id: 16691
1402/3/12 01:34

تشدد کے مقابلے میں (خواتین کے ذاتی تحفظ کے لئے) قانونی سطح پر مہیا اہم ترین ضامنی ذمہ داریاں

 1۔بنیادی قوانین، پالیسیوں اور ترقیاتی پروگراموں میں خواتین کے ذاتی تحفظ کی فراہمی سے متعلق یقینی ضمانتیں

• تمام افراد (بشمول خواتین) کی؛ جان، مال، رہائش اور ملازمت،نقصان سے  محفوظ ہیں۔ (اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کا آرٹیکل 22، جسے  1979 میں منظور کیا گیا، 1989 میں ترمیم شدہ)

• عقیدوں میں تفتیش کی ممانعت (اسلامی جمہوریہ ایران کےآئین کا آرٹیکل 23،جسے  1979 میں منظور کیا گیا، 1989 میں ترمیم شدہ)

• نجی رازداری کے معاملات میں مداخلت ممنوع ہے جیسے؛ ذاتی تفتیش، خطوط کی عدم ترسیل، تلفن ریکارڈنگ اور اس کا انکشاف، ٹیلی گرافک اور ٹیلیکس کمیونیکیشنز کا انکشاف، سنسر شپ، نان کمیونیکیشن اور ان کی عدم فراہمی، گفتگو کی سماعت اور کسی بھی قسم کی نگرانی وغیرہ(اسلامی جمہوریہ ایران کےآئین کا آرٹیکل 25 ، جسے  1979 میں منظور کیا گیا، 1989 میں ترمیم شدہ) 

• گرفتاری اور نظر بندی سے آزادی کا حق (اسلامی جمہوریہ ایران کےآئین کا آرٹیکل 32 ، جسے  1979 میں منظور کیا گیا، 1989 میں ترمیم شدہ) 

 

• جرم اور سزا کی قانونی حیثیت کا معین ہونا (اسلامی جمہوریہ ایران کےآئین کا آرٹیکل 36، جسے  1979 میں منظور کیا گیا، 1989 میں ترمیم شدہ) 

• معصوم شہری ہونے کا بنیادی حق (اسلامی جمہوریہ ایران کےآئین کا آرٹیکل 37، جسے  1979 میں منظور کیا گیا، 1989 میں ترمیم شدہ)

•  ملزم اور سزا یافتہ کی ھتک  عزت اور ان پر تشدد کی ممانعت (اسلامی جمہوریہ ایران کےآئین کا آرٹیکل 38,39، جسے  1979 میں منظور کیا گیا، 1989 میں ترمیم شدہ)

2. اسلامی کونسل کی جانب سے منظورکردہ  قوانین میں خواتین کے ذاتی تحفظ کی فراہمی سے متعلق ضامنی ذمہ داریاں

• تشدد کا شکار خواتین کے لیے طلاق کے حق کی منظوری (1928 میں منظور شدہ سول قانون کی دفعہ 1130 اور اس کے بعد کی ترامیم)

•  خواتین کے سماجی اور ثقافتی نقصانات سے نمٹنے کے لیے، ان کی روک تھام اور انہیں بااختیار بنانا اور جسمانی، ذہنی، ماحولیاتی صحت اور خواتین اور بچوں کی مناسب خوراک کے مسائل سے آگاہی دینا (حکمت عملی 1، خواتین اور لڑکیوں کے فرصت کے اوقات  کو بہتر بنانے کے لیے پالیسیاں جسے انقلاب کی سپریم کونسل کے شعبہ ثقافتی امور نے 2002 میں منظور کیا)

• انسانی اسمگلنگ کی شکل میں خواتین کا استحصال،جرم ہے (انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کا قانون جسے 2004 میں منظور کیا گیا)

• زندگی کے تمام مراحل میں خواتین کی جسمانی، ذہنی اور سماجی صحت کو یقینی بنانے اور انہیں خاندان کے افراد کی جانب سے ممکنہ جارحیت سے بچانے کی ضرورت (خاندان کی تشکیل کے مقاصد اور اصولوں اور ان کے استحکام اور ترقی کا  پیراگراف 4 اور 6، سپریم کونسل کے شعبہ ثقافتی کی جانب سے 2005 میں منظور شدہ)

