(الف) حق مہر یا صداق: حق مہر کی اہمیت اور حیثیت، کی وضاحت کی غرض سے، نکاح کے دوران اس کے تعین کی ضرورت،اس کی ادائیگی کی شرعی اور اخلاقی ذمہ داری،اس کے انجام دینے میں لاپرواہی کے دنیوی اور اخروی نتائج، حق مہر کو نظر انداز کرنے اور خراب کرنے سے مردوں کو روکنا، اورمشترکہ مفادات کو فروغ دینے کی غرض سے، بعض صورتوں میں عورت کو خوشی سے اسے معاف کرنے کی ترغیب دینا،جیسے موضوعات کو مختلف روایات میں بیان کیا گیا ہے۔ جس کا مقصد خاندانی مرکز کو مستحکم کرنا اور اس میں محبت اور پیارکی بنیادوں کو گہرا کرنا ہے۔مثال کے طور پر حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: "سب سے افضل شرط جس کو پورا کرنا ضروری ہے،وہ اس چیز کی ادائیگی ہے، جس کے ذریعے آپ عورتوں کو اپنے لیے حلال کرتے ہیں"۔
(ب) نان و نفقه: فقہی اصطلاحات میں اکثر نان و نفقہ کا، اس کے مصادیق کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اس موضوع پر جو علمی اختلافات موجود ہیں وہ نفقہ کے مصداق سے متعلق ہیں۔مثال کے طور پر کتاب جواہر کے مصنف، نفقہ کی تعریف کچھ اس طرح کرتے ہیں: خواتین کی وہ ضروریات؛ جن میں خوراک، لباس، مکان، خدمتگار اور کھانا پکانے کے وہ برتن، جواس شہر میں، عورت کی حیثیت کے مطابق رائج اور معمول سمجھے جاتے ہیں۔یہاں"عورت کی ضروریات" کے عنوان سے بہت سی تشریحات کی جا سکتی ہیں۔تاہم جو بات واضح ہے وہ یہ ہے کہ یہ سب عورت کی ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔ مثال کے طور پر، اگر ایک ہی وقت میں کئی نوکروں کی فراہمی کوزوجہ کی معمول کی ضروریات کا حصہ سمجھا جاتا ہے تو شوہر کی جانب سے اسے فراہم کرنا واجب ہے؛ اوراگر"تمام معمول کی ضروریات" کے زمرے میں،علاج کے اخراجات کو پورا کرنا بھی رائج ہو تو یہ بھی نان و نفقہ کا حصہ قرار پائے گا۔ البتہ علماء کے درمیان اس بات پر اختلاف رائے موجود ہے کہ مرد کے ذمہ واجب الادا ہونے کا تعلق، عورت کی جانب سے حق زوجیت کی ادائیگی یا عدم ادائیگی پر منحصر ہے یا نہیں۔ مثال کے طور پر شہید مطہری کا خیال ہے کہ خواتین میں بچوں کی پیدائش میں پیش آنے والی سختیوں،مشقتوں، مسائل اور بیماریوں سے متاثر ہونےکی بناپر،روزگار کمانے کی صلاحیت میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔لہذا قانون کے مطابق خواتین کی مالی معاونت ضروری ہے۔
یہاں اس نکتہ کی یاددھانی ضروری ہے کہ سب سے پہلے تو کفالت کی ادائیگی میں عورت کی خاندانی اور معاشرتی حیثیت عمل کی بنیاد اور معیار قرار پاتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ حق زوجیت کی ادائیگی یا عدم ادائیگی دونوں صورتوں میں، نفقہ کی ادائیگی کی ذمہ داری مرد کے ذمہ ہے۔
(ج)رہائش اورمکان کی فراہمی کا حق:چونکہ شادی شدہ جوڑے کا اکٹھے رہنا، خاندان کی تشکیل کے بنیادی ستونوں میں سے ایک ہے،لہٰذا مرد پر، اپنی زوجہ کے لیے مناسب رہائش گاہ کا فراہم کرنا واجب ہے، اور عورت پر بھی فرض ہے کہ وہ شوہر کی طرف سے فراہم کردہ مکان میں سکونت اختیار کرے۔ لہٰذا عورت کی حیثیت اور مرد کی استطاعت کو مدنظر رکھتے ہوئے عورت کی رہائش کے مقام کے تعین کا اختیار مرد کے پاس ہے۔اور یہ ذمہ داری طلاق رجعی کی عدت کے دوران بھی اسی طرح برقرار رہتی ہے۔
