id: 16692
1402/3/12 01:41

قانون سازی کی سطح پر خواتین کے سماجی تحفظ سے متعلق سب سے اہم ضمانتیں

1۔ بنیادی قوانین، پالیسیوں اور ترقیاتی پروگراموں میں خواتین کے سماجی تحفظ کی فراہمی کے حوالے سے ضمانتوں کے متوقع احتمالات

 •      خوشحالی اور آسائش کی فراہمی ،غربت کے خاتمے اور غذائیت، رہائش، روزگار، اور صحت کے شعبوں میں محرومیوں کے خاتمے  کے لیے حکومت کا عزم،اور (بشمول خواتین) ہر کسی کے لیے انشورنس کی توسیع۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کے آرٹیکل 3،پیراگراف 12، 1979 میں منظور کیا گیا، 1989 میں ترمیم شدہ؛

•    شہریوں کا حق (بشمول خواتین) ریٹائرمنٹ، بے روزگاری، بڑھاپا، معذوری، بے گھر ہونے ،سفر میں محرومی، حادثات اور مشکلات، صحت اور طبی خدمات کی ضرورت اور انشورنس کی صورت میں طبی دیکھ بھال کے حوالے سے سماجی تحفظ سے لطف اندوز ہونے کا حق؛ اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کا آرٹیکل 29، 1979 میں منظور کیا گیا، 1989 میں ترمیم شدہ)

•   عورت کی شخصیت کی نشوونما  اور اس کے مادی اور روحانی حقوق کو زندہ کرنے کے لئے سازگار حالات پیدا کرنا ،  خاص طور پر دوران حمل اور بچے کی پرورش کے زمانے میں،ماؤں کی مدد کرنا، یتیم بچوں کی کفالت، اور بیوہ بوڑھی اور بے گھر  عورتوں کے لیے خصوصی انشورنس سسٹم قائم کرنا   اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کے آرٹیکل 21 کی شق 1، 2 اور  4، 1979 میں منظور کیا گیا، 1989 میں ترمیم کیا گیا

 

•خاندان کی تشکیل کے لیے، بنیادی ضروریات بشمول رہائش، خوراک، لباس، صحت، علاج، تعلیم جیسی  سہولیات کی فراہمی ہر ایک کے لیے (بشمول خواتین) اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کے آرٹیکل 43کی شق 1، 1979 میں منظور کیا گیا، 1989 میں ترمیم کیا گیا

• ہر ایک کو (بشمول خواتین) صحت، بہبود، خوراک، حفاظت، سماجی تحفظ، مساوی مواقع اور آمدنی کی تقسیم سے فائدہ پہنچانا ۔(2003 ،2025 کے افق میں اسلامی جمہوریہ ایران کا  دستاویزی ویژن )

• ماؤں کے لیے مناسب اور مخصوص سہولیات کی فراہمی؛ خاص طور پر حمل اور دودھ پلانے کے دوران اور  پیدائش کے اخراجات اور مردوں اور عورتوں کے لیے بانجھ پن کے علاج کی انشورنس کوریج اور متعلقہ امدادی اداروں  کو مضبوط بنانا (عام آبادی کی پالیسیوں کا پیراگراف 3، 2014 میں نشر ہوا)

• معمر افراد (بشمول معمر خواتین) کی صحت کو یقینی بنانا اور خاندان میں ان کی نگھداشت کے لیے ضروری حالات پیدا کرنا اور مناسب شعبوں میں اس عمر کے افراد کے تجربات اور صلاحیتوں سے مستفید ہونے کے لیے ضروری میکانزم کے مواقع کی فراہمی (عام آبادی کی  پالیسیوں کا پیراگراف 7، 2014 میں نشر ہوا)

• ملک کے سماجی تحفظ کے جامع، مربوط، شفاف، موثر اور کثیرالجہتی نظام کا قیام (اسلامی جمہوریہ ایران کے چھٹے ترقیاتی پروگرام، 2015 کی عمومی پالیسیوں کا پیراگراف 40)

• لوگوں کے لیے بنیادی سماجی تحفظ کے بیمہ کے ڈھانچے کی اصلاح اور اس کے معیار کو بہتر بنانا

 (اسلامی جمہوریہ ایران کے چھٹے ترقیاتی پروگرام، 2015 کی عمومی پالیسیوں کا پیراگراف 42)