• بے سہارا اور  اور بدکردار افراد کے زیر کفالت لڑکیوں،  کا سرکاری اداروں کی مدد سے لطف اندوز ہونے کا حق (2006 میں منظور شدہ، ملکی اور بین الاقوامی شعبوں میں خواتین کے حقوق اور ذمہ داریوں کے تحفظ کے قانون کا سیکشن 19)

• جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی  کمزوریوں کی شکار  خواتین کا،  طاقت کی بحالی اور مناسب مدد حاصل کرنے کا حق (2006 میں منظور شدہ، ملکی اور بین الاقوامی شعبوں میں خواتین کے حقوق اور ذمہ داریوں کے تحفظ کے قانون کا سیکشن 58)

• منگنی ٹوٹنے  کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کا ہرجانہ وصول کرنے کے امکانات ( فیملی پروٹیکشن قانون کا آرٹیکل،1,اور 4، 2012 میں منظور شدہ)

• مجاز عدالت سے اجازت نہ ہونے کی صورت میں اور بہتر مفادات کی مخالفت کرتے ہوئے، 13 سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادی کو جرم قرار دینا  ( فیملی پروٹیکشن قانون کا آرٹیکل،50، 2012 میں منظور شدہ)

• نکاح، اس کی تنسیخ اور تحلیل کو رجسٹر کروانا  شوہر کی ذمہ داری ہے ( فیملی پروٹیکشن قانون کا آرٹیکل 20،  2012 میں منظور شدہ)

•شوھر کی جانب سے شادی،اس کی منسوخی اور خاتمہ کا عدم اندراج،جرم تصور کیا جائے گا ( فیملی پروٹیکشن قانون کا آرٹیکل 49 ، 2012 میں منظور شدہ)

• شادی کے وقوع پذیر ہونے سے انکار جرم ہے ( فیملی پروٹیکشن قانون کا آرٹیکل 52 ، 2012 میں منظور شدہ)

• حاملہ خواتین کی ایذارسانی کی ممانعت (اسلامی تعزیرات ایران کی شق 662،  2013 میں منظور شدہ)

• حالت خواب، بے ہوشی اور نشے کی حالت میں عورت کے ساتھ اس کی رضامندی کے بغیر جنسی تعلقات قائم کرنا (اسلامی تعزیرات ایران کی شق 224، تبصرہ 2، 2013 میں منظور شدہ)

• نابالغ لڑکیوں کو فریب  دھمکی یا اغوا کے ذریعے ان سے جنسی تعلقات قائم کرنے کی ممانعت (اسلامی تعزیرات ایران کی شق 224، تبصرہ 2، 2013 میں منظور شدہ)

• شوہر کی طرف سے عورت پر ،ناجائز تعلقات منسوب کرنے کی ممانعت (اسلامی تعزیرات ایران کا آرٹیکل 261، شق ت، 2013 میں منظور شدہ)

•کنواری لڑکیوں کی اجازت کے بغیر ،ان کی بکارت زائل کرنے کی  ممانعت (اسلامی تعزیرات ایران کا آرٹیکل 658، 2013 میں منظور شدہ)

•خواتین کی جنسی معذوری یا ان می عیب ایجاد کرنا جرم ہے (اسلامی تعزیرات ایران کا آرٹیکل 664، 2013 میں منظور شدہ)

• کسی عورت میں جنسی بیماری کا باعث بننے والے جرم کے ارتکاب کی صورت میں خواتین کے لیے ہرجانے کے حصول کے امکانات (اسلامی تعزیرات ایران کا آرٹیکل 660، 2013 میں منظور شدہ)

•عورت کی چھاتی کو کاٹنا، اسے تباہ کرنا یا اس کی دودھ پیدا کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرنا جرم ہے (اسلامی تعزیرات ایران کا آرٹیکل 669،،اور670، 2013 میں منظور شدہ)

• عورت کی حاملہ ہونے کی صلاحیت کو نقصان پہنچانا جرم ہے (اسلامی تعزیرات ایران کا آرٹیکل 706، 2013 میں منظور شدہ)

