id: 16693
1402/3/12 01:43

صنفی انصاف سے متعلق قانونی سطح پر اہم ترین ضامنی ذمہ داریاں

1۔صنفی انصاف کی فراہمی سے متعلق بنیادی قوانین، پالیسیوں اور ترقیاتی پروگراموں میں موجود  ضمانتیں

 

• مرد اور عورت سمیت ،تمام شہریوں کے لیے، غیر منصفانہ امتیاز کو دور کرنا اور  منصفانہ سہولیات کی فراہمی ( اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کے آرٹیکل 3 ،شق نمبر9، جسے 1979 میں منظور کیا گیا، 1989 میں ترمیم شدہ)

 

• مرد اور عورت سمیت ،تمام لوگوں کے لئے مساوی حقوق کو یقینی بنانا ( اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کے آرٹیکل 3 ،شق نمبر14، جسے 1979 میں منظور کیا گیا، 1989 میں ترمیم شدہ)

 

 • تمام مردوں اور عورتوں کے لیے مساوی حقوق ( اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کا آرٹیکل 19،جسے 1979 میں منظور کیا گیا، 1989 میں ترمیم شدہ)

 

• مردوں اور عورتوں کو یکساں قانونی تحفظ حاصل ہے ( اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کا آرٹیکل 20،جسے 1979 میں منظور کیا گیا، 1989 میں ترمیم شدہ)

 

• خواتین کے کردار کی ترویج اور ان کے مادی اور روحانی حقوق کی تکمیل کے لیے ضروری بنیادی امکانات کی فراہمی ( اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کے آرٹیکل 21،شق نمبر 1،جسے 1979 میں منظور کیا گیا، 1989 میں ترمیم شدہ)

 

• مرد اور عورت دونوں کے لیے، روزگار کے حالات اور امکانات فراہم کرنا ( اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کے آرٹیکل 43،شق نمبر 2،جسے 1979 میں منظور کیا گیا، 1989 میں ترمیم شدہ)

 

•2025  تک مساوی مواقع کا حصول اور امتیازی سلوک کا خاتمہ ( 2025 کے  افق میں اسلامی جمہوریہ ایران کی ویژن دستاویز، جسے 2003 میں منظور کیا گیا)

 

• انسانی وسائل ،پیشہ ورانہ خدمات میں تسلسل اور افرادی قوت کی ترقی اور انتخاب میں انصاف کے تقاضوں کو بروئے کار لانا (انتظامی نظام کی عمومی پالیسیوں کا پیراگراف 2، جس کا اعلان قیادت نے 2010 میں کیا)

 

 • تنخواہوں کے معاملے میں انصاف کی فراہمی (انتظامی نظام کی عمومی پالیسیوں کا پیراگراف 6، جس کا اعلان قیادت نے 2010 میں کیا)

 

• افرادی قوت کے انتخاب میں غیر پیشہ ورانہ اور ذاتی نظریات کے استعمال سے گریز کیا جائے (انتظامی نظام کی عمومی پالیسیوں کا پیراگراف 3، جس کا اعلان قیادت نے 2010 میں کیا)

 

• تمام شعبوں میں خواتین کے مذہبی اور قانونی حقوق کی تکمیل (2015 میں منظور شدہ چھٹے ترقیاتی منصوبے کی عمومی پالیسیوں کا پیراگراف 46)

 

• حکومتی اداروں کی تمام پالیسیوں، پروگراموں اور منصوبوں میں صنفی انصاف کی فراہمی (2017الی2021 کے لئے چھٹے؛معاشی ،سماجی ،اور ثقافتی ترقیاتی منصوبے کی عمومی پالیسیوں کا پیراگراف 101)

 

• خاندانی استحکام اور خواتین کی ترقی اور خوشحالی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا(2022میں منظور شدہ ساتویں ترقیاتی منصوبے کی عمومی پالیسیوں کا پیراگراف 15)

 

• سماجی انصاف کو وسعت دینا اور یقینی بنانا، سماجی تحفظ کی خدمات اور معاشی مواقعوں تک معاشرے کے تمام افراد کی رسائی،انہیں بااختیار بنانا،  اور عوامی وسائل کے استعمال میں غیر منصفانہ امتیازی سلوک کا خاتمہ (2022 میں اعلان کردہ عمومی سماجی تحفظ کی پالیسیوں کا پیراگراف 6)

 

2.  اسلامی کونسل کے قوانین میں صنفی انصاف کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ ضمانتیں

 

• اجرت میں صنف کی بنیاد پر امتیازی سلوک کی ممانعت ( اسلامی جمہوریہ ایران کے پیشہ ورانہ قوانین کا آرٹیکل 38، جسے 1990 میں منظور کیا گیا)

 

