id: 16682
1401/9/12 23:37

اجلاس میں" خود ساختہ خواتین انقلاب کی تحریک کے اصل حقائق" کا موضوع اٹھایا گیا۔ فمینیزم کا کوئی بھی نسخہ خواتین کے مسائل کے حل کے لئے کارآمد نہیں ہے

 بین الاقوامی مشیر صدرمملکت برائے خواتین اور خاندانی امور ؛ نے تہران یونیورسٹی کے مطالعاتی مرکز برائےخواتین وخاندانی امور، وزارت انصاف، ادارہ تحفظ حقوق نسواں ، توحید پرست خواتین کا بین الاقوامی فورم اور الزہرہ یونیورسٹی (س) کے تعاون سے" خود ساختہ خواتین انقلاب کی تحریک کے اصل حقائق"کے عنوان سے ایک خصوصی اجلا س منعقد کیا جس میں 9 ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس کے پہلے مرحلے میں، مشیر صدرمملکت برائے خواتین و خاندانی امور، محترمہ ڈاکٹر خز علی نے حالیہ فسادات کو شدت پسندی پرمبنی دیدہ و دانستہ ،مشترکہ معرکہ قرار دیا۔جس میں دشمنوں نے جھوٹ، بہتان اور پروپیگنڈہ کے ذریعےبڑے  پیمانے پر، عوامی افکار آلودہ کرنے کی سازش کی۔ لیکن خدا کا شکر ہے کہ ہماری خواتین نے سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان سازشوں کا مقابلہ کیا اور آئندہ بھی کرتی رہیں گی۔اور اپنی صداقت اور اصالت کے سبب سازشوں کو ناکام بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گی۔

انہوں نے وضاحت کی کہ مغربی حکومتیں بین الاقوامی فورمز میں ایران کی آواز کو محدود کرکے اپنی واحد آواز کو مسلط کرنا چاہتی ہیں۔ یعنی وہ اپنی ھم خیال آوازوں کے علاوہ دوسری آوازوں کی اجازت نہیں دیتے ہیں۔جو آوازیں ان کی حقیقت کو برملا کردیں وہ انہیں دبا دیتے ہیں اور عالمی سطح پر خواتین کے حقوق سے پردہ پوشی اور نامنظوری کے دباؤ کی آواز کو کچل دیتے ہیں۔یہاں پر ہمیں ہنگامی بنیادوں پر مسلسل وضاحت کی ضرورت ہے۔ تاکہ عورت اور آزادی کے نام پر ظلم و زیادتی کا نشانہ بننے والی خواتین کی آواز کو  دنیا والوں کے سامنے بلند کیا جاسکے۔

بین الاقوامی مشیر صدرمملکت برائے خواتین اور خاندانی امور؛محترمہ ڈاکٹر کریمی، نے  حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے یوم ولادت پر مبارکباد پیش کرتے  ہوئے انہیں، حکمت و تدبیر کا نمونہ قرار دیا۔انہوں نے ملک کے حالیہ واقعات کو،حق کے سامنے، باطل کی طاقت سے بھرپور محاذ آرائی کا نمونہ بیان کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ حق و باطل کے اس تصادم میں خواتین کا مسئلہ اور خواتین کے نعرے صرف ایک ہتھیار  کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ ان کے مطابق آج وہ ممالک انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کے دفاع کا دعویٰ کرتے ہیں جو  سب سے زیادہ خلاف ورزیاں کرتے ہیں۔

پروگرام میں آسٹریلیا، پاکستان، جرمنی، عراق، الجزائر، انڈونیشیا، نائیجیریا، افغانستان اور ایران سے مقررین، نے  اجلاس میں، موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔  تہران یونیورسٹی کے سائنس بورڈ کی رکن محترمہ ڈاکٹر شادمانی نے ماضی کے مشروط انقلاب، تمباکو نوشی کی تحریک اورایران کے  اسلامی انقلاب میں خواتین کی موجودگی کے پس منظر کی بنیاد پر، موجودہ صورت حال کو اس طرح بیان کیا: ہمیں اس وقت ایک پیچیدہ مشترکہ محاذ آرائی کا سامنا ہے؛ ایک ایسی حکمت عملی جس میں میڈیا کے ساتھ  کلاسیکل اور تہذیبی یلغار بھی  شامل ہیں۔ جہاں اسلامی جمہوریہ ایران کو نقصان پہنچانے کے لیے تمام متناسب  اور غیر متناسب وسائل استعمال کئے گئے ہیں ۔

آج ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ ایک منظم تشدد ہے جس میں سماج کو بنیاد پرستی کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔لہذا اس صورتحال کو خواتین کے انقلاب کے بجائے "خواتین کے نام پر فتنہ "کا نام دیا جاسکتا ہے۔جو جان بوجھ کر خواتین کے مسائل کا ناجائز استعمال ہے۔البتہ جب خواتین کے نام پر فتنہ کھڑا کرنے کی بات کی جاتی ہے تو اس کا مطلب ھرگز یہ نہیں ہے کہ خواتین کی زیادہ تعداد ان فسادات میں شامل رہی ہو بلکہ مراد وہ نعرے ہیں جو خواتین کو فیمینیزم کی سمت دھکیل رہے ہیں۔