• عورت میں جنسی تعلق کی طاقت کو مکمل ختم کرنا جرم ہے (اسلامی تعزیرات ایران کا آرٹیکل 707، 2013 میں منظور شدہ)

• عورت کی ماہواری کی عادت کے امکان کو ختم کرنا جرم ہے

اسلامی تعزیرات ایران کا آرٹیکل 708،  2013 میں منظور شدہ)

• تربیت یافتہ خواتین افسران کے ذریعے، ملزم خواتین سے پوچھ گچھ اور تفتیش کرنا مجاز ہے (مجرمانہ سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون  کا آرٹیکل 42 ،جسے 2013 میں منظور کیا گیا ،2015  میں ترمیم شدہ)

• خواتین کے حقوق کے شعبے میں سرگرم غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے تشدد کا شکار خواتین کے حق میں مقدمہ دائر کرنے اور ان کے تحفظ اور عدالتی حکام میں مذکورہ بالا مقدمہ کی پیروی کرنے کا امکان (مجرمانہ سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون  کا آرٹیکل 66 ،جسے 2013 میں منظور کیا گیا ،2015  میں ترمیم شدہ)

• عدلیہ میں، متعلقہ حکومتی اور عدالتی اداروں پر مشتمل افراد کے ذریعے جرم کی روک تھام اور کمی کے لئے مناسب اقدامات اور احتیاطی تدابیر کا انتخاب، نیز متعلقہ ماہرین اور نظریات کے حامل افرادکی جانب رجوع کرنا (2013 میں منظور شدہ جرائم کی روک تھام کا قانون)

•تیزاب چھڑکنے کے مجرموں کے لئے شدید سزا کا تعین اور تیزاب سے متاثرہ افراد کی حمایت، اس قانون کے آرٹیکل 5 کے مطابق، اگر مجرم تفتیشی جج کے ذریعے طے شدہ علاج کے اخراجات ادا کرنے کے واقعی قابل نہیں ہے، تو متعلقہ اخراجات جسمانی چوٹ کے انشورنس فنڈ سے ادا کیے جائیں گے۔تیزاب کے  چھڑکاؤ کی شدید سزائیں اور متاثر ین کی حمایت کا قانون، جسے 2019  میں منظور کیا گیا

• اولاد (اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکیوں)کے معاملے میں والدین کی ایسی مسلسل شدید کوتاہی، جو جنسی آزار رسانی

کا باعث بنے جرم ہے (نوعمروں اور بچوں کے تحفظ سے متعلق قانون کا آرٹیکل،9، 2020 میں منظور شدہ)

• بلواسطہ اور بلاواسطہ پر محارم میں شامل بچوں(18 سال سے کم عمر لڑکیوں) کے ساتھ جنسی زیادتی اور ایذارسانی جرم ہے (نوعمروں اور بچوں کے تحفظ سے متعلق قانون کا آرٹیکل،10 کی شق نمبر 1 الی 4 ، 2020 میں منظور شدہ)

• جو افراد بچے (18 سال سے کم عمر کی لڑکیوں) کے سرپرست یا ولی کا عہدہ رکھتے ہیں یا کسی بھی حوالے سے ان  کی دیکھ بھال کے ذمہ دار ہیں،بلواسطہ اور بلاواسطہ  جنسی زیادتی یا تشدد. فحش یا بیہودہ آڈیو، ویژول کاموں کی فروخت اور برقراری ، آمدنی کا ذریعہ بنانا ، برآمد کرنا، نقل کرنا، شائع کرنا، پیشکش کرنا، تجارت کرنا یا اپ لوڈ کرناوغیرہ،اس کے علاوہ  فحش یا بیہودہ مواد یا کام جس میں بچوں سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے، یا ان کی نقل و حمل اور دیکھ بھال، سائبر اسپیس میں بچے کے ساتھ بات چیت کرنا۔ جنسی زیادتی یا ناجائز جنسی تعلق وغیرہ کا مرتکب ہونا، ایسے افراد ،جرم کے علاوہ شدید سزا کے  حقدار قرار پائیں گے۔(نوعمروں اور بچوں کے تحفظ سے متعلق قانون کا آرٹیکل،10 اور آرٹیکل 22کی شق الف ، 2020 میں منظور شدہ)

