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام نے خواتین کو ان کے حقیقی مرتبے پر فائز کیا ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ 2013 میں منظور شدہ اسلامی تعزیرات (ایران) کی دفعہ388کی بنیاد پر پہلے مرحلے میں، مرد اور عورت،اعضاء کو پہنچنے والے نقصان کے قصاص میں  برابر کے شریک ہیں۔ اور مردوں کو  عورتوں کو نقصان پہنچانے کی وجہ سے قصاص کی ادائیگی کا حکم دیا جاتا ہے سوائے اس کے کہ عورت کوضرر پہنچانے کی دیت کی مقدار  مساوی یا مکمل دیت کے ایک تہائی سے زیادہ ہو۔ قصاص کو،  مرد ممبر کے اعضاء کی دیت کے آدھی مقدار کو  ادا کرنے کے بعد انجام دیا جاتا ہے۔ اور مذکورہ قانون کے آرٹیکل 560 کی بنیاد پر، پہلے مرحلے میں، مردوں اور عورتوں کی دیت، مردوں کے اعضاء یا املاک کی مکمل مکمل دیت کے، ایک تہائی مقدار سے نیچے تک یکساں ہے اور جیسے ہی یہ ایک تہائی یا اس سے زیادہ ہوجائے تو عورت کی دیت اس مقدار سے آدھی کر دی جاتی ہے۔

قرآن مجید میں صرف سورہ نساء آیت نمبر 92 میں دیت کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے:

﴿وَ مَا کَانَ لِمُؤۡمِنٍ اَنۡ یَّقۡتُلَ مُؤۡمِنًا اِلَّا خَطَـًٔا ۚ وَ مَنۡ قَتَلَ مُؤۡمِنًا خَطَـًٔا فَتَحۡرِیۡرُ رَقَبَۃٍ مُّؤۡمِنَۃٍ وَّ دِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ اِلٰۤی اَہۡلِہٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ یَّصَّدَّقُوۡا ؕ فَاِنۡ کَانَ مِنۡ قَوۡمٍ عَدُوٍّ لَّکُمۡ وَ ہُوَ مُؤۡمِنٌ فَتَحۡرِیۡرُ رَقَبَۃٍ مُّؤۡمِنَۃٍ ؕ وَ اِنۡ کَانَ مِنۡ قَوۡمٍۭ بَیۡنَکُمۡ وَ بَیۡنَہُمۡ مِّیۡثَاقٌ فَدِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ اِلٰۤی اَہۡلِہٖ وَ تَحۡرِیۡرُ رَقَبَۃٍ مُّؤۡمِنَۃٍ ۚ فَمَنۡ لَّمۡ یَجِدۡ فَصِیَامُ شَہۡرَیۡنِ مُتَتَابِعَیۡنِ ۫ تَوۡبَۃً مِّنَ اللّٰہِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ﴾

ترجمہ :اور کسی مومن کو شایاں نہیں کہ دوسرے مومن کو مار ڈالے مگر غلطی سے ایسا کر بیٹھے۔ اور جو غلطی سے بھی مومن کو مار ڈالے تو وہ ایک تو ایک مسلمان غلام آزاد کر دے اور مقتول کے وارثوں کو خون بہا دے۔ مگر یہ کہ وہ معاف کر دیں پھر اگر مقتول تمہارے دشمنوں کی جماعت میں سے ہو اور وہ خود مومن ہو تو صرف ایک مسلمان غلام آزاد کرنا چاہیے اور اگر مقتول ایسے لوگوں میں سے ہو جن میں اور تم میں صلح کا عہد ہو تو وارثان مقتول کو خون بہا دینا اور ایک مسلمان غلام آزاد کرنا چاہیے اور جس کو یہ میّسر نہ ہو وہ متواتر دو مہینے کے روزے رکھے یہ کفارہ اللہ کی طرف سے قبول توبہ کے لئے ہے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے بڑی حکمت والا ہے۔