 حجاب اور نفسیاتی صحت کے درمیان تعلق کے حوالے سے سائنسی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے آسٹریلیا کی  ایک محقق نے اس بات کا اظہار کیا کہ خواتین کے تحفظ اور نفسیات  پر مثبت نتائج کی بنیاد پر نہ صرف مسلم بلکہ غیر مسلم خواتین کو بھی پردے کی جانب رغبت دلائی جاسکتی ہے۔ ان کی رائے میں، میڈیا کے ذریعہ ،دکھائے جانے والے خوبصورتی کے معیارات، مغربی ہیں۔ ان معیارات کے مسلط کرنے کی وجہ سے، خواتین بالخصوص نوجوان لڑکیوں کو اپنے جسم  کی ذہنی تصویر کے حوالے سے بہت سے مسائل درپیش ہیں۔ جبکہ حجاب اور پردے کے ذریعے، خوبصورتی کے ان معیارات کے اہمیت  انتہائی کم ہوکر رہ جاتی ہے۔ اور اس نظریہ کے تحت لوگ اپنے جسم کے بارے میں زیادہ مثبت ذہنی تصویر بنا سکتے ہیں۔

افغانستان سے تعلق رکھنے والے ایک ماہر ڈاکٹر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ عورت کی طاقت اور توانائی حیا  کی بدولت فراہم ہوتی ہے۔ حجاب پہن کر آپ خواتین اس  ملکہ کی مانند ہیں کہ، جو ایسے   قلعہ اور حصار میں ہے جس کے قریب جانے کا کسی کو حق نہیں ہے۔ خواتین کے مسائل  کے لیے، فمینیزم کے دیئے گئے حل میں سے اب تک  کوئی بھی کارگر ثابت نہیں ہوا ہے۔ آج جس کی  دنیا کو ضرورت ہے،وہ حیا اور پاکیزگی ہے۔ ہم مغرب کی ایسی، فرعونی شیطانی تہذیب کے ساتھ سخت تصادم میں ہیں جو اسراف اور برتری کی خواہش پر مبنی ہے۔ ہمارے اور مغربی تہذیب کے درمیان تصادم، پردے کے لئے استعمال ہونے والے ایک دو گز کپڑے کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ یہ اختلاف اس توحیدی کلچر کی وجہ توحیدی کلچر کی وجہ سے ہے جس نے ہماری زندگی کے لئے مکمل منصوبہ بندی کی ہے۔

الجزائر کے ایک محقق نے خواتین کو معاشرے کا قلب قرار دیا۔ ان کے مطابق الجزائر پر 130  سال تک فرانس کا قبضہ رہا۔ اور انہوں نے وہاں قابض رہنے کی بہت کوشش کی لیکن ان کی ناکامی کی وجہ، ان کے اپنے اعتراف کے مطابق یہ تھی کہ وہ الجزائر کے دل تک  نفوذ حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے؛  یعنی وہ الجزائر کی خواتین کو متاثر کرنے میں ناکام ہوگئے تھے۔

تہران یونیورسٹی کے سائنس بورڈ کی رکن محترمہ ڈاکٹر یزدیان نے خاندانی نظام کے خاتمے کو دشمن کا ہدف قرار دیتے ہوئے  کہا کہ: ہمیں خاندان کے افراد کو اس بات کی تعلیم دینی چاہیے تھی ؛کہ کورونا کے دوران کس طرح اپنے بچوں کی آن لائن تعلیم کے دوران،کس طرح ان  کے ساتھ اپنے تعلقات کی حفاظت کریں اور ؛ایرانی اور اسلامی ثقافت کی بنیاد پر ان کی پرورش کریں۔ آج  طلباء کی جانب سے مشاہدہ ہونے والے روپے، ایرانی ثقافت سے بالکل مطابقت نہیں رکھتے ہیں۔

جرمنی سے تعلق رکھنے والی ایک ثقافتی میدان میں سرگرم خاتون نے نشاندہی کی کہ ان کے  ملک میں،روایتی رسومات اور مذہب کی تعلیمات ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں ، اسی وجہ سے اسلامی تحریک نسواں کا وہاں خیر مقدم کیا جاتا ہے ہمیں چاہئے کہ پردہ دار خواتین کو آگاہ کریں کہ وہ صرفا فمینیزم کی تحریکوں کا دفاع نہ کریں۔ ان کے نقطہ نظر سے دنیا میں انسانی حقوق کی جو  خلاف ورزیاں ہوتی ہیں، انہیں ایرانی میڈیا میں شاذ و نادر ہی دکھایا جاتا ہے۔یہی سبب ہے کہ اس حوالے سے درست معلومات کا فقدان، ایرانی نوجوانوں کے نزدیک مغربی دنیا کوغیر حقیقی اور مثالی،بنا دیتا ہے۔