 • کاشت کاری اور  اور آبادی کی عمومی پالیسیوں کے نفاذ کے لیے ضروری تہذیبی بنیادوں کی تخلیق اور  انتظامات (اسلامی جمہوریہ ایران کے چھٹے ترقیاتی پروگرام کی عمومی پالیسیوں کا پیراگراف 45، 2015)

• خواتین کی سرپرستی میں زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے قانونی، اقتصادی اور ثقافتی مدد (عام خاندانی پالیسیوں کا پیراگراف 14، 2016  میں نشر ہوا)

• خواتین سربراہوں کے لئے ترجیحی بنیادوں پر کاروباری ماحول، روزگار، ورچوئل اسپیس وغیرہ کی فراہمی اور  ملکی معیشت کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے کی کارکردگی میں بہتری کی حکومتی  ذمہ داری ، ادائیگی کا منصفانہ نظام اور امتیازی سلوک کا خاتمہ، پسماندہ اور غریبوں کو بااختیار بنانے جیسے موارد میں ان  کو ترجیح دینا (اسلامی جمہوریہ ایران کے اقتصادی، سماجی اور ثقافتی ترقی کے چھٹے منصوبے کے قانون کے آرٹیکل 80 کی شق ت) (2016 میں منظور شدہ 2017 الی 2021)

• حکومت کی جانب سے ملک کی پوری آبادی کے لیے لازمی ہیلتھ انشورنس اور فی کس انشورنس فیس کے لیے سبسڈی کی موجودگی اور اس حق کو گھرانوں کی خواتین  سربراہوں تک بڑھانے کا مطالبہ  (اقتصادی، سماجی اور ثقافتی ترقی کے چھٹے پروگرام کے قانون آرٹیکل 70) اسلامی جمہوریہ ایران ، 2016 میں منظور شدہ 2017 الی 2021)

•                حکومت اس بات کی پابند ہے کہ وہ گھرانوں کی سربراہی کرنے والی خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کرے (اسلامی جمہوریہ ایران کے اقتصادی، سماجی اور ثقافتی ترقی کے چھٹے پروگرام 1396-1400 کے قانون کے آرٹیکل 80 کی شق  ت، 2016 میں منظور شدہ 2017 الی 2021 )

• تعاون، محنت اور سماجی بہبود کی وزارت ، کم از کم تین بچوں والی گھریلو خواتین کے لیے سماجی بیمہ فراہم کرنے کی پابند ہے (اسلامی جمہوریہ ایران کے اقتصادی، سماجی اور ثقافتی ترقی کے چھٹے پروگرام کے قانون کے آرٹیکل 103 کی شق ب، 2016 میں منظور شدہ،2017 الی 2021 )

• حمل سے شیرخوارگی  کے تمام مراحل میں ماؤں کے لیے بنیادی اور ضمنی ہیلتھ انشورنس کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے (اسلامی جمہوریہ ایران کے اقتصادی، سماجی اور ثقافتی ترقی کے چھٹے پروگرام کے، آرٹیکل 102،شق د،2016 میں منظور شدہ،2017 الی 2021 )

• سماجی انصاف کی فراہمی اور توسیع، بامقصد سبسڈیوں کے ذریعے طبقاتی فرق کو کم کرنا، سماجی تحفظ کی خدمات تک معاشرے کے تمام افراد کی رسائی، بااختیار بنانے کے عمل، کاروباری مواقع تک رسائی، اور عوامی وسائل سے فائدہ اٹھانے میں غیر منصفانہ امتیاز کا خاتمہ (عام سماجی تحفظ کی پالیسیوں کا پیراگراف 6، 2022 میں نشر ہوا )

• خواتین اور مردوں کو ریلیف، معاونت اور خدمات کی سطح بندی سے فائدہ پہنچانا،بشمول انشورنس کوریج ریلیف کے معاملات، عوامی شرکت اور حکومتی امداد، غربت اور سماجی نقصان کو ختم کرنے کے میں حکومتی معاونت، عوام اور حکومت کی طرف سے بنیادی سطح کی خدمات کی ضمانت دینا۔ عوامی اور عمومی ،طور پر حکومت کے بیمہ پریمیم سے فائدہ اٹھانا ، سوسائٹی کے ارکان کے لیےان کی صورت حال کے مطابق، بنیادی بیمہ کے معاملات اور بیمہ کنندہ اور اضافی بیمہ کے معاملات جن کومسابقتی ماحول میں ٹیکس مراعات اور حکومت کی طرف سے قانونی مدد ملتی ہے۔ ( سماجی تحفظ کی عمومی پالیسیوں کا پیراگراف 5،حصہ 1، 2، 3، 4، 2022 میں نشر ہوا)