 قرآن کی اس آیت میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ، مسلمان شخص یا جس کا مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ ہو، اگر انجانے میں اور غلطی سے مارا جائے تو غلام کو آزاد کرنے کا کفارہ دینے کے علاوہ، مقتول کے گھر والوں کو دیت بھی ادا کی جائے۔ اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ اس  آیت کی شان نزول، ایک ایسے شخص کے بارے میں ہے، جس نے ایک ایسے مسلمان شخص کو قتل کر دیا جس کے بارے میں اس کا یہ خیال تھا کہ وہ ابھی تک کافر ہے۔ پھر جب یہ خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو  آپ پریشان ہوئے اور یہ آیت نازل ہوئی کہ دیت ادا کی جائے۔ قرآن کریم کی اس آیت میں جس دیت  کا ذکر ہے، وہ صرف غلطی سے کسی شخص کو قتل کرنے سے متعلق ہے،جسے نفس کی دیت کہا جاتا ہے۔تاہم اس آیت میں نہ تو دیت  کی مقدار کا تعین کیا گیا ہے اور نہ ہی مردوں اور عورتوں کے درمیان صراحت کے ساتھ دیت کے فرق کو بیان کیا گیا ہے۔ البتہ یہاں مذکر مقتول کے بارے میں بات کی گئی ہے"وَ مَنۡ قَتَلَ مُؤۡمِنًا" اور آیت کے شان نزول سے بھی  کسی مرد کے قتل کا اظہار ہوتا ہے۔لیکن ظاہر ہے کہ اس قسم کا اظہار سے یہ بات  ثابت نہیں ہوتی کہ  قرآن کا اطلاق صرف مردوں کے لیے ہے اور عورتوں کو اس حکم سے خارج کر دیا گیا ہے۔ ایسے خطابات میں اگرمذکر کا لفظ استعمال بھی کیا جائے تو اس سے صرف مذکر جنس، مراد نہیں ہوتی ہے، بلکہ مذکر اور مونث دونوں ہی شامل ہوتے ہیں۔مگر یہ کہ کوئی خاص قرینہ موجود ہو جو خاص جنس کی طرف اشارہ کرتا ہو اور جس سے مرد کو مخاطب قرار دیئے جانے کا اظہار ہورہا ہو۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ کرام علیہم السلام سے منقول بعض احادیث میں دیت کی مقدار بیان کی گئی ہے جبکہ بعض میں مرد کے مقابلے میں، عورت کی دیت کے آدھے ہونے کی جانب بھی اشارہ کیا گیا ہے۔کچھ اس طرح کہ بعض روایات میں مطلق انداز میں نفس انسان کے قتل کی دیت اورنیز اعضاء کی دیت اور انسان کو لگنے والے زخموں کی دیت کی ادائیگی کا ذکر ہوا ہے، اور بعض روایات میں اس کی بھی تاکید کی گئی ہے کہ عورت کے لیے، مرد کی دیت کا آدھا حصہ ہے۔ مرد کے مقابلے میں عورت کی آدھی دیت کی وجہ کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ بنیادی طور پر دیت کا مقصد، متاثرہ شخص یا اس کے خاندان کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ ہے،اور چونکہ مرد کا زندگی کے معاشی معاملات،میں زیادہ اور موثرکردار ہے۔اور مرد کے چلےجانے یا نقصان اٹھانے سے،خاندان کی مالی حیثیت کو زیادہ خسارے کا سامنا کرنا پڑتا ہے،خاص طور پر چونکہ اسلامی نظام حقوق میں خاندان کی سرپرستی اور ان کی معیشت کی ذمہ داری مردوں کے ذمے ہے،لہذا اس کی دیت کی مقدار زیادہ ہونی چاہئے۔ اس نقطہ نظر سے عورت کے مقابلے میں مرد کی  دوگنی دیت اور عورت کی  آدھی دیت کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ عورت کی قدر کم ہے بلکہ یہ فرق اس اعتبار سے ہے کہ مرد کے فوت ہونے یا ضرر پہنچنے سے حاصل ہونے والے سنگین معاشی نتائج، عورت کی نسبت کہیں زیادہ ہیں اور اب چونکہ اس نقصان کا ازالہ مالی  طور پر ہونا چاہیے اور درحقیقت ہرجانہ کو دیت کے عنوان سے ادا ہوناچاہئے، تو فطری طور پر( نقصان کی) نوعیت کے اس فرق کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ چونکہ ہمیشہ شرعی اورقانونی حکم،اکثر پیش آنے والی صورتحال کے مطابق، بنایا جاتا ہے اور مروجہ اکثر اوقات کی صورت حال یہ ہے کہ مرد ہی خاندان کے اخراجات کا ذمہ دار ہوتا ہے اور وہ ہی  معاشی اور مالی حالات میں زیادہ  موثر کردار کا حامل ہوتا ہے، لہذا دیت کے عنوان سے اسے یا اس کے اہل خانہ کو ادا کیا جانے والا خسارہ ،عورت سے زیادہ معین کیا گیا ہے۔موجودہ دور میں زیادہ تر ماہرین، مرد اور عورت کی دیت کے فرق کو ، اسی نظریہ کو مدنظر رکھتے ہوئے موازنہ کرتے ہیں اور اسے عورت کے موروثی وقار اور قدر اور مرد کے ساتھ اس کی انسانی قدر کی برابری کے خلاف یا متضاد نہیں سمجھتے ہیں ۔ چونکہ عورت کی دیت کے،مرد کے نصف ہونےکا،زیادہ فائدہ عورتوں کو ہی پہنچتا ہے۔ کیونکہ عام طور پرعورت  کی دیت اس کے شوہر اور بچوں کو دی جاتی ہے اور مرد کی دیت اس کے بیوی بچوں کو ملتی ہے اور چونکہ مرد کے فوت  ہونے سے،عورت کو زیادہ نقصان پہنچتا ہے، اس اعتبار سے  مرد کی دیت کی مقدار کو بیشتر رکھا گیا ہے تاکہ مرد کے فوت ہونے سے عورت کو پہنچنے والے خسارے کا کسی قدر ازالہ کیا جاسکے۔

