"بین الاقوامی کانفرنس برائے خواتین اور بدعنوانی سے مقابلہ"کے عنوان سے خصوصی اجلاس ،میلاد ٹاور کے کنونش ہال میں، بین الاقوامی مشیر صدرمملکت برائے خواتین و خاندانی امور کے زیر صدارت؛ وزارت خارجہ، وزارت انصاف، ادارہ برائے خواتین کے حقوق، خواتین اور خاندانی مطالعات کا مرکز، تہران یونیورسٹی اور تہران میونسپلٹی کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس اجلاس میں مشیر صدر مملکت برائے خواتین و خاندانی امور ؛نے 30 ممالک کے سفارت خانوں کے نمائندوں کی میزبانی کا اعزاز حاصل کیا، جن میں سوئٹزرلینڈ، تیونس، وینزویلا، آسٹریلیا، کیوبا، چلی، بنگلادیش، جاپان، بولیویا، برازیل، اٹلی، کرغزستان، نائیجیریا، میکسیکو، نکاراگوا، زمبابوے، ویٹیکن، شام، فلسطین، سلووینیا، عمان، گنی، پاکستان، ارجنٹائن، فلپائن، جنوبی افریقہ اور ملائیشیا کی سرکاری و غیرسرکاری ممتاز ؛سائنسی، ثقافتی، سیاسی اور سماجی شخصیات، محققین اور نمائندے شامل تھے۔
مشیر صدر مملکت برائے خواتین اور خاندانی امور کے ایجنڈے میں؛خواتین کے لئے متحدہ پلیٹ فارم کی فراہمی اور کرپشن سے مقابلہ جیسے امور شامل ہیں
مشیر صدرمملکت برائے خواتین و خاندانی امورڈاکٹر انسیہ خزعلی، نے اس ملاقات میں کہا:"مطالعات سے ثابت ہوا ہے کہ جن عہدوں پر خواتین موجود رہتی ہیں، اپنے زیادہ پرامن جذبات کی بنا پر ان اداروں کو کرپشن کا کم سامنا کرناپڑتاہے۔ درحقیقت، بیشتر معاشروں میں خواتین، خاندان اور معاشرے میں اپنے وسیع کردار کی بدولت، اکثر مردوں کے مقابلے میں تعاون، اخلاقیات، صفائی اور مفاد عامہ پر زیادہ توجہ دیتی ہیں۔
معاشی اور انتظامی بدعنوانی سے ؛ عوامی اعتماد اور قانون کی بالادستی کو نقصان پہنچتا ہے، یہ قیام امن کو متاثر کرتی ہے، اور انسانی حقوق کی کوششوں کو کمزور کرتی ہے۔ یہ صنفی انصاف کے حصول پر مبنی ترقی کی کوششوں میں رکاوٹ پیدا کرتی ہے۔ اس لیے بین الاقوامی معاشرہ اس قسم کے کرپشن کی اجازت نہیں دے سکتا۔
اس کے ساتھ ساتھ قومی اور بین الاقوامی سطح پر بدعنوانی سے مقابلے کے میدان میں برسوں کی کوششوں سے حاصل ہونے والے تجربات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بدعنوانی؛ خواتین اور مردوں کو قطعا مختلف طریقے سے متاثر کرتی ہے اور اس طرح کرپشن کے حوالے سے صنفی نقطہ نظر کو اپنانا ضروری اور ناگزیر ہے۔
درحقیقت، غیر منصفانہ امتیازی سلوک ؛جو تاریخ میں خواتین کے خلاف موجود تھا اور اب بھی موجود ہے،خواتین کو مسلسل نقصان پہنچا رہا ہے جبکہ بدعنوانی سے پہنچنے والا نقصان خواتین کو زیادہ متاثر کرتا ہے ۔اس سے جنسی امتیازی سلوک میں بھی شدت آتی ہے۔ مثال کے طور پر، تعلیمی میدانوں میں صنفی بنیادوں پرعدم مساوات، باعث بنتا ہے کہ خواتین کی آواز کو کم سنا جائے،لہذا وہ انتظامی بدعنوانی کا آسانی سے شکار بن سکتی ہیں۔ کیونکہ اس صورتحال کا سامنا کرنے والی خواتین اکثر اپنے حقوق سے ناواقف ہونے کی بنا پر سودے بازی کی طاقت نہیں رکھتی ہیں۔لہذا خلاف ورزیوں کی اطلاع دینے سے معذور رہتی ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سے ممالک میں، جن میں خواتین لیبر فورس کا ایک بڑا حصہ غیر رسمی شعبے پر مشتمل ہے، جس کی نگرانی کے امکانات بھی محدود ہیں، اوراس بات کا احتمال موجود رہتا ہے کہ مالکان ،خواتین کو کم اجرت پر کام دیں، جو کہ خود بدعنوانی کی ایک قسم ہے۔
مالکانہ حقوق اور صنفی تشدد کے موارد میں بھی خواتین انتقامی کاروائی کے خوف اور یہ تاثر، کہ انہیں سنجیدہ نہیں لیا جائے گا،یا غیر اہم سمجھے جانے کے احتمال کی وجہ سے ، مردوں کی نسبت بہت کم عدالت کی جانب رجوع کرتی ہیں۔
مشیر صدر مملکت نے مزید کہا: ہمارے ڈیپارٹمنٹ نے اپنے فرائض کے مطابق اور خواتین اور خاندان کے شعبے میں، پالیسی سازی کے لیے اہم اتھارٹی کے طور پر ملک میں " بدعنوانی سے نمٹنے کے لیے، خواتین کا متحدہ پلیٹ فارم " کے قیام کی تجویز پیش کی ہے۔ اس طرح، بدعنوانی کے خلاف خواتین کی حمایت اور مقابلے کے میدان میں ان کی شرکت بڑھانے کے لیے موثر اقدامات کئے جا سکتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ:اس ورکنگ گروپ کے فرائض میں سے ایک انتظامی، معاشی اور جنسی بدعنوانی سے نمٹنے کی ترجیحات کا تعین ہے۔ جبکہ خواتین کے کردار اور مقام کو مدنظر رکھتے ہوئے ، خواتین کے شرعی اور قانونی حقوق کی حصول کے لیے ضروری پلیٹ فارم مہیا کرنا اور ایک ایسے نظام کا وجود میں لانا جو قابلیت کی بنا پر انتظامی،سیاسی اور مدیریت جیسی سطحوں میں قابل، کارآمد اور کرپشن مخالف خواتین سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہو ۔ نیز اس پلیٹ فارم کے ذریعے ؛انتظامی، معاشی اور جنسی بدعنوانی سے متاثرہ خواتین کے تحفظ کے لئے عدالتی اور قانونی حل پیش کرنا اور اس کے نفاذ کی راہ ھموار کرنا، ساتھ ہی قانون نافذ کرنے والے اور مشورہ دینے والے اداروں کی سرپرستی کے حصول کو یقینی بتاتے ہوئے متاثرہ خواتین کے لئیے فنڈز کی فراہمی بھی اسی ادارے کی ذمہ داری ہے۔
یہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ مختلف میدانوں میں بدعنوانیت سے مقابلہ کرنے میں خواتین کی مخصوص اور مثال صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائیں۔لہذا خواتین کا عالمی سطح پر بائیکاٹ اور خواتین کی حیثیت سے متعلق کمیشن میں ایران کی رکنیت کی معطلی، ایرانی خواتین کے مسلمہ حقوق کی پامالی اور ان کے حق میں ایک کھلی زیادتی ہے۔
نیز، امتیازی سلوک کی مخالفت کے دعویدار، علی الاعلان ،بعض خواتین کے معاملے میں خالصتاً سیاسی نقطہ نظر اور میڈیا کی حد تک حمایت اور علمی شواھد سے عاری عقائد کی بنیادوں پر غیر مساوی سلوک روا رکھتے ہیں ۔
