بین الاقوامی مشیر صدر مملکت برائے خواتین اور خاندانی امور؛ نے "وومنز اتھارٹی کمیشن" میں ایران کی رکنیت منسوخ کرنے کی درخواست کوایک ایسے منظرنامہ سے تعبیر کیا ،جسے اسلامی جمہوریہ ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے اور اس کے نظام کو بدنام کرنے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے وومنز اتھارٹی کمیشن کو مشورہ دیا کہ وہ خواتین کے حقوق کے معاملے میں غیر جانبداری اور حقیقی تشویش کو ثابت کرنے کے لئے سیاسی دباؤ سے دور رہ کربین الاقوامی دستاویزات میںموجوس انڈیکس کی بنیاد پر مختلف ممالک میں خواتین کے حقوق و حیثیت کا جائزہ لے
ڈاکٹر خدیجہ کریمی، نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی اجلاس میں اپنی تقریر اور اقوام متحدہ کے خواتین کمیشن میں ایران کی رکنیت منسوخ کرنےکی امریکی درخواست کے ردعمل پر کہا:
ایران کے انقلاب کی فتح کے آغاز سے ہی مخالف افراد کی جانب سے، اسلامی جمہوریہ نظام کی تبدیلی اور تجزیہ کی غرض سے مختلف ہتھکنڈوں کے استعمال کا سلسلہ جاری ہے جسے کبھی مسلط کردہ جنگ، ظالمانہ پابندیاں، جانبدارانہ روپے،، نسلی اور قبائلی تحریکیں، اور کبھی دہشت گردی کے واقعات اور رنگ برنگے سانحات کو وجود میں لاکر عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سال ستمبر میں جب مہسا امینی کا انتقال ہوا، تو اعلیٰ حکام کے ردعمل کے باوجود، اور اس افسوسناک واقعے کی فوری تحقیقات کی درخواست قبول کرنے کے باوجود اس واقعے کے حاشیے میڈیا کی بامقصد ٹارگٹ لہر کا حصہ بن گئے۔ جسی افراتفری اور فسادات میں تبدیل کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا: حالیہ فسادات کے دوران اس بات کی کوشش کی گئی کہ؛ جھوٹی خبروں کی اشاعت، قاتلانہ کارروائیاں اور معاشرے پر نفسیاتی دباؤ کے ذریعے عوام کا ذھنی سکون تباہ کیاجائے اور معاشرے کی محدود تعداد کی حمایت حاصل کی جائے ۔ عالمی سطح پر بھی ،ایران کو عالمی منظر نامے سے الگ کرنے کی غرض سے دباؤ مہم چلائی گئی، جیسا کہ وومنز اتھارٹی کمیشن میں ایران کی رکنیت کی منسوخی کا معاملہ اٹھایا جانا ، انسانی حقوق کونسل کا خصوصی اجلاس بلانا اور بالآخر مسئلے کی تحقیقات کے لئے خصوصی کمیٹی کی تشکیل اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔
نیز اس سوال کے جواب میں کہ مذکورہ ملاقات میں کن موضوعات پر بات ہوئی؟ انہوں نے واضح کیا کہ؛ دیگر چیزوں کے علاوہ اس ملاقات میں جو مسائل اٹھائے گئے،وہ ایرانی مردوں ، عورتوں اور بچوں کی زندگی اور صحت پر ( امریکی)پابندیوں کے اثرات، عورتوں کے حقوق کے دعویدار ممالک میں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف منظم تشدد کے موارد سمیت ان ممالک میں پناہ گزین خواتین کو قبول نہ کرنے کی پالیسی ،یمن اور مقبوضہ فلسطین میں خواتین کی تشویشناک صورت حال اورکینیڈا میں بے نام و نشان بچوں کے قبرستانوں کی موجودگی جیسے مسائل پر مغربی دنیا کی
خاموشی جیسے مسائل تھے ۔یہ خواتین کے حقوق کے دعویداروں کے باطل اور جھوٹے اعتبارات کی چند مثالیں ہیں۔
پرامن" مظاہروں کو دبانے کا الزام
ڈاکٹر کریمی کے مطابق، اس ملاقات میں کچھ ممالک کی جانب سے"پرامن" مظاہروں کو دبانے اور پرامن مظاہرین بالخصوص خواتین اور بچوں کے خلاف غیر متناسب طاقت کے استعمال جیسے الزامات لگائے۔
بین الاقوامی مشیر صدر مملکت برائے خواتین اور خاندانی امور؛نے یہ بھی واضح کیا کہ کچھ ایسے ممالک بھی تھے،جنہوں نے اس خصوصی اجلاس کی حمایت نہیں کی اور اسے غیر معقول قرار دیا۔ ان ممالک نے ایران پر کسی بھی نئے مانیٹرنگ نظام کو مسلط کرنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا اور اس کی مذمت کی۔ انہوں نے اپنی اس سخت مخالفت کا اظہار اس بات سے کیا کہ اقوام متحدہ کی اسمبلی سے جانبدارانہ سیاسی اور ظالمانہ رویے جیسے مسائل کو ختم ہوجانا چاہئے۔
ان ممالک کے نمائندوں کے مطابق،بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں موجود دہشت گردی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا سلسلہ اور جعلی خبروں کی شدید مہم ،جس کی وجہ سے ایک طویل عرصے سے ہمارا ملک تکلیف دہ صورتحالسےدوچارہے ،اسی میڈیا کی جانب سے غلط معلومات کی تشہیر اور اشتعال انگیزی نے مہسا امینی کی موت کے احتجاج کو ہوا دی اورجسے غلبہ کے خواہاں ممالک نے ، ایران کو غیر مستحکم کرنے کے لیے سیاسی اور تشہیری مہم پر مبنی جنگ میں تبدیل کردیا ۔قرارداد کے مخالف ممالک کا کہنا ہے کہ کئی دہائیوں سے ایران کو ان ممالک کے محاصرے کا سامنا ہے جنہوں نے ہماری قوم پر یکطرفہ اقدامات مسلط کیے ہیں۔ جب کہ ان کی جانب سے ایسی پابندیاں پابندیاں عائد کی گئیں جس نے ایرانیوں کے بنیادی حقوق کو پامال کیا اور جسے انسانیت کے خلاف جرم شمار کیا جاتا ہے۔
انسانی حقوق کونسل کے 35ویں خصوصی اجلاس میں کیا ہوا؟
بین الاقوامی مشیر صدر مملکت برائے خواتین اور خاندانی امور؛ نے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا: جیسا کہ ذکر کیا گیا، ان سازشوں میں سے ایک، ایران میں انسانی حقوق کے معاملے پر فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کا پہلا خصوصی اجلاس تھا۔اجلاس کے پہلے مرحلے میں تقریباً 42 غیر سرکاری تنظیموں نے انسانی حقوق کی کونسل سے ایک کھلے خط کے ذریعے، خصوصی اجلاس منعقد کرنے کی درخواست کی تھی ۔ آئس لینڈ اور جرمنی کی کے علاوہ 44 ممالک کی حمایت و ہمراہی کے ساتھ انسانی حقوق کے ایجنڈے میں اسے شامل کیا گیا۔اس موضوع پر پینتیسواں خصوصی اجلاس جنیوا میں مورخہ 24 نومبر کو منعقد ہوا۔
ڈاکٹر کریمی نے بتایا کہ جس وقت آئس لینڈ اور جرمنی کی درخواست پر 35 ویں خصوصی اجلاس منعقد کرنے کی تجویز دی گئی۔ عین اسی موقع پر کا یہ اقدام ایران کے کرد شہر "سردشت" پر صدام حکومت کے کیمیائی حملوں سے متاثرہ افراد کو 35 سال گزرنے پر ان کی برسی منائی جارہی تھی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جرمن حکومت جس نے آج خواتین کے تحفظ کے سلسلے میں خصوصی میٹنگ کی درخواست کی ہے۔ یہ وہی ملک ہے جس نے صدام کی حکومت کو کیمیائی ہتھیاروں سے لیس کیا اور ان کیمیائی ہتھیاروں کے نتیجے میں تیرہ ھزار سے زائد افراد کا قتل عام کیا گیا جبکہ ایک لاکھ سے زائد لوگ جن میں بے گناہ خواتین اور بچے بھی شامل تھے زخمی ہوئے ۔ ان حالات میں جبکہ مہسا امینی کی المناک موت کے بعد آزاد تحقیقاتی کمیشن نے مختلف پہلوؤں سے فورنسک ٹیم کے تعاون سے تحقیقات کا آغاز کردیا تھا ،اور ابھی اس ٹیم کی تحقیقات کے نتائج آنا باقی تھے،مگر سرکاری رپورٹس کا اعلان ہونے سے قبل ہی