 

قصاص میں تفریق :

اسلام میں  انسانوں کی اصل قدروقیمت ان کی جسمانی حیثیت کے اعتبار سے نہیں ہے، کہ جس کی بنا پر،ایسے احکام کو دیکھ کر یہ تصور کیا جائے کہ عورت کی حیثیت کو کم اہم سمجھا گیا ہے یا مرد کی، حیثیت اس سے زیادہ ہے۔ بلکہ اسلام میں( رنگ، جنس، زبان، نسل وغیرہ سے بالاترہوکر )انسان کی حقیقی قدروقیمت؛ خدا پر ایمان، عمل صالح، تقویٰ، انسانیت، اور قرب الٰہی کے اعلی درجات کے حصول وغیرہ کو قرار دیا گیا ہے۔ لہذا انسان کی قدروقیمت کو،مردوعورت کے دیت اور قصاص کے تفریق کے مسئلے میں تلاش نہ کیا جائے،کیونکہ ان اختلافی مسائل کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عورت یا مرد کی شخصیت اور ذات کی قیمت یا حیثیت مقرر کی جارہی ہے۔  جن صورتوں میں مقتول عورت  کا مرد سے قصاص لیا جانا ہے وہاں اس کی آدھی دیت، قاتل  مرد سے لے کر اس کے خاندان کو دی جاتی ہے اور اس کی غیر موجودگی سے ہونے والے نقصان کا ازالہ کیا جاتا ہے۔ اور اس کا سبب  یہ ہے کہ خاندان کے انتظام کی ذمہ داری زیادہ تر مردوں پر ہے۔ یہاں مسئلہ کی مزید وضاحت کے لئے تفسیرنمونہ کا مضمون ذکر کیا جاتا ہے : ممکن ہے بعض لوگ اعتراض کریں کہ آیاتِ قصاص میں تو حکم دیا گیا ہے کہ عورت کے قتل پر مرد کو سزا نہ دی جائے، کیا مرد کا خون عورت کے خون سے زیادہ سرخ  ہے؟ ایک مجرم مرد کو عورت کو قتل کرنے اور زمین کی نصف سے زیادہ آبادی کی حامل مخلوق کا ناحق خون بہانے کی سزا کیوں نہیں دی جانی چاہئے؟! اس اعتراض کا یہ جواب دیا جائے گا کہ : سورہ بقرہ کی آیت نمبر 178 کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ مرد سے  عورت کا قصاص نہ لیا جائے ، بلکہ جیسا کہ اسلامی فقہ میں  تفصیل سے بیان کیا گیا ہے، مقتول عورت کے وارث، مجرم مرد سے بدلہ لےسکتے ہیں،بشرطیکہ وہ دیت کا نصف حصہ ادا کریں۔ لہٰذا اگر ہم عورتوں اور مردوں کی نوعیت پر غور کریں تو ہم اس حقیقت پر پہنچیں گے کہ معاشی سرگرمیوں کے معاملات میں مرد عورتوں کے مقابلے میں زیادہ ملوث ہوتے ہیں اور ان کی معاشی حیثیت زیادہ ہوتی ہے، اورشرعی قواعد و ضوابط اور قوانین کا نفاذ ، انفرادی حیثیت کے بجائے لوگوں کی اجتماعی کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔  عورت کے قتل کے مقابلے میں مرد کے قصاص نہ کئے جانے کا مطلب غیر مشروط قصاص ہے۔ لیکن آدھی دیت دے کر اسے (قصاص) قتل کرنا جائز ہے۔ چونکہ مرد  خاندان میں اکثر ایک موثر معاشی رکن کی حیثیت رکھتے ہیں اور خاندان کے اخراجات برداشت کرتے ہیں اوراپنی معاشی سرگرمیوں سے خاندان کی زندگی کا پہیہ چلاتے  ہیں، لہٰذا معاشیات اور اقتصادی پہلوؤں کے لحاظ سے مرد اور عورت کے فوت ہونے میں فرق  کی موجودگی، کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں کہ اگر اس فرق کو مدنظر نہ رکھا جائے تو مقتول مرد کے وارثوں اور اس کے بے گناہ بچوں کو ناحق نقصان پہنچے گا، اسی  لیے اسلام نے،قصاص کے معاملے میں نصف دیت کی ادائیگی کے  قانون کے ذریعے، تمام لوگوں کے حقوق کا خیال کیا ہے اور خاندان کو پہنچنے والے  معاشی خلاء اور ناقابل معافی نقصان کی تلافی کی ہے ۔مرد اور عورت کے قصاص میں تفریق کی حکمت اور مصلحت کا تعلق، خاندان اور معاشرے میں ان کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ، مرد اور عورت کی معاشی حیثیت سے ہے، نہ کہ ان کی اصل قدروقیمت سے ۔