 

• ملازمین کی اجرتوں، ریٹائرڈ افراد کی پنشن اور بے روزگاروں کی ریگولیشن کے ذریعے معاشرے کے کمزور طبقات کی قوت خرید کو برقرار رکھنا اور کم مراعات یافتہ شہری و دیہی اور خانہ بدوش علاقوں سے غربت اور سماجی نقصان کے واضح اسباب کو دور کرنے کے لیے مناسب طریقہ کار کو اپنانا  (سماجی تحفظ کی عمومی پالیسیوں کے پیراگراف 5کا حصّہ 5اور 6،2022 میں نشر ہوا)

 

 2- قوانین میں خواتین کی سماجی تحفظ کی فراہمی کے حوالے سے ضمانتوں کے مواقع

•والدین  یا قانونی سرپرستوں کا،مالی ذرائع فراھم ہونے کے باوجود، 18 سال سے کم عمر  بچوں کی تعلیم میں رکاوٹ ڈالنا،جرم تصور کیا جائے گا ( ایرانی بچوں اور نوجوانوں کے لیے تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے قانون کا آرٹیکل 2، 1974 میں منظور شدہ )

• ( شوہر کی وفات کے بعد)،بیواؤں، طلاق یافتہ خواتین، غیر موجود شوہروں والی خواتین، قیدیوں کی بیویاں، اور متعلقہ سرکاری اداروں کی مالی، سماجی اور ثقافتی مدد سے آمدنی کا کوئی ذریعہ نہ رکھنے والی بزرگ خواتین کےلئے حکومتی امداد کی فراہمی (1992 میں منظور شدہ بے گھر خواتین اوریتیم بچوں کو امداد کی فراہمی سے متعلق قانون)

• سرپرست یا نائب سرپرست کی طرف سے  غیر سمجھدار (بشمول 18 سال سے کم عمر ) بچے  کی ذاتی ضروریات سے غلط فائدہ اُٹھانا جرم ہے، اسی طرح نا بالغ کے نام پر تجارتی یا غیر تجارتی دستاویزات کا حصول جس میں نقصان پہنچانا یا اس کے لیے ذمہ داری کو وجود میں لانا،نیز ان ذرائع سے اپنے یا دوسرے کے لئے مفادات کا حصول (اسلامی تعزیرات کا آرٹیکل 596 (جرمانے، روک ٹوک ،سزائیں، 1996 میں منظور شدہ )

 

•ماؤں کے لئے سپورٹ پروگرام، خاص طور پر حمل اور بچے کی پرورش کے دوران ( جامع بہبوداور سماجی تحفظ کے نظام کے ڈھانچے سے متعلق قانون کے آرٹیکل 4 کی شق ط اور 1 کی شق ح، 2004 میں منظورِ شدہ )

• یتیم بچوں اور بے گھر خواتین کے لیے معاونت ( جامع بہبود اور سماجی تحفظ کے نظام کے ڈھانچے سے متعلق قانون کے آرٹیکل 1,شق ط،2004 میں منظورِ شدہ)

• بیواؤں، بزرگ خواتین اور اپنے اخراجات برداشت کرنے والی خواتین کے لئے خصوصی بیمہ کی تشکیل ( جامع بہبود اور سماجی تحفظ کے نظام کے ڈھانچے کے قانون کے آرٹیکل 1 کی شق ی ،2004 میں منظورِ شدہ)

• عدم مساوات میں کمی  اور غربت کا خاتمہ (جامع بہبود اور سماجی تحفظ کے نظام کے ڈھانچے سے متعلق قانون کے آرٹیکل 1،شق ک،2004 میں منظورِ شدہ)

•سربراہ سے محروم خاندانوں اور خود کفیل خواتین کو سسٹم کے تحت قرار دینا (2013 میں منظور شدہ جامع اور سماجی تحفظ کے نظام کے ڈھانچے سے متعلق قانون کے آرٹیکل 4،شق ز 2004 میں منظورِ شدہ)