• خطرے کے شکار بچے ( اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکیوں)،کے فوری اور بلا تاخیر تحفظ کے لیے، انہیں خطرے کے مقام سے، محفوظ مقام پر منتقلی کا عدالت کی جانب سے حکم نامہ جاری کیا جائے گا (نوعمروں اور بچوں کے تحفظ سے متعلق قانون کا آرٹیکل، 35 ، 2020 میں منظور شدہ)

• بچوں کو والدین کی  سرپرستی کی فراہمی یا ملاقات کے حق سے محرومی ،عدالتی حکم پر مبنی ہے (نوعمروں اور بچوں کے تحفظ سے متعلق قانون کا آرٹیکل، 42 ، 2020 میں منظور شدہ)

• والدین یا قانونی سرپرستوں کی جانب سے بچوں (18 سال سے کم عمر کی لڑکیوں) کو تعلیم کے حصول سے روکنا، بچے کو گھر یا اسکول سے بھاگنے کی دھمکی دینا یا اس کی حوصلہ افزائی کرنا، جسمانی تشدد سے لاپرواہی،بلواسطہ اور بلاواسطہ طور پر جنسی زیادتی، بچوں کی اسمگلنگ، دوسروں کے سامنے ان کو  پیش کرنا ، انہیں کنٹرول میں لینا ، فحاشی یا جنسی استحصال کے لیے بچے کو زبردستی یا ملازمت پر رکھنا، بچے کی خرید و فروخت، پروڈکشن، پروڈکشن، تقسیم، منتقلی ، بیہودہ بصری اور صوتی کاموں کو دکھانے اور فروخت کرنے میں بچے کا استعمال بچوں کی خودکشی کے مواقع کی فراہمی، چائلڈ لیبر کا معاشی استحصال اور بچوں کو نشہ آور مصنوعات کی فروخت وغیرہ جرم کے دائرے میں داخل ہیں (نوعمروں اور بچوں کے تحفظ سے متعلق قانون کا آرٹیکل 7 الی 16 ، 2020 میں منظور شدہ)

• بڑی عمر کے افراد کے ذریعے کم عمروں (18 سال سے کم عمر کی لڑکی)کے ساتھ  آن لائن یا ورچوئل نیٹ ورکس اور  سائبر اسپیس میں جنسی ہراسانی یا غیر قانونی جنسی تعلقات کے مقصد سے  گفتگو (نوعمروں اور بچوں کے تحفظ سے متعلق قانون کا آرٹیکل 9 اور 10 ، 2020 میں منظور شدہ)

• بچوں (18 سال سے کم عمر کی لڑکیوں) کی صحت، تعلیم، اخلاقیات کے لیے نقصان دہ کسی بھی پروگرام یا پروڈکٹ کی تیاری، نشریات یا تشہیر کو روکنا ٹی وی اور  ریڈیو کے ادارے کے لئے ضروری ہے (نوعمروں اور بچوں کے تحفظ سے متعلق قانون کا آرٹیکل 6 کی شق ح کا چوتھا حصہ ، 2020 میں منظور شدہ)

• بچوں (18 سال سے کم عمر کی لڑکیوں) کے خلاف ورچوئل تشدد سے نمٹنا اور سائبر اسپیس میں بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف ہنگامی رابطہ لائنیں اور قانونی اقدامات لازمی ہیں (ورچوئل اسپیس میں،بچوں اور نوعمروں کے تحفظ سے متعلق دستاویز، 2021 میں منظور شدہ)

حراستی مراکز میں تشدد کا شکار بچوں (18 سال سے کم عمر کی لڑکیوں) کی قانونی امداد اور دیگر معاون خدمات تک رسائی کو یقینی بنانا (نوعمروں اور بچوں کے تحفظ سے متعلق قانون کا آرٹیکل 6 کی شق الف  کا پہلا حصہ ، 2020 میں منظور شدہ)

• نوعمروں اور بچوں کے تحفظ کے لئے ،ان کے متعلق جرائم اور کیسز سے نمٹنے کے لئے خصوصی عدالتی شعبوں کا قیام

(نوعمروں اور بچوں کے تحفظ سے متعلق قانون کا آرٹیکل 28 ، 2020 میں منظور شدہ)