(د) دودھ پلانے(شیر بہا)کی وصولی کا حق: یہاں قانون کی حمایت اس طریقے سے حاصل رہتی ہے کہ دودھ جیسے قدرتی سرمائے کے بارے میں بھی، اس نے ماں کے لیے مالی حقوق متعین کیے ہیں اور کہا ہے کہ: " اگر وہ اپنے بچے کو دودھ پلانے پر راضی ہیں،تو اس کی اجرت انہیں ادا کرنا فرض ہے" ۔کیونکہ دودھ پلانے کی اجرت،دراصل بچے کا نفقہ ہے ، جو باپ کے ذمے ہے۔
(ہ)محنت کے مطابق مناسب معاوضہ کی وصولی کاحق: جسے اجرت المثل بھی کہا جاتا ہے۔یہ معمول کے مطابق اجرت ہے جو کام کرنے کے بعد، فریقین کے درمیان کسی طے شدہ معاملے کے بغیر ادا کی جاتی ہے۔ زیادہ تر لین دین میں جہاں کام یا فائدے کا استعمال غیر معمولی ہوتا ہے، وہاں مناسب معاوضے کا طریقہ کار استعمال ہوتا ہے۔ البتہ،خواتین کےگھر میں کام کرنے کی اجرت کے بارے میں فقہ میں کوئی مستقل موضوع موجود نہیں ہے، بلکہ لین دین کے سیکشن میں درج مسائل سے اس کی مماثلت کی وجہ سے ان کا حوالہ دیا جا سکتا ہے۔
ضمنی نکات:
الف - اپنی ملکیت کے استعمال کی آزادی:
فقہ میں"قاعدہ تسلیط" کی رو سے کہا جاتا ہے کہ ہر شخص کو اپنی جائیداد پر اختیار ہے اور وہ جس طرح چاہے اسے استعمال کر سکتا ہے اور دوسرے لوگ بھی اسے استعمال کرنے سے نہیں روک سکتے، سوائے ایسی صورتحال میں جہاں شرعی طور پر اسے استعمال کرنے سے منع کیا گیا ہو۔ اس قاعدے کو سورہ نساء کی آیت نمبر 29 سے لیا گیا ہے،
[ يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا لا تَأْكُلُوا أَمْوالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْباطِلِ إِلاَّ أَنْ تَكُونَ تِجارَةً عَنْ تَراضٍ مِنْكُمْ وَ لا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللهَ كانَ بِكُمْ رَحيماً ]
ترجمہ: مومنو! ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ ہاں اگر آپس کی رضامندی سے تجارت کا لین دین ہو اور اس سے مالی فائدہ حاصل ہو جائے تو وہ جائز ہے اور اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو۔ کچھ شک نہیں کہ اللہ تم پر مہربان ہے۔
اور اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ لوگوں کو اپنی ذاتی املاک اور جائیداد کے استعمال کی آزادی حاصل ہے اور اس لحاظ سے مرد اور عورت میں کوئی فرق نہیں ہے۔
ب- شادی شدہ افراد کو ذاتی مال کے استعمال کی آزادی کا نظام :
قرآن پاک میں سورہ نساء کی آیت نمبر 32 میں بتایا گیا ہے کہ ﴿ وَ لَا تَتَمَنَّوۡا مَا فَضَّلَ اللّٰہُ بِہٖ بَعۡضَکُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ ؕ لِلرِّجَالِ نَصِیۡبٌ مِّمَّا اکۡتَسَبُوۡا ؕ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیۡبٌ مِّمَّا اکۡتَسَبۡنَ ؕ وَ سۡئَلُوا اللّٰہَ مِنۡ فَضۡلِہٖ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمًا ﴾