بعض مغربی حکام اور ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلتوں کے خواھشمند عناصرکی طرف سے جلد بازی اور متعصبانہ رد عمل کا مظاہرہ کیا گیا،جس کی بدولت اجتماعات،پرتشدد فسادات کی شکل اختیار کرگئے اور دیکھتے ہی دیکھتے ،شیراز، ایذہ ، زاہدان، اصفہان اور مشہد جیسے کئی شہروں میں دہشت گردانہ حملوں کے لیے مواقع فراہم ہوئے۔
نیز اس سوال کے جواب میں کہ مذکورہ ملاقات میں کن موضوعات پر بات ہوئی؟ انہوں نے واضح کیا کہ؛ دیگر چیزوں کے علاوہ اس ملاقات میں جو مسائل اٹھائے گئے،وہ ایرانی مردوں ، عورتوں اور بچوں کی زندگی اور صحت پر ( امریکی)پابندیوں کے اثرات، عورتوں کے حقوق کے دعویدار ممالک میں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف منظم تشدد کے موارد سمیت ان ممالک میں پناہ گزین خواتین کو قبول نہ کرنے کی پالیسی ،یمن اور مقبوضہ فلسطین میں خواتین کی تشویشناک صورت حال اورکینیڈا میں بے نام و نشان بچوں کے قبرستانوں کی موجودگی جیسے مسائل پر مغربی دنیا کی
خاموشی جیسے مسائل تھے ۔یہ خواتین کے حقوق کے دعویداروں کے باطل اور جھوٹے اعتبارات کی چند مثالیں ہیں۔
پرامن" مظاہروں کو دبانے کا الزام
ڈاکٹر کریمی کے مطابق، اس ملاقات میں کچھ ممالک کی جانب سے"پرامن" مظاہروں کو دبانے اور پرامن مظاہرین بالخصوص خواتین اور بچوں کے خلاف غیر متناسب طاقت کے استعمال جیسے الزامات لگائے۔
بین الاقوامی مشیر صدر مملکت برائے خواتین اور خاندانی امور؛نے یہ بھی واضح کیا کہ کچھ ایسے ممالک بھی تھے،جنہوں نے اس خصوصی اجلاس کی حمایت نہیں کی اور اسے غیر معقول قرار دیا۔ ان ممالک نے ایران پر کسی بھی نئے مانیٹرنگ نظام کو مسلط کرنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا اور اس کی مذمت کی۔ انہوں نے اپنی اس سخت مخالفت کا اظہار اس بات سے کیا کہ اقوام متحدہ کی اسمبلی سے جانبدارانہ سیاسی اور ظالمانہ رویے جیسے مسائل کو ختم ہوجانا چاہئے۔
ان ممالک کے نمائندوں کے مطابق،بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں موجود دہشت گردی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا سلسلہ اور جعلی خبروں کی شدید مہم ،جس کی وجہ سے ایک طویل عرصے سے ہمارا ملک تکلیف دہ صورتحالسےدوچارہے ،اسی میڈیا کی جانب سے غلط معلومات کی تشہیر اور اشتعال انگیزی نے مہسا امینی کی موت کے احتجاج کو ہوا دی اورجسے غلبہ کے خواہاں ممالک نے ، ایران کو غیر مستحکم کرنے کے لیے سیاسی اور تشہیری مہم پر مبنی جنگ میں تبدیل کردیا ۔قرارداد کے مخالف ممالک کا کہنا ہے کہ کئی دہائیوں سے ایران کو ان ممالک کے محاصرے کا سامنا ہے جنہوں نے ہماری قوم پر یکطرفہ اقدامات مسلط کیے ہیں۔ جب کہ ان کی جانب سے ایسی پابندیاں پابندیاں عائد کی گئیں جس نے ایرانیوں کے بنیادی حقوق کو پامال کیا اور جسے انسانیت کے خلاف جرم شمار کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر کریمی نے یہ بھی بیان کیا کہ بعض ممالک نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ مذکورہ بالا کشیدہ صورتحال کے باوجود،