 

3۔ قوانین کی سطح پر خواتین کے نجی تحفظ سے مربوط آئینی اقدامات

 

• معاشرہ میں خواتین اور لڑکیوں کو پیش آنے والے نقصانات

سے نمٹنے کے لئے خصوصی آئین نامہ بنانے جیسے اقدامات (مؤرخہ 24،5،1992)

•غیر سرکاری رہائش گاہ میں خواتین کے لئے اختیارات کا حصول (غیر سرکاری رہائش گاہوں میں خواتین کو با اختیار بنانے سے متعلق آئین نامہ کی شق 3،وزراء کمیٹی میں،2003 میں منظور شدہ )

•معاشرتی  آفات کے موقع پر فوری اقدامات سے متعلق پیشگی  پروگرام ( ریاستی فلاحی ادارہ، 2014 )

 

• بچوں اور نوعمروں کے حقوق کے لیے جامع ایکشن پلان، جس کے مطابق خطرے میں پڑنے والے بچوں کی خصوصی دیکھ بھال کو بڑھانے اور ان کے لیے نقصان دہ طریقوں سے بچنے اور بچوں کے لیے دوستانہ رسوم و روایات کو مضبوط کرنے کی حکمت عملی مرتب دی گئی ( قومی اسناد )2025 کی پالیسیوں اور اقدامات،جنھیں عدالت نے 2016 میں منظور کیا

• "خواتین کا ورکنگ گروپ، سیکورٹی اور انتظامی تحفظ میں بہتری اور شناخت کے عمل میں خواتین کے کردار اور مقام کی تشکیل بدعنوانی کی شناخت، روک تھام، کنٹرول اور روک تھام کے عمل میں کمیونٹی کے معیارات سے بدسلوکی کے معاملات میں بدعنوانی کی روک تھام، انسداد، کنٹرول اور نگرانی اور حمایت، انتظامی، اقتصادی اور اخلاقی ترقی،تمام جہات کے اعتبار سے آئین کے قیام کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچے کو اکٹھا کرنے کے بارے میں سوچنا،من جملہ  بدعنوانیوں سے نمٹنے اور اس کے مقابلے میں تحفظ کی فراہمی (خواتین کے ورکنگ گروپ کے قیام کی منظوری، سیکیورٹی اور انتظامی تحفظ میں بہتری اور بدعنوانیت مخالف  مہم، نیشنل ہیڈ کوارٹر آف وومن اینڈ فیملی، میں 28-12-2022 میں منظور شدہ)

 

 4.  ہنگامی بنیادوں پر،سماجی خدمات کی فراہمی

 

سماجی ایمرجنسی پروگرام انفرادی، خاندانی اور سماجی بحران (سوشل ایمرجنسی سینٹر)، سوشل ایمرجنسی ہاٹ لائن (123)، سوشل ایمرجنسی موبائل ٹیم اور سوشل سروس بیس (پسماندہ اور کمزور علاقوں میں) میں مداخلت کا ایک مجموعہ ہے۔ اس پروگرام میں، ایک اہم خصوصیت سماجی خدمات کی فراہمی، یعنی تخصص، بروقت اور دستیابی پر غور کیا جاتا ہے؛ اس لحاظ سے، مفت ٹیلی فون خدمات فراہم کرنے کے لیے درج ذیل لائنوں کو ڈیزائن کیا گیا ہے:

1.ایمرجنسی کی صورت میں متاثرہ خواتین کے معاملات میں بروقت مداخلت کے لئے ایمرجنسی ھاٹ لائن نمبرز ۔123

2.مفت مشوروں کے لئے فلاحی ریاستی ادارے کا نمبر 1480

3.منشیات کی روک تھام کے لئے،فلاحی ریاستی ادارے کا نمبر  09628

انٹرنیٹ پر مشورے کے لئے دستیاب ویب سائٹ

ir.behzisti.123://Http.