ترجمہ:اور جس چیز میں اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اس کی تمنا مت کرو۔ مردوں کو ان کاموں کا ثواب ہے جو انہوں نے کئے۔ اور عورتوں کو ان کاموں کا ثواب ہے جو انہوں نے کئے اور اللہ سے اس کا فضل و کرم مانگتے رہو کچھ شک نہیں کہ اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ مرد اپنی کمائی سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور عورتیں اپنی کمائی سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔ یہاں لفظ "اکتساب" کا استعمال ہوا ہے جس کا مطلب ہے حاصل کرنا۔ راغب اصفہانی کے مطابق، "اکتساب" کا مطلب ہے وہ فائدہ حاصل کرنا، جسے انسان خود استعمال کرے ۔ اور اس آیت میں اپنے اختیار سے حاصل ہونے والی امدنی جیسے روزگار کمانا اور غیر اختیاری آمدنی جیسے وراثت کا ملنا ،دونوں ہی میں مرد و عورت میں کوئی فرق نہیں رکھا گیا ہے۔بلکہ اس آیت سے یہ وسیع تر مفہوم بھی حاصل کیا جا سکتا ہے جیسا کہ ایک مفسر نے اس آیت سے یہ معنی لیا ہے کہ عورتیں بھی کاروبار میں مشغول ہو سکتی ہیں اور اپنی کوششوں کے تناسب سے خدا کی نعمتوں سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔
لہٰذا، بعض تہذیبی ادوار میں خواتین کو کمتر سمجھے جانےکے برعکس،دین مبین اسلام کی نگاہ میں،خواتین کو مکمل معاشی آزادی حاصل ہے۔اور اس طرح اسلام نے خواتین کی معاشی آزادی کو تسلیم کر کے اس سلسلے میں ان کی دیرینہ محرومیوں کا خاص طور سے خاتمہ کر دیا ہے ۔
حق مہر،نان و نفقہ اور معاوضہ کے متعلق ایران کے آئین کی مختلف شقیں
شق نمبر 1078:ہر وہ چیز جس کی قدروقیمت ہو اور وہ قابل حصول ہو ،اسے حق مہر کے طور پر قرار دیا جاسکتا ہے۔
شق نمبر 1079:حق مہر کو، فریقین کے درمیان اس حد تک معلوم ہونا چاہیے کہ ان کی لاعلمی دور ہو جائے۔
شق نمبر 1080: مہر کی رقم کا تعین فریقین کی رضامندی پر منحصر ہے۔
شق نمبر 1082: نکاح ہوتے ہی زوجہ مہر کی مالک بن جاتی ہے اور وہ جس طرح چاہے اسے استعمال میں لا سکتی ہے۔
شق نمبر 1106: دائمی شادی میں بیوی کی کفالت(نان و نفقہ) شوہر کی ذمہ داری ہے۔
شق نمبر 1107: نان و نفقہ میں عورت کی حیثیت کے مطابق اور مناسب وہ تمام ضروریات؛ جن میں رہائش، لباس، کھانا، گھریلو سامان، علاج اور حفظان صحت کے اخراجات، اورعادت ہونے یانقصان اور بیماری کے خدشے کے پیش نظر خدمتگار کی سہولت کی فراہمی وغیرہ جیسے امور شامل ہیں۔
شق نمبر1111: عورت،شوہر کی جانب سے نان و نفقہ کی ادائیگی میں لاپرواہی کی صورت میں عدالت سے رجوع کر سکتی ہے۔ایسی صورتحال میں عدالت نفقہ کی رقم کا تعین کرے گی اور شوہر کو اسے ادا کرنے کی پابند بنائے گی۔
شق نمبر 336 کی وضاحت: (اجرت المثل) معاوضہ: اگر زوجہ نے ایسے کام انجام دیئے ہیں، جو شریعت کے مطابق اس کے ذمہ نہیں تھے اور عام طور پر ان کاموں کی اجرت دی جاتی ہے۔جبکہ شوہر کے حکم سے اور فری کی نیت کے بغیر، زوجہ نے انہیں انجام دیا ہو تو عدالت ثابت ہونے پر،انجام شدہ کاموں کا مناسب معاوضہ معین کرکے اس کی ادائیگی کا حکم دے گی۔