ایران ہمیشہ ترقی کی راہ پر گامزن رہا ہے اور انسانی حقوق کی حمایت کے ساتھ ساتھ ، اقوام متحدہ کی اسمبلی یائی کمشنرز اور دیگر شعبوں کے ساتھ تعاون کے معاملے میں پرعزم ہے اور باہمی احترام اور تعمیری کوششوں کے ذریعے اس نے ان اداروں کے ساتھ نتیجہ خیز تعامل برقرار رکھا ہے۔
بین الاقوامی مشیر صدر مملکت برائے خواتین اور خاندانی امور ،نے مزید کہا: بالآخر ان ممالک اقوام متحدہ کے کونسل کو تاکید کی گئی کو وہ غیر جانبداری پر مبنی حکمت عملی اپنائے اور اس بات کی اجازت نہ دے کہ انسانی حقوق کے بہانے دیگر ممالک کے معاملات میں دراندازی کی جائے۔جبکہ انسانی حقوق کے نام پر کھلی سودے بازی اور دیگر ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے ذریعے سیاسی مقاصد کا حصول
ایک ایسا موضوع تھا جس پر تمام ممالک اعتراض کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حالیہ برسوں میں کونسل کی سطح پرسیاسی محاذ آرائی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔
انسانی حقوق کونسل کے 55ویں اجلاس کے اختتام تک "فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی" کی تشکیل کے لیے قراردادوں کی منظوری
اس سوال کے جواب میں کہ ’’اس کونسل کے اجلاس کا حتمی نتیجہ کیا نکلا؟‘‘ انہوں نے کہا: آخر میں کونسل نے، 25 موافق ووٹوں کے ساتھ قراداد کی منظوری دی۔ اور اس کی بنیاد پر، کونسل کے 55 ویں اجلاس کے اختتام تک ایک انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ کی جانب سے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کا تقررعمل میں آیا ہے ۔اس کمیٹی کو تحقیق کا نشہ ہے۔ ایران میں حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں تحقیقی رپورٹ کونسل کو پیش کریں۔
فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کا قیام "تاریخی اور بے مثال" کارنامہ یا "سیاسی جانبداری "
ڈاکٹر کریمی نے ISNA کے دوسرے سوال، کہ "وائٹ ہاؤس نے ایران کے خلاف فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے قیام کو ایک "تاریخی اور بے مثال" کارروائی سے تعبیر کیا ہے !؟ ، اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟" انہوں نے وضاحت کی: یہ کارروائی مبینہ طور پر ہمارے ملک کے خلاف ہے، کیونکہ اس کے اصلی نقشہ بنانے والے یقیناً مکمل طور پر اس معاملے میں سیاسی مقاصدکےحامل ، مخالف اور جانبدار رہے ہیں۔یہ ان ممالک کی جانب سے ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلتی سرگرمیوں کے سلسلے کے تسلسل کی وہ مشترکہ کاروائی ہے جس کا مقصد اسلامی نظام کی بنیادوں کو کمزور کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔
انہوں نے اس بات کی تاکید کی کہ: مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام استعماری طاقتوں،بالخصوص امریکہ کے لئے کبھی بھی خوش آئند نہیں ہو سکتا۔ خاص طور پر خصوصاً ہمارے ملک کے معاملے میں جو ،اسلامی انقلاب کے آغاز سے لے کر اب تک پہلی اور واحد شیعہ حکومت ہے جس نے دنیا کے سامنے اقتدار کا ایک منفرد ماڈل پیش کرنے کے لئے کوشاں ہے۔
بین الاقوامی مشیر صدر مملکت برائے خواتین اور خاندانی امور ، سے سوال پوچھا گیا کہ ویمن اتھارٹی کمیشن میں ایران کی رکنیت کی معطلی کی امریکی درخواست پر 14 دسمبر کو ہونے والی ووٹنگ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟کیا آخر کار اس کمیشن میں ایران کی رکنیت منسوخ ہو جائے گی؟
انہوں نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ:ملک میں پیش آنے والے واقعات کو بہانہ بنا کر اسلامی جمہوریہ ایران کو دنیا سے الگ کرنے کی کوششوں کے سلسلے میں مغربی ممالک کی کچھ خواتین کی جانب سے اس قسم کے اقدامات کی منصوبہ بندی، ہدایت اور بامقصد پچھلی متعصبانہ کاروائی کا سلسلہ بندی ہے ۔یہ قدم ایران کے عوام کے مفادات سے متصادم ہے
ڈاکٹر کریمی نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئےکہا کہ خواتین کے حقوق کے جن علمبرداروں اور ملکی نمائندوں کی جانب سے اقوام متحدہ کے کمیشن برائے خواتین میں ایران کی رکنیت کی معطلی کی درخواست دی گئی ہے ،وہ افراد ہیں ،جن کا اپنے ممالک میں خواتین کے حقوق کی پابندی کا کوئی خاطرخواہ ریکارڈ موجود نہیں ہے ۔یہ لوگ صرف اپنی حمایت یافتہ خواتین کے ان مخصوص گروپ کے حقوق کے دفاع کے لیے آواز بلند کرتے ہیں جو ان کے سیاسی مفادات کے عین مطابق جانبداری سے کام کرتی ہیں۔
ان کے مطابق آج کی دنیا میں خواتین کے حقوق کے فروغ کی بین الاقوامی کوششوں کے باوجود ہم بچیوں اور خواتین کے حقوق کی پامالی کا مشاہدہ کر رہے ہیں، ان خلاف ورزیوں میں؛ تارکین وطن، مخصوص نسلوں اور معذور خواتین کا لازمی بانجھ پن،یورپ میں خواتین کے قتل، گھریلو و صنفی بنیاد پر تشددمیں اضافہ،اسرائیلی حکومت کی جانب سے فلسطینی خواتین کے حقوق کی منظم خلاف ورزی، یورپ اور امریکہ میں سرخ فام، تارکین وطن اور پناہ گزین خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی، مغربی ممالک میں،بدسلوکی اور جنسی استحصال کی غرض سے لڑکیوں اور خواتین کی اسمگلنگ میں اضافہ، کو اور بدسلوکی کا مقصد، پناہ گزین کیمپوں میں خواتین کی حالت زار، خواتین کے انسانی اور اخلاقی وقار کے تباہ کن حالات، خاندانی بنیادوں کا زوال اور بن باپ کے بچوں کی، بڑھتی ہوئی پیدائش ،جو کبھی بھی خاندانی زندگی کے ذائقے کا تجربہ نہیں کرپائیں گے۔
خواتین کی حیثیت سے متعلق کمیشن کی بنیادی دستاویزات میں کسی بھی ملک کی رکنیت کی معطلی سے متعلق قانون موجود نہیں ہے
جب ڈاکٹر کریمی سے پوچھا گیا کہ خواتین کمیشن میں ایران کی رکنیت معطلی کو " بے مثال تاریخی " کاروائی کیوں قرار دیا جاریا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ کارروائی اس نقطہ نظر سے تاریخی اور بے مثال ہے کہ کمیشن کی دستاویزات میں کسی رکن ملک رکنیت معطل کرنے کے لئے کوئی لائحہ عمل موجود نہیں ہے۔ اور یہ کہا جا سکتا ہے کہ پہلی بار مسئلہ کو اٹھایا گیا ہے۔ یہ امر اس بات کا گواہ ہے کہ انسانی حقوق کونسل اور اس کے پیشرو کے بعد ویمن کمیشن بھی مغربی ممالک کے ہاتھوں سیاسی اور استعماری آلہ کار میں تبدیل ہو چکا ہے۔