 

5.خواتین کے ذاتی تحفظ کے قوانین کے نفاذ کی سہولیات

• عوام کی جانب سے ،انتظامی، عدالتی اور قانون ساز اداروں کے کام کاج کی نگرانی کرنے اور ان کی کارکردگی کی اسلامی کونسل کو رپورٹ پیش کرنے کا حق  (اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کا آرٹیکل 90، 1979  میں منظور شدہ اور 1989 میں ترمیم شدہ)

• معاملات کی اچھی روانی اور سرکاری اداروں میں قوانین کے درست نفاذ کے حوالے سے پورے ملک کے معائنہ کاروں کے لیے نگرانی کے فرائض کے  امکانات (اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کا آرٹیکل 174، 1979  میں منظور شدہ اور 1989 میں ترمیم شدہ)

• انفرادی اور سماجی حقوق کے تحفظ اور عدلیہ کی جانب سے انصاف کے حصول کے فرض کی توقع ۔اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کا آرٹیکل 156، جسے 1979 میں منظور کیا گیا، اور 1989 میں ترمیم کیا گیا۔ اس اصول کے نفاذ کے سلسلے میں، ہائی کورٹس اور قانونی اور فوجداری عدالتیں، قوانین میں فراہم کردہ مخصوص ڈویژنوں کے مطابق، جیسے دیوانی پروسیجر قانون، فوجداری قانون اور انتظامی انصاف کے عدالتی قانون، حقوق کی شکایات موصول کرکے نجی افراد اور اداروں کی خلاف ورزیاں ،تحقیقات، فیصلے کے اجراء اور  نفاذ، جیسے معاملات میں شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے ذمہ دار ہیں۔

• شہریوں کی جانب سے شکایات موصول ہونے پر ،عدالت کی طرف سے شہریوں کے حقوق کے خلاف حکومتی فرمانوں اور قوانین کی منسوخی کا امکان (اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کا آرٹیکل 170، 1979  میں منظور شدہ اور 1989 میں ترمیم شدہ)

• حکومتی اداروں یا ان سے وابستہ کارکنوں کی جانب سے، اسلامی جمہوریہ ایران کے قوانین میں موجود شہری حقوق کو کسی بھی فرد سے چھیننا یا  اسے محروم کرنا ایک جرم ہے(سزاؤں اور جرمانے سے متعلق قوانین کا آرٹیکل570، 1996 میں منظور شدہ)

•صدر مملکت  سے اجتماعی آزادی اور حقوق کے متعلق بازخواست کی سہولت (فروری 2023)

6. ملک کے مالیاتی قوانین اور ضوابط میں خواتین کے حقوق

•ملک کی معاشی پالیسیوں میں خواتین کے حقوق کی بحالی اور تحفظ کی فراہمی کے لئے،ملک کے پبلک اکاؤنٹنگ قانون میں موجود معیار کے مطابق، مخصوص کریڈٹ لائنز (بجٹ) کی فراہمی،جسے  ملک کے پبلک اکاؤنٹنگ قانون میں موجود معیار کے مطابق 1987 میں منظور شدہ کیا گیا، اور  بعد میں ان میں ترامیم کی گئیں۔ ملک کے بجٹ پروگرام کا قانون اسلامی کونسل میں وزراء کی کونسل کی تجویز سے سالانہ منظور کیا جاتا ہے، اور اس کے ذریعے گورننگ باڈیز کے لیے ضروری بجٹ اور مالیاتی کریڈٹ کا تعین کیا جاتا ہے، اور اس کے تحت بجٹ لائن میں، متعلقہ ادارے کی سرگرمی کی قسم کے مطابق، مختلف امور کی وضاحت کی جاتی ہے اور اس کے لیے عزم اور ضروری مالی اعتبار کا اندازہ لگایا جاتا ہے، ان مسائل میں خواتین اور خاندان سے متعلق مختلف شعبے شامل ہیں۔

•  ایڈوانس فنڈز کے استعمال کی ضمانت کے لیے وزارتوں، اداروں، ریاستی کمپنیوں اور دیگر ایگزیکٹو باڈیز کے تمام کھاتوں کا جائزہ لینے کے لیے ملک کے اکاؤنٹس کی عدالت معائنہ کرتی ہے اور شہریوں کو ایک تشخیصی رپورٹ پیش کرتی ہے (اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کا آرٹیکل 55، 1979  میں منظور شدہ اور 1989 میں ترمیم شدہ)