• مہذب زندگی سے لطف اندوز ہونے کا حق ( ملکی اور بین الاقوامی شعبوں میں خواتین کے حقوق اور ذمہ داریوں کے تحفظ کے قانون کا پیراگراف 1،جسے 2005 میں جنرل اسمبلی میں منظور کیا گیا)

• جنسیت سے بالاتر ہوکر قانون کے نفاذ میں اجتماعی انصاف کے حصول کا حق (ملکی اور بین الاقوامی شعبوں میں خواتین کے حقوق اور ذمہ داریوں کے تحفظ کے قانون کا پیراگراف 6، جسے 2005 میں جنرل اسمبلی میں منظور کیا گیا)

 

•سرپرستی یا مناسب سرپرست سے محروم  لڑکیوں کا سرکاری اداروں کے امدادی پروگرام سے لطف اندوز ہونے کا حق(ملکی اور بین الاقوامی شعبوں میں خواتین کے حقوق اور ذمہ داریوں کے تحفظ کے قانون کا پیراگراف 19، جسے 2005 میں جنرل اسمبلی میں منظور کیا گیا)

• حمل اور دودھ پلانے کے دوران خواتین کا،مالی اور روحانی امداد سے مستفید ہونے کا حق (ملک  اور بین الاقوامی شعبوں میں خواتین کے حقوق اور ذمہ داریوں کے تحفظ کے قانون کا پیراگراف 34، جسے 2005 میں جنرل اسمبلی میں منظور کیا گیا)

• بڑھاپے اور معذوری کے دوران ،ماؤں کا مادی اور روحانی تحفظ کے حصول کا حق (ملکی اور بین الاقوامی شعبوں میں خواتین کے حقوق اور ذمہ داریوں کے تحفظ کے قانون کا پیراگراف 38، جسے 2005 میں جنرل اسمبلی میں منظور کیا گیا)

• ذاتی، خاندانی اور سماجی زندگی میں جسمانی اور ذہنی صحت سے لطف اندوز ہونے کا حق (ملکی اور بین الاقوامی شعبوں میں خواتین کے حقوق اور ذمہ داریوں کے تحفظ کے قانون کا پیراگراف 47، جسے 2005 میں جنرل اسمبلی میں منظور کیا گیا)

• کفالت سے محروم لڑکیوں، بوڑھی،بیوہ اور طلاق یافتہ خواتین، اور عوامی بیمہ، روزگار کی خدمات اور خصوصی بیمہ کی محتاج، خاص طور پر صحت اور علاج کے شعبے میں ضرورت مند خواتین کا اپنے حقوقِ کے حصول کا حق (ملکی اور بین الاقوامی شعبوں میں خواتین کے حقوق اور ذمہ داریوں کے تحفظ کے قانون کا پیراگراف 57، جسے 2005 میں جنرل اسمبلی میں منظور کیا گیا)

• جسمانی، ذہنی،اور  نفسیاتی کمزوریوں کی حامل خواتین اور لڑکیوں کو ضروری  امداد اور طاقت کی  بحالی کا حق (ملکی اور بین الاقوامی شعبوں میں خواتین کے حقوق اور ذمہ داریوں کے تحفظ کے قانون کا پیراگراف 58، جسے 2005 میں جنرل اسمبلی میں منظور کیا گیا

• خواتین کو تعلیم، معلومات، اور علوم و فنون سے استفادہ کا حق حاصل ہے ،اسی طرح مناسب روزگار  کی سہولیات بالخصوص ،خود کفیل خواتین اور گھرانے کی کفالت کرنے والی خواتین  کا حق ہے۔ (ملکی اور بین الاقوامی شعبوں میں خواتین کے حقوق اور ذمہ داریوں کے تحفظ کے قانون کا حصہ ب شق 102، جسے 2005 میں جنرل اسمبلی میں منظور کیا گیا)

• اجتماعی ضروریات اور معاشی سہولیات سے لطف اندوز ہونے کا حق (ملکی اور بین الاقوامی شعبوں میں خواتین کے حقوق اور ذمہ داریوں کے تحفظ کے قانون کا حصہ ب شق 108، جسے 2005 میں جنرل اسمبلی میں منظور کیا گیا)

• شدید معذوری کے ساتھ کام کرنے والی خواتین، یا 6 سال سے کم عمر بچوں والی یا معذور اورلا علاج بیماری میں مبتلا شوھر کی زوجات یا ماؤں کے لئے ، کام کے اوقات کو 44 گھنٹے سے کم کر کے 36 گھنٹے کرنے کا سہولت کا حق، اسی تنخواہ اور فوائد کے ساتھ جو 44 گھنٹے کام کرنے والوں کو حاصل ہیں۔ (خصوصی شرائط کے ساتھ کام کرنے والی خواتین کے لیے کام کے اوقات میں کمی کا قانون جسے 2016    میں منظور کیا گیا

• تیره سال سے کم عمر لڑکیوں کے ساتھ مردوں کا نکاح جرم ہے،اس کے لئے عدالتی اجازت + مصلحت کی رعایت + والد کی اجازت ،ضروری ہے (2012میں منظور شدہ فیملی سپورٹ قانون کے آرٹیکل 50)

• بچے کی تحویل کا ذمہ دار وہ شخص جو اس کی دیکھ بھال اور پرورش میں اپنے فرائض میں کوتاہی کرتا ہو، مجرم تصور کیا جاتا ہے  (بشمول ایسی بد سلوکی جس سے بچے کو ذہنی-جذباتی نقصان پہنچے) (2012 میں منظور شدہ فیملی سپورٹ قانون کا آرٹیکل 54 )

 

• خاندانی معاونت کے لیے،معذور شریک حیات کو سنبھالنے والی خواتین کا نرس یا مددگار کے حقوق حاصل کرنے کا حق (معذوروں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق قانون کاآرٹیکل 7،جسے  2018 میں منظور کیا گیا)

• سڑکوں اور شہری ترقی کی وزارت کا فرض ہے کہ وہ معذور جوڑوں کو موافق اور سستی رہائش فراہم کرے (معذوروں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق قانون کا آرٹیکل 17، جسے 2018 میں منظور کیا گیا)

• انتہائی شدید معذوری والے افراد یا وہ جو ملازمت اور آمدنی سے بھی محروم ہیں، بشمول معذور خواتین، کے لیے رزق الاؤنس کی فراہمی (معذوروں  کے حقوق کے تحفظ سے متعلق قانون کا آرٹیکل 17، جسے 2018 میں منظور کیا گیا)

• جسمانی، ذہنی، نفسیاتی اور کمزور خواتین اور لڑکیوں کا مناسب مدد اور بحالی کا حق (2015 میں منظور شدہ گھریلو اور بین الاقوامی شعبوں میں خواتین کے حقوق اور ذمہ داریوں کے تحفظ سے متعلق قانون کی دفعہ 58)؛

• معذور بچوں کے ساتھ کام کرنے والی خواتین کی تنخواہوں اور مراعات کے 50% کے لیے ٹیکس چھوٹ فراہم کرنا (معذوروں کے حقوق کے تحفظ کے قانون کا آرٹیکل 25، جسے  2015 میں منظور کیا گیا)

• معذور خواتین کے شریک حیات کے لیے فوجی سروس سے استثنیٰ کی فراہمی جب تک کہ وہ اپنی معذور خواتین کی دیکھ بھال کی ذمہ داری نبھاتے ہیں (معذور افراد کے حقوق کے تحفظ کے قانون کے آرٹیکل 26 پر تبصرہ، جسے 2015میں منظور کیا گیا)

 

•معذور شریک حیات یا  بچوں کو سنبھالنے والی خواتین کے لیے جزوقتی خدمات کی سہولیات کی فراہمی، بشرطیکہ وہ  معذور شخص کو اپنے  گھر میں رکھے ہوئے ہوں (معذور افراد کے حقوق کے تحفظ کے قانون کا آرٹیکل 27،جسے 2015میں منظور کیا گیا)

•والدین اور قانونی سرپرستوں کا  18 سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے تعلیمی مواقع فراہم کرنے سے روکنا اور ان کا تعلیمی ادارے میں داخلہ نہ کروانا جرم شمار کیا جائے گا (بچوں اور نوعمروں کے تحفظ کے قانون کا آرٹیکل 7، جو 2017 میں منظور ہوا)

• اہلیہ اور زیر کفالت دیگر افراد کو نان و نفقہ  ادا کرنے سے انکار جرم قرار دیا جائے گا (فیملی سپورٹ قانون کا آرٹیکل 53، جسے 2012 میں منظور کیا گیا)