لہذا اب اس ادارے سے کسی منصفانہ فیصلے کی کم ازکم توقع بھی نہیں کی جا سکتی ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران اس نشست پر ایشیائی ممالک کے ووٹوں سے رکن بنا یے اور یہ یہ ایک طرح سے ان ممالک کے ووٹ کے ساتھ اہانت ہے۔
انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال ہمارا ملک ، ECOSOC کے ممبر ممالک کے 54 ووٹوں میں سے 43 ووٹ حاصل کیے،اور یوں ایران چار سال کے لئے ،خواتین کی حیثیت سے متعلق اقوام متحدہ کے کمیشن کا رکن منتخب ہوا ۔ انہوں نے واضح کیا کہ 2011 سے یہ تیسری بار ہے کہ، ایران اس کمیشن کا رکن بن رہا ہے۔ خواتین کی حیثیت سے متعلق کمیشن میں اسلامی جمہوریہ ایران کی رکنیت کی خبر کی اشاعت کے پہلے ہی لمحات میں مخالف قوتوں اور انسانی حقوق کے نام نہاد گروپوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ،جس نے سب پر واضح کر دیا کہ وہ ایرانی خواتین کی، جو انہوں نے خودساختہ تصویر کشی کی ہے، اس کے علاوہ حقیقی صورتحال کی، دنیا میں عکاسی کے مخالف ہیں۔ مغربی ممالک نے خواتین کے حقوق کی مغل زمانہ حمایت کو کئی برسوں سے پرفریب انداز میں جاری رکھا ہے۔ جس کے ذریعے وہ خاندان اور خاندانی بنیادوں میں تزلزل پیدا کر کے اپنے مقاصد تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ یہ ممالک دباؤ اور من مانے انتخابات کے ذریعے دنیا کے لوگوں تک دوسروں کی آواز پہنچنے میں مسلسل رکاوٹ ہیں۔
بین الاقوامی مشیر صدر مملکت برائے خواتین اور خاندانی امور، نے ویمن اتھارٹی کمیشن کو ،وہ پہلا بین المالک ادارہ قرار دیا جو1946 میں 15 ممالک پر مشتمل اقوام متحدہ کی اقتصادی اور سماجی کونسل (ECOSOC) کے تحت خواتین کی حیثیت میں پیشرفت کے بارے میں فیصلے اور پالیسیاں بنانے کے لیے بنایا گیا تھا ۔ ان کے بقول یہ کمیشن ان اہم بین الاقوامی اداروں میں سے ایک ہے جو خواتین سے مربوط تمام مسائل پر اپنی تجاویز اور رپورٹس، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو پیش کرتا ہے، یہ کمیشن 45 ممبران پر مشتمل ہے ،جنہیں ایکوسوک میں چار سال کی مدت کے لیے منتخب کیا جاتا ہے۔
کریمی نے بتایا کہ کمیشن کی اراکین میں براعظم افریقہ سے 13، براعظم ایشیا سے 11، مشرقی یورپ سے 4 ارکان شامل ہیں۔جبکہ 9 ارکان کا تعلق لاطینی امریکہ اور کیریبین علاقہ سے ہے اور 8 ارکان مغربی گروپ سے ہیں۔ اس کمیشن میں ایران کی رکنیت کے سابق ریکارڈ کے بارے میں انہوں نے مزید کہا کہ؛ اسلامی جمہوریہ ایران 1998 سے کئی ادوار (بشمول 2010 الی 2014) میں کمیشن میں بطور رکن منتخب ہوتا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، اپریل 2014 میں اقوام متحدہ کی بنیاد ی کونسل کی ووٹنگ کی بنیاد پر، ویمن اتھارٹی کمیشن میں ایران کی رکنیت میں 2015 سے 2019 تک کا اضافہ کیا گیا ۔ مارچ 2015 سے نئی مدت میں بھی توسیع کی گئی۔ جو مارچ 2026 تک جاری رہے گی۔اس رکنیت کے دوران، ووٹ کا حق رکھنے کے علاوہ، خواتین اور خاندان کے شعبے میں ملک کی کامیابیوں اور اقدامات کو مزید مکمل طور پر پیش کرنے کا موقع فراہم آسکتا ہے۔اگر مختلف ادوار کے درمیان منعقد ہونے والے اجلاس پر اثر انداز گفتگو کے تبادلوں اور حالات کے دھارے سنوارنے کے اعتبار سے دیکھا جائے تو اس کمیشن کے ارکان کے لئے سنہری موقع فراہم آسکتا ہے