اس شرپسندی کے عالمی سطح پر بہت ہی افسوسناک نتائج نکل سکتے ہیں اور اس کے خلاف لڑنا تمام ممالک کا فرض ہے۔ بین الاقوامی اداروں میں موجود ،بدعنوانی کی معروضی علامت جیسے زورآوری اور من پسندتبدیلیوں، کو روکنے کے لئے تمام ممالک کو موقف اختیار کرنا چاہئے ۔
"خواتین کی حیثیت سے متعلق کمیشن" میں ایران کی رکنیت منسوخ کرنے کی تجویز اختیارات کے ناجائز استعمال کی ایک مثال ہے
بین الاقوامی امور کی مشیر برائے خواتین اور خاندانی امور ،اور کانفرنس کی سائنسی سیکرٹری ڈاکٹر خدیجہ کریمی،نے اس موضوع کی اھمیت کے پیش،قومی اور عالمی محاذوں پر ہونے والی کاوشوں کی نشاندہی کرتے ہوئے بیان کیا کہ : وزارت انصاف،اقوام متحدہ کے انسداد بدعنوانی کنونشن کی قومی اتھارٹی اور وزارت خارجہ کے تعاون سے ماہرین کی تحقیقات کے بعد "خواتین اور بدعنوانی کے خلاف جنگ" کے پلیٹ فارم کی تشکیل کی سوچ کو، عملی جامہ پہنانے کے لئے ایک اندرونی خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی اور اس موضوع پر قومی و عالمی محققین کی مدد سے نفسیات، سوشیالوجی، قانونی، انتظامی اور مطالعات کے مختلف شعبوں میں تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
اس کے علاوہ قومی سطح پر "خواتین اور بدعنوانی کے خلاف جنگ" کے متحدہ ورکنگ گروپ کو منظوری دے کر، خواتین اور خاندان کے قومی ہیڈ کوارٹر میں جائزہ اور منظوری کے لیے بھجوادیا گیا،جہاں اس کی ڈیمانڈ پاور کو بڑھانے اور بااختیار بنانے جیسے مقاصد کے تحت کاموں کو انجام دیا جا رہا ہے ۔ عالمی سطح پر، "خواتین اور بدعنوانی کے خلاف جنگ" کی سوچ کو نیویارک میں منعقدہ اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں ،خواتین کی حیثیت سے متعلق کمیشن کے 66ویں ضمنی اجلاس میں دیگر ممالک کے ساتھ شیئر کیا گیا،جسے بہت پذیرائی حاصل ہوئی۔اس کے علاوہ، یہ مسئلہ بحر ہند کے سرحدی ممالک کی خواتین کے معاشی استحکام" کی ایسوسی ایشن "IORA" کے اسٹریٹیجک عنوانات کا حصہ بنا ،جسے بعد میں اتفاق رائے سے منظور کرلیا گیا۔
انہوں نے مزید واضح کیا: جیسا کہ یہ بین الاقوامی دستاویزات سے ثابت ہوتا ہے بدعنوانی، دراصل" ذاتی،سماجی اور گروہی مفادات کے لئے طاقت کے ناجائز استعمال "کا نام ہے۔ آج، بدقسمتی سے، ہم بعض عالمی طاقتوں کو طاقت کا غلط استعمال کرتے ہوئے دیکھتے ہیں؛جس کا حالیہ ثبوت خواتین کمیشن میں ایران کی رکنیت کو امریکہ کی جانب سے معطل کرنے کی پیشکش ہے،جو ایرانی خواتین کو عالمی سطح پر تعاون اور مشارکت سے روکنے کے مترادف ہے۔اس اقدام کے ذریعے درحقیقت، "عورتوں کے حقوق کا دفاع" کے عنوان کو غلط استعمال کرنے کے ساتھ ،ایک بین الاقوامی ادارے کو بھی ایران پر دباؤ ڈالنے اور ایرانی خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی کے لئے استعمال کیا جارہا ہے ۔