 

3- قانونی ضوابط میں سماجی تحفظ کی فراہمی سے متعلق ضمانتوں کا جائزہ (سرکاری بورڈ کی منظوری)

 

• عوامی  حکومت کی تبدیلی کی دستاویزات، جسے 13ویں حکومت کے ایکشن پلان کے طور پر،  27۔2۔2022 میں منظور کیا گیا، اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے خواتین کے حقوق کے شعبے کو ایک مستقل موضوع کے طور پر بیان کیا ہے، اور اس موضوع میں، اس عنوان پر توجہ مرکوز کی گئی ہے کہ  "خواتین کو درپیش سماجی نقصانات کی شناخت، روک تھام اور ان میں کمی" کے لئے  توجہ، اقدامات، پروگراموں اور اداروں کو عملی جامہ پہنانے کی ضرورت ہے اس پروگرام کے لئے سربراہ اور  اورمعاون بھی مقرر کیا گیا ہے، اور ساتھ ہی،صدر  نے دستاویزات پر عمل درآمد کی نگرانی  کو لازمی قرار دیا ہے۔مذکورہ  یونٹ ان محوروں کو حاصل کرنے میں متعلقہ انتظامی اداروں کی کارکردگی کی مسلسل نگرانی کرے اور ان سے وقتاً فوقتاً ہر مرحلے کی رپورٹیں وصول کرے

• ان بچوں کے لیے جن کی ایرانی شہریت کو بچوں کی شہریت کے تعین کے قانون میں ترمیم، کے قانون کے مطابق تسلیم کیا گیا ہے۔ 2020 میں غیر ملکی مردوں کے ساتھ ایرانی خواتین کی شادی جیسے موارد  (2020۔5۔20 کو منظور شدہ غیر ملکی مردوں کے ساتھ ایرانی خواتین کی شادی سے بچوں کو شہریت دینے کے ضوابط کا آرٹیکل 21)

• درخواست دہندگان کے تعاون کو کم کرنے اور کم لاگت کی سہولیات کی ادائیگی کے ذریعے گھرانوں کی سربراہ خواتین  کے لیے رہائش کی فراہمی (اضلاع (1) سے (6) تک امدنی رکھنے والے گروہ , وزراء کے بورڈ کی طرف سے 2021۔7۔18 میں منظور شدہ)

•خاندان کی کفالت کرنے والی خواتین کو روزگار کی سہولیات فراہم ہونے کے لئے  دیئے جانے والے پروگرام کے تحت وزارت تعاون، محنت اور سماجی بہبود کی وزارت اس بات کی پابند ہے کہ وہ مشیر صدرمملکت خواتین و خاندانی امور کے ساتھ تعاون کریں اور سرمایہ گذاری و تعاون کی ضمانت دینے والے فنڈز  سے فائدہ اٹھانے کے مواقع،خاندان کی کفالت کرنے والی ان خواتین کے لئے فراہم کریں جو اضلاع (1) سے (6) تک امدنی رکھنے والے گروہ سے تعلق رکھتی ہیں۔(کوآپریٹو انویسٹمنٹ گارنٹی فنڈ کی استعداد سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خاندان کی کفیل  خواتین سربراہوں کی ملازمت کے لیے مائیکرو لونز کی ضمانت کے خط کی منظوری،وزراء بورڈ کمیشن میں 11.9.2022 میں منظور شدہ)

• " سیکیورٹی اور انتظامی بہتری اور بدعنوانی سے مقابلہ کے لئےخواتین  ورکنگ گروپ " کی تشکیل"؛ جس کا مقصد،ذاتی مفادات کے لئے عوامی عہدوں کے غلط استعمال کو روکنا،شناخت کے میدان میں خواتین کے مقام اور حیثیت کو واضح کرنا، حادثات کی روک تھام، انتظامی امور اور ادارات میں؛اقتصادی اور اخلاقی بدعنوانی کو  کنٹرول اور روک تھام کے عمل میں خواتین کی تمام جہتوں سے  ٹریننگ، اور اس سے مقابلے میں ان کی حمایت( سیکیورٹی اور انتظامی بہتری اور بدعنوانی سے مقابلہ کے لئےخواتین  ورکنگ گروپ  کی تشکیل،جسے خواتین اور خاندان کی قومی کمیٹی نے 28.12.2022 میں منظور کیا)

