ڈاکٹر خز علی نے بین الاقوامی کانگریس کے غیر ملکی مہمانوں کی اختتامی تقریب کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اپنے سلسلہ وار ٹویٹر پیغام میں کانگریس کے مقاصد و نتائج کا تذکرہ کیا ۔مشیر صدرمملکت برائے خواتین و خاندانی امور؛ نے اس بات کی تاکید کی کہ اس کانگریس کے ذریعے دنیا بھر سے آنے والی خواتین کو، ایرانی خواتین کی کامیابیوں سے روشناس ہونے کا موقع ملا۔انہوں نے ایران اور مہمان ممالک کے نمائندوں کے درمیان گفتگو کے تبادلے اور کئی شعبوں میں منعقد ہونے والے معاہدوں کا بھی تذکرہ کیا۔
ان کا سلسلہ وار ٹویٹر پیغام مندرجہ ذیل امور پر مشتمل ہے: "ہم نے با اثر خواتین کی بین الاقوامی کانگریس کے مہمانوں کو رخصت کیا۔ ان میں سے بیشتر نے ایران میں ایک سے تین دن، جبکہ مختصر تعداد نے تین دن سے زیادہ قیام کیا۔ مختصر قیام کے باوجود وہ باصلاحیت ایرانی خواتین کی ترقی اور کامیابیوں سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔
کانگریس کے قلیل مدتی اور طویل مدتی اہداف و مقاصد:
1. ایرانی خواتین کی کامیابیوں کا تعارف اور وضاحت
2. خواتین کے مسائل کے بارے میں بین الاقوامی سطح پر کثیر الجہتی نقطہ نظر کی تشکیل
3. اقتصادی پلیٹ فارم کے ذریعے،خواتین کی تیارشدہ مصنوعات کی برآمدات کے لیے تبادلہ
4. عالمی سطح؛ پر با اثر خواتین کے درمیان تعامل اور ہم آہنگی کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی
با اثر خواتین کی بین الاقوامی کانگریس مندرجہ ذیل ثمرات کی حامل رہی :
1. دنیا بھر سے آنے والی خواتین کو؛ ایرانی خواتین کی قابل قدر کامیابیوں سے آگاہی کا موقع ملا اور ایرانی خواتین کے زیر انتظام چلنے والی، علوم و فنون پر مبنی کمپنیوں کے دورہ سے، کئی ممالک کے ساتھ ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مصنوعات کی برآمد کا میدان فراہم ہوا۔
2. بااثر خواتین کی ایک بین الاقوامی ایسوسی ایشن ،اور ایران میں اس کے سیکرٹریٹ کے قیام پر اتفاق
3. کھیل، فن، ثقافت اور سائنس وغیرہ جیسے مختلف شعبوں میں خواتین کے لیے خصوصی بین الاقوامی میلوں کے انعقاد کا معاہدہ طے پایا۔
خواتین کے کھیلوں اور فلم کے شعبوں میں جلد ہی اس سیکشن کے پہلے فیسٹیول کا انعقاد کیا جائے گا۔
4۔ تخلیقی اور ماہرانہ کمالات کی حامل خواتین کی سائنسی و علمی سرگرمیوں اور ان کے زیر انتظام نئی کمپنیوں کو سپورٹ کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر "اختراع اورخوشحال فنڈ کا قیام عمل میں لایا گیا۔
( کانگریس کے تین غیر ملکی منتخب نمائندوں نے اس فنڈ کے پہلے ڈپازٹ کے طور پر ، اپنے انعامات کا عطیہ بھی پیش کیا)
5. خواتین، صحت اور سلامتی کے باھمی ورکنگ گروپ کی سرگرمیوں میں پیشرفت؛ جس کی ابتدائی طور پر ایران نے گزشتہ سال تجویز پیش کی تھی اور کئی ممالک کی خواتین نے اس کا استقبال کیا۔ یہ ورکنگ گروپ مختلف قسم کے مالی، انتظامی اور اخلاقی میدانوں میں بدعنوانی سے لڑنے کو اھمیت دیتا ہے۔
6. عالمی سطح پر، دنیا بھر میں خواتین کی مصنوعات کے تبادلے کے لیے ،حامی ممالک کے کسٹم نظام سے وابستہ، ایک مشترکہ ورچوئل مارکیٹ کی تشکیل پر اتفاق کیا گیا۔
7. متفق ممالک کے درمیان، خواتین کی مصنوعات کے دو طرفہ تبادلے کے لئے خصوصی منڈیوں کی تشکیل کا پروگرام طے کیا گیا۔
8۔خواتین کے مسائل کی نگرانی اور حیثیت کو بہتر بنانے کے لیے متعصب؛سماجی، معاشی اور سیاسی تعاملات سے بالاتر رہ کر عوامی رضاکارانہ بین الاقوامی مبصرین کی تعیناتی کے لئے تنظیم سازی پر اتفاق کیا گیا۔
9. کانگریس میں شریک خواتین وزراء کے درمیان ایران کی مختلف وزارتوں جیسے رہنمائی، امن، توانائی، مملکت، وغیرہ کی وزارت میں اپنے ہم منصبوں کے ساتھ دوطرفہ رابطہ قائم کرنے کے ساتھ ساتھ،مختلف قسم کے معاہدہ، یادداشت یا دو طرفہ سماجی، ثقافتی اور اقتصادی منصوبوں کو بھی عملی جامہ پہنایا جائے گا۔
10. دنیا بھر کی خواتین کے لئے اعلی تعلیم کے حصول کی حمایت اور نگرانی کا نظام تشکیل دیا جائے گا۔اس مسئلے میں افغانی خواتین پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی۔
ان خواتین کے لئے ،تعلیمی مواقع کی ایران میں فراہمی کی صورت میں؛باثر خواتین کی جانب سے، مالی اور نفسیاتی تعاون کا یقین دلایا گیا