id: 16689
1401/9/3 01:21

دہشت گردوں کے حامی ،انسانی حقوق پر تبصرہ کرنے کے اہل نہیں ہوسکتے

انسانی حقوق کی اسمبلی کے ایک خصوصی اجلاس میں، بین الاقوامی مشیر صدر مملکت برائے خواتین اور خاندانی امورنے کہا کہ جرمنی نے صدام حکومت کو  کیمیائی ہتھیاروں دیئے، جسے ایرانی عوام کے خلاف استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں ایک لاکھ سے زیادہ ایرانی عوام  شہید اور زخمی ہوئے۔ لہذا انسانی حقوق پر مبنی اس ملک کے دعوے اور ہمدردیاں غیر حقیقی اور  منافقت پر مبنی ہیں

 بین الاقوامی مشیر صدر مملکت برائے خواتین اور خاندانی امور؛ڈاکٹر خدیجہ کریمی نے اس اجلاس میں اپنے خطاب میں  کہا کہ  معتبر اعداد و شمار اور رپورٹوں کے مطابق ایران ؛صحت، تعلیم، شرح خواندگی، معیشت اور کھیل کے میدان میں، خواتین کی بھرپور شرکت، کردار اور پیشرفت کے اعتبار سے کامیاب ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔

ڈاکٹر کریمی نے مزید کہا: وہ ممالک جو انسانی حقوق کے علمبردار ممالک ،جنہوں نے آج اس خصوصی اجلاس کو منعقد کیا ہے،  ایرانی عوام کے خلاف ظالمانہ پابندیاں،لگا کر ان کے بنیادی حقوق بالخصوص ایران میں خواتین، لڑکیوں اور بچوں کے حقوق کی  سنگین اور گھمبیر خلاف ورزیوں کے مرتکب ہوتے رہے ہیں اور اس طرح کے انسان دشمنی پر مبنی  اقدامات کے ساتھ وہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔ انہوں نے، گذشتہ چالیس سالوں میں 17 ہزار سے زائد اندرون ملک ایرانیوں کو شہید کرنے والے مختلف دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں دے کر اس بات کا ثبوت دیا ہے کہ ان کے انسانی حقوق کے دعوے محض فریب ہیں۔ اپنے گذشتہ سیاہ کارناموں کے ساتھ، یہ ممالک، دیگر ممالک کو، انسانی حقوق کے لئے  رہنما اصول فراہم کرنے کے لیے اخلاقی طور پر  ہرگز لیاقت نہیں رکھتے ہیں۔

بین الاقوامی مشیر صدر مملکت برائے خواتین اور خاندانی امور؛ نے محترمہ مہیسا امینی کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: اس واقعے کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران کے تمام اعلیٰ حکام اور متعلقہ اداروں کی جانب سے فوری طور پر سنجیدگی سے، اس واقعے کے تمام پہلوؤں کی چھان بین کے لیے ضروری اقدامات اورفوری کارروائیاں عمل میں لائی گئیں ۔ لیکن بدقسمتی سے، مغربی حکام کی غلط معلومات کی بنیاد پر، نیز میڈیا کے جھوٹ پر مبنی تبصروں،جلد بازیوں اورمداخلتوں نے ابتدائی  پرامن احتجاج کو  ایران میں، تشدد اور اس کے فوراً بعد دہشت گردانہ کارروائیوں کی جانب دھکیل دیا اور جس کے  سبب؛ ہنگامہ آرائی،فسادات اور عام لوگوں، پولیس اہلکاروں اور محافظوں کو سنجیدہ جانی و مالی نقصان پہنچایا گیا جبکہ سرکاری اور نجی املاک کو بھی  نقصان سے دوچار ہونا پڑا۔

اس ملاقات میں ڈاکٹر کریمی نے، امریکہ اور انگلینڈ سے کچھ فارسی زبان  میڈیا اور ٹی وی چینلز کے تباہ کن کردار کی بھی نشاندہی کی۔ انہوں نے بیان کیا: تشدد اور فسادات کو ہوا دینے میں ان ذرائع ابلاغ کا نمایاں کردار رہا ۔ انہوں نے کھلے عام تشدد اور انتشار کو فروغ دی۔یہاں تک کہ مولوٹوف کاک ٹیل( Molotov cocktail) بنانے کا طریقہ بھی سکھایا۔ انسٹاگرام، ٹویٹر اور واٹس ایپ جیسے نیٹ ورکس بھی جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے واقعات کے بارے میں جعلی خبروں کی اشاعت کی بدولت، عوامی جذبات کو بھڑکانے اور تشدد اور فسادات کو تیزتر کرنے کی کوشش میں پوری طرح شریک رہے۔جیسا کہ ابھی تک وہ اپنی پرتشدد اور اشتعال انگیز کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اپنی تقریر کے ایک اور حصے میں انہوں نے کہا: جو لوگ انسانی حقوق کے چیمپئن ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، انہوں نے جانبدارانہ پابندیاں مسلط کرنے اور ان پر عمل درآمد اور ایرانی خواتین اور بچوں کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں کی حمایت کرکے ایرانی خواتین اور بچوں کو ہی  نشانہ بنایا ہوا  ہے۔ بعض  ممالک میں خواتین اور بچوں پر منظم تشدد، پناہ گزین خواتین کو قبول کرنے کی ممانعت، یمن اور فلسطین میں خواتین کی صورتحال پرخاموشی، شھیدہ  شیریں ابوعاقلہ کا قتل، اورکینیڈا میں مقامی بچوں کی اجتماعی قبروں کی موجودگی پر خاموشی ، کچھ ایسی مثالیں ہیں جو خواتین کے حقوق کے حوالے سے ان ممالک کے غیر معتبر  دعووں کی قلعی کھول دیتی ہیں۔ آخر میں ڈاکٹر کریمی نے کہا: تمام غیر ملکی مداخلتوں اور ایران کو غیر مستحکم کرنے کی مایوس کن سازشوں باوجود،  عظیم ایرانی قوم نے 4 نومبر کو سڑکوں پریکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ،لاکھوں کی تعداد میں شرکت کرکے اپنے دشمنوں کو ایک بار پھر مایوس کردیا۔