 

4.سماجی تحفظ کی فراہمی سے متعلق حقوق پر عملدرآمد کی ضمانت کی فراہمی

 

• انتظامی، عدالتی اور قانون ساز اداروں کے کام کاج کی نگرانی کرنے اوران کے متعلق،اسلامی کونسل تک شکایت درج کرانے کے لوگوں کے حق کی فراہمی  (اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کا آرٹیکل 90،جو 1979  کا منظور شدہ اور 1989 میں ترمیم کیا گیا)

 • معاملات کی اچھی روانی اور سرکاری اداروں میں قوانین کے درست نفاذ کے حوالے سے پورے ملک کے معائنہ کرنے والے ادارے کی نگرانی کے کام کی ضمانت  (1979 میں منظور شدہ اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کا اصول  174   جسے 1989 میں ترمیم کیا گیا)

•  انفرادی اور سماجی حقوق کے تحفظ اور عدلیہ کے لیے انصاف کے حصول کے فرض کی توقع  (1979 میں منظور شدہ اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کا اصول 156 ،جسے 1989 میں ترمیم کیا گیا) اس اصول کے نفاذ کے ساتھ ہی، اعلیٰ عدالتیں اور قانونی اور فوجداری عدالتیں، دیوانی طریقہ کار کے قانون، فوجداری طریقہ کار کے قانون، اور انتظامی انصاف کے عدالتی قانون سمیت قوانین میں فراہم کردہ مخصوص ڈویژنوں کے مطابق، وہ خاص افراد کی طرف سے حقوق کی خلاف ورزیوں کی شکایات موصول ہونے کے ذریعے شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ذمہ دار ہیں۔

• کسی بھی شہری کی درخواست پر عدالتی انتظامی انصاف کی طرف سے شہریت کے حقوق کے خلاف حکومتی حکمناموں اور ضوابط کو منسوخ کرنے کے امکان کا اندازہ لگانا (اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کا آرٹیکل 170، جسے 1979  میں منظور کیا گیا، اور1989 میں ترمیم کیا گیا)

• حکومتی اداروں اور اداروں سے وابستہ اہلکاروں اور ایجنٹوں میں سے کسی کے ذریعے افراد کو ان کی ذاتی  آزادی سے محروم کرنا یا انہیں اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین میں درج ان کے حقوق سے محروم کرنا جرم ہے ( تعزیرات اور سزاؤں کی کتاب کا آرٹیکل 570،  1996 میں منظور شدہ)

• صدر کی طرف سے سماجی حقوق اور آزادیوں کے حصول کے لیے ذمہ دار شخص سے پوچھ گچھ کا امکان، فروری 2023

 

5- سماجی تحفظ کی فراہمی کی نگرانی کرنے والے حقوق کے لیے مالیاتی کریڈٹ فراہم کرنے کے امکانات

 

• 1987    میں منظور شدہ ملک کے پبلک اکاؤنٹنگ قانون میں خواتین کے لئے، موجود معیار،جو  بعد میں ترامیم کے ساتھ؛ اس سلسلے میں، ملک کے بجٹ پروگرام کا قانون اسلامی کونسل میں وزراء کی کونسل کی تجویز سے ہر سال منظور کیا جاتا ہے، اور اس کے ذریعے گورننگ باڈیز کے لیے درکار بجٹ اور مالیاتی کریڈٹ کا تعین کیا جاتا ہے اور بجٹ لائن کے تحت متعلقہ ادارے کی سرگرمی کی قسم کے مطابق مختلف امور کی وضاحت اور تعین کیا جاتا ہے اور اس کے لیے درکار مالیاتی قرضے کے امکانات فراہم کئے جاتے ہیں۔ ان مسائل میں خواتین اور خاندان سے متعلق مختلف شعبے شامل ہیں۔

•قومی احتساب عدالت کی وزارتوں، اداروں اور کمپنیوں کے تمام کھاتوں تک پہنچنے کے امکانات کی فراہمی،تاکہ  حکومت اور دیگر انتظامی ادارے اپنی جگہ پر پیش کردہ فنڈز کے استعمال کو یقینی بنائیں اور شہریوں کو ایک تشخیصی رپورٹ فراہم کریں (اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کا آرٹیکل 55، 1979 میں منظور شدہ اور 1989 میں ترمیم ہوا )