• خواتین کی ملازمت کے تحفظ کو یقینی بنانا اور بے روزگاری، بیماری، بڑھاپے یا کام  سے محرومیِ کے وقت سماجی تحفظ سے لطف اندوز ہونا (اسلامی جمہوریہ ایران میں خواتین کی ملازمت کی پالیسیاں،جسے  1992 میں ثقافتی انقلاب کی سپریم کونسل نے منظور کیا)

 

• لڑکیوں کا خاندانی سہولیات سے بلا امتیاز فائدہ اٹھانے کا حق (2006 میں منظور شدہ گھریلو اور بین الاقوامی شعبوں میں خواتین کے حقوق اور ذمہ داریوں کے تحفظ کے قانون کا پیراگراف 18)

 

• صحت کے شعبے میں پالیسی سازی، قانون سازی، انتظامی امور، نفاذ اور نگرانی میں حصہ لینے کا حق (2006 میں منظور شدہ گھریلو اور بین الاقوامی شعبوں میں خواتین کے حقوق اور ذمہ داریوں کے تحفظ کے قانون کا پیراگراف 49)

 

• خاندانی نظم و نسق اور فیملی پلاننگ سے متعلق فیصلوں کو جاننے اور ان میں حصہ لینے کا خواتین کا حق (2006 میں منظور شدہ گھریلو اور بین الاقوامی شعبوں میں خواتین کے حقوق اور ذمہ داریوں کے تحفظ کے قانون کا پیراگراف 52)

 

• جسمانی فٹنس کے میدان میں کھیلوں اور تعلیمی سہولیات تک جامع اور منصفانہ رسائی کا حق (2006 میں منظور شدہ گھریلو اور بین الاقوامی شعبوں میں خواتین کے حقوق اور ذمہ داریوں کے تحفظ کے قانون کا پیراگراف 53)

 

• ثقافتی امور کے شعبے میں پالیسی سازی، قانون سازی، انتظامی امور، نفاذ اور نگرانی میں حصہ لینے کا حق (2006 میں منظور شدہ گھریلو اور بین الاقوامی شعبوں میں خواتین کے حقوق اور ذمہ داریوں کے تحفظ کے قانون کا پیراگراف 70)

 

• محروم علاقوں کی لڑکیوں اور معذور لڑکیوں پر خصوصی توجہ کے ساتھ اعلیٰ ترین تعلیمی سطح تک تعلیم سے لطف اندوز ہونے کا حق (2006 میں منظور شدہ گھریلو اور بین الاقوامی شعبوں میں خواتین کے حقوق اور ذمہ داریوں کے تحفظ کے قانون کا پیراگراف؛76،77،79،84 )

 

• کتابوں اور مضامین کی تحقیق، تصنف، ترجمہ اور اشاعت کا حق (2006 میں منظور شدہ گھریلو اور بین الاقوامی شعبوں میں خواتین کے حقوق اور ذمہ داریوں کے تحفظ کے قانون کا پیراگراف 85 )

 

 •مساوی انداز کی ملازمت کا حق اور کام میں مساوی تنخواہ اور فوائد (2006 میں منظور شدہ گھریلو اور بین الاقوامی شعبوں میں خواتین کے حقوق اور ذمہ داریوں کے تحفظ کے قانون کا پیراگراف 101اور 104 )

 

• اقتصادی پالیسیوں میں حصہ لینے اور معاشی تنظیمیں بنانے اور ان کا انتظام سنبھالنے اور ان کا رکن بننے کا حق (2006 میں منظور شدہ گھریلو اور بین الاقوامی شعبوں میں خواتین کے حقوق اور ذمہ داریوں کے تحفظ کے قانون کا پیراگراف 109 )

 

• آزادی اظہار کا حق (2006 میں منظور شدہ گھریلو اور بین الاقوامی شعبوں میں خواتین کے حقوق اور ذمہ داریوں کے تحفظ کے قانون کا پیراگراف 114)

 

 • انتخابات میں حصہ لینے،مختلف کونسلوں سمیت پارلیمنٹ ممبر بننے  اور حکومتی منصوبوں میں حصہ لینے اور اعلیٰ انتظامی عہدوں پر فائز ہونے کا حق (2006 میں منظور شدہ گھریلو اور بین الاقوامی شعبوں میں خواتین کے حقوق اور ذمہ داریوں کے تحفظ کے قانون کا پیراگراف 116)

 

•  علاقائی اور بین الاقوامی فورمز میں فعال شرکت کا حق (2006 میں منظور شدہ گھریلو اور بین الاقوامی شعبوں میں خواتین کے حقوق اور ذمہ داریوں کے تحفظ کے قانون کا پیراگراف 119)

 

• قانونی مراکز اور عدالتوں میں کیس دائر کرنے اور دفاع کا حق (2006 میں منظور شدہ گھریلو اور بین الاقوامی شعبوں میں خواتین کے حقوق اور ذمہ داریوں کے تحفظ کے قانون کا پیراگراف 136)

 