خواتین کے اتھارٹی کمیشن میں ایران کی رکنیت کی معطلی ؛ خطرناک اور جانبدارانہ رویہ
بین الاقوامی مشیر صدر مملکت برائے خواتین اور خاندانی امور،نے اپنی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ؛ ہمارا ملک کورونا وبا سے پہلے بالمشافہ ملاقاتوں اور اس کے بعد اس کمیشن کے آن لائن اجلاسوں میں، جو ہر سال مارچ میں منعقد ہوتے ہیں،موثر
طریقے سے شریک ہوتا رہا ہے،جن میں مارچ میں منعقدہ اقوام متحدہ کمیشن میں 14روزہ تقاریر، ضمنی اجلاس، اسلامی جمہوریہ ایران میں خواتین کی ترقی کو متعارف کرانے کے مقصد سے سفارتی ملاقاتوں اور نمائشوں کا انعقاد بھی شامل ہیں۔درحقیقت کوشش یہ رہی ہے کہ عوامی سفارت کاری کی صلاحیت سے فائدہ اٹھایا جائے۔ کمیشن میں موجود ممالک کے ساتھ کامیاب تجربات کا تبادلہ اور نتیجہ خیز بات چیت کو وسعت دینے کا راستہ روکنے کے لئے ایران کی رکنیت کی معطلی، کمیشن میں موجود بعض ممالک کی جانب سے وہ منافقانہ، جانبدارانہ اور خطرناک رویہ ہے جس سے عالمی سطح پر خواتین کے سب سے بڑے ادارے کی حیثیت کو مجروح کیا جا رہا ہے اور آنے والی جدید حکومتوں کے لیے اپنے سیاسی اغراض اور مقاصد تک پہنچنے کے لیے مداخلت کا راستہ ہموار ہورہا ہے۔
اس سوال کے جواب میں کہ ایران ،خواتین کمیشن کو کیا جوابات اور وضاحتیں دے کر اپنی پوزیشن برقرار رکھنا چاہتا ہے؟ کیا آپ کو کمیشن میں ایران کی رکنیت کی عدم معطلی کی کوئی امید نظر آتی ہے؟انہوں نے کہا کہ؛ اسلامی جمہوریہ ایران ہزاروں سالہ قدیم تہذیب، اور اسلامی تعلیمات سے مالا مال ملک ہے۔اسلامی جمہوریہ ایران کے انقلاب کی فتح کے ابتدائی دنوں سے ہی، خواتین کے موروثی وقار کی حمایت اور ان کے لئے صنفی انصاف کا حصول اولین ترجیحات میں شامل ہے اور انسانی و شہری حقوق، خاص طور پر خواتین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مستحکم اقدامات اور مضبوط مواقع کی فراہمی اور نشاندہی کی جانب خصوصی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔ اس لیے مختلف انتظامی سطحوں؛ من جملہ؛ انتظامیہ، اعلیٰ تعلیم اور ملازمت کے مختلف شعبوں میں خواتین کی موجودگی اور شرکت کے شاندار اعدادوشمار، خواتین کے لیے حکومت کی عملی حمایت کی نشاندہی کرتی ہیں۔
ڈاکٹر کریمی نے بتایا کہ دیہی،خانہ بدوش اور گھریلو سربراہ خواتین کو معاشی میدان میں بااختیار بنانے کے لئے گھریلو خواتین کے لیے خصوصی انشورنس، گھر کی خواتین سربراہوں کے لیے سماجی انشورنس کے حصول کی سہولت موجود ہے۔خواتین کی متوقع عمر 78 سال ہے جبکہ خواتین میں ناخواندگی کی شرح کو 10 فیصد سے بھی کم ہے۔ لڑکے اور لڑکیوں کو مساوی تعلیمی حق حاصل ہے اور وہ عالمی سطح پر برابر اندازمیں پوزیشن حاصل کرتے ہیں۔ خواتین اسپیشلسٹ ڈاکٹرز 40 فیصد جبکہ 30 فیصد خواتین سرجن خدمات انجام دے رہی ہیں ۔ میڈیکل سائنسز کی یونیورسٹیوں میں خواتین فیکلٹی ممبران کا تناسب 34 فیصد تک اور دیگر یونیورسٹیوں میں خواتین فیکلٹی ممبران 33،3 فیصد سے زائد ہیں۔ ملک میں 1121 خواتین ججز سرگرم ہیں۔2011 کے بعد سے خواتین ججوں کی بھرتی میں تقریباً 3 فیصد کا سالانہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔یونیورسٹیوں میں داخلہ لینے والی لڑکیوں کی شرح 56 فیصد ہے ۔ یہ سب اسلامی جمہوریہ ایران میں لڑکیوں اور خواتین کی ترقی کا ایک چھوٹا گوشہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ مذکورہ کامیابیوں کو ان حالات میں حاصل کیا گیا جب ہم چالیس سال سے مختلف شکلوں کی ظالمانہ سیاسی پابندیوں کا شکار رہے۔ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کی رپورٹ کے مطابق، ان پابندیوں نے لوگوں کے معاشی اور سماجی حقوق کے حصول میں سنگین اثرات چھوڑے ہیں۔ انہوں نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ : اس قسم کے منظم اقدامات ،انسانی حقوق کے اداروں کے اعلامیہ سے متصادم ہونے کے علاوہ، خواتین کے حقوق کی منظم خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔ لہذا خواتین کی حیثیت سے متعلق کمیشن میں ایران کی رکنیت منسوخ کرنے کی درخواست، یعنی مشترکہ کوششوں اور تجربات کے بین الاقوامی پلیٹفارم، کو جسے صرف خواتین کے حقوق کے تحفظ کے مطابق نہیں سمجھا جائے گا ، بلکہ یہ پلیٹ فارم خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی کا باعث ہے۔
عالمی سطح پر خواتین کے ساتھ باھمی تعاون کے لئے تیاراور ویمن اتھارٹی کمیشن میں ایران کی رکنیت منسوخ کرنے کی تجویز کی عدم منظوری کے لئے پر امید
بین الاقوامی مشیر صدر مملکت برائے خواتین اور خاندانی امور نے اس بات کی تاکید کی کہ ہم امید کرتے ہیں کہ اس جانبدارانہ تجویز، کی منظوری نہ دے کر غیر سیاسی ماحول میں دنیا کی خواتین کے درمیان مثبت اور تعمیری بات چیت اور تعاون کی غیر سیاسی اور منصفانہ فضا کو فراہم کیا جائے گا، کیونکہ اس کمیشن کے لازم اقدامات میں سے یہ ضروری ہے کہ مختلف ممالک کی خواتین کو ان کی تہذیبی دینی اور سیاسی خصوصیات کے پس منظر میں، عادلانہ اور منصفانہ فضا میں کامیاب تجربات کے تبادلہ کا موقع فراہم کرتے ہوئے،ان کی ترقی اور پیشرفت کی راہوں کو کھولا جائے۔
ڈاکٹر کریمی نے اپنی تقریر کے آخر میں، خواتین کی حیثیت سے متعلق اقوام متحدہ کے کمیشن کو مشورہ دیا کہ ہم اقوام متحدہ میں خواتین کی حیثیت سے متعلق کمیشن کو سختی سے تاکید کرتے ہیں کہ وہ خواتین کے حقوق کے معاملے میں غیر جانبداری اور حقیقی تشویش ثابت کرنے کے لیے سیاسی آلہ کار بننے سے پرہیز کرے۔اور بین الاقوامی دستاویزات میں موجود معیارات کے مطابق خواتین کے حقوق کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے غیر جانبدارانہ اور عالمگیر نگرانی کا طریقہ کار اپنائے ۔ حالیہ دہائیوں کے دوران، انسانی حقوق بالخصوص خواتین کے حقوق کے زمرے میں دوہرے معیارات، متعصب سیاسی نقطہ نظراور مفروضہ طریقہ کار کی ہمہ گیریت کو عالمی برادری پر زبردستی مسلط کرکے اورثقافتی تنوع اور اختلاف کو نظر انداز کیاگیاہے، منبع /ایسنا