 • جنسی تفریق سے قطع نظر، قانون کے نفاذ میں سماجی انصاف سے لطف اندوز ہونے کا حق(2006 میں منظور شدہ گھریلو اور بین الاقوامی شعبوں میں خواتین کے حقوق اور ذمہ داریوں کے تحفظ کے قانون کا پیراگراف 6)

 

•مساوی انتظامی اداروں اور تنظیموں میں کام کرنے والے مساوی شرائط کے حامل ملازمین کی تنخواہوں اور اجرتوں میں مساوات ( 2007 میں منظور شدہ ،سروس مینجمنٹ قانون کا آرٹیکل 68 اور آرٹیکل 89 کی شق نمبر 4)

 

• سزا سے مشروط جرائم میں 18 سال سے کم عمر کے تمام ملزمان لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے  امتیازی مجرمانہ پالیسی کی تشکیل (2013 میں منظور شدہ اسلامی تعزیرات ایران کے آرٹیکل 88 سے 95)

 

• مجرمانہ کارروائیوں کے انسداد میں لوگوں کے درمیان مساوات (مجرمانہ کارروائیوں کے انسداد سے متعلق 2013 کا قانون کا آرٹیکل 2، جس میں 2015 میں ترمیم کی گئی

 

• جنس سے بالاتر ہوکر، 18 سال سے کم عمر کے تمام افراد کے لیے خصوصی عدالتی سہولیات کی فراہمی (مجرمانہ کارروائیوں کے انسداد سے متعلق 2013 کا قانون کا آرٹیکل 287.285، جس میں 2015 میں ترمیم کی گئی )

 

• تمام معذور خواتین اور مردوں کو مساوی امکانات سے فائدہ اٹھانے کی سہولت (2018  میں منظور شدہ معذوروں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق قانون )

 

• 2019 میں منظور شدہ ؛غیر ملکی مردوں کے ساتھ ایرانی خواتین کی شادی کے نتیجے میں بچوں کی شہریت کی حیثیت کا تعین کرنے کے قانون میں ترمیم کے قانون کی منظوری کے ساتھ ایرانی خواتین اور بچوں سے شہریت کی منتقلی۔ اس بات پر غور کرتے ہوئے کہ سول قانون میں، اصولی طور پر باپ سے بچے کو شہریت کی منتقلی ممکن ہے۔ لہذا، ایک غیر ملکی مرد سے شادی شدہ ایرانی خاتون کے ساتھ ساتھ اس شادی کے نتیجے میں ہونے والے بچوں کی حفاظت کے لیے، 24 ستمبر  2019 کو، قانون ساز نے یہ قانون منظور کیا۔ اس قانون کے مطابق اگر کوئی ایرانی خاتون کسی غیر ملکی مرد سے شادی کرتی ہے اور اس شادی سے بچہ پیدا ہوتا ہے تو ماں متعلقہ ایرانی محکمے سے رجوع کر کے بچے کی پیدائش کے وقت سے ہی بچے کی ایرانی شہریت کے لیے درخواست دے سکتی ہے۔ اور مذکورہ حکام بچے کی شناسائی کریں گے اور اس قانون کی دفعات کے مطابق، اس بچے کے لیے ایرانی شناختی کارڈ جاری کیا جائے گا۔

 

 

3. قواعد و ضوابط میں صنفی انصاف کی فراہمی سے متعلق ضمانتوں کی فراہمی (سرکاری بورڈ کی منظوری)۔

 

• قومی اور صوبائی سطح پر ایگزیکٹو باڈیز کا کام کمیٹی کے مقداری  اہداف سمیت ایگزیکٹو پروگراموں کو تیار کرنا اور شروع کرنا ہے۔ بہتری اور ترقی کی سمت میں، عمل درآمد اور پیروی کے اقدامات اور خواتین اور خاندان  کے قومی ہیڈ کوارٹر کے ایگزیکٹو سیکرٹریٹ میں صنفی مساوات کی مسلسل پیش رفت کی صورتحال کا جائزہ لینا، سیکرٹریٹ کے  نوٹیفکیشن اور بیانات کا تجزیہ وغیرہ اس محکمہ کی ذمہ داریوں میں شامل ہے(صنفی انصاف کے تمام پہلوؤں کے تعین کے حوالے سے  انتظامی اداروں کے اقدامات کے پابند، وزراء بورڈ سے 12_9_2018 سے  منظور کردہ)

 

• جنسیت سے بالاتر ہوکر انصاف کو فروغ دینے اور اس کی شناخت، مشاہدہ اور  نگرانی  کی ضرورت، دوسرے لفظوں میں خواتین اور خاندان کے شعبے میں صنفی انصاف کو فروغ دینے اور پالیسی سازی، فیصلہ سازی اور میکرو پلاننگ کے نظام کو مضبوط بنانے میں قوانین کے نفاذ کے منصوبوں اور پروگراموں کے اثرات کی پیمائش کرنا،( اسلامی جمہوریہ ایران کے چھٹے؛معاشی ،سماجی ،اور ثقافتی ترقیاتی منصوبے کی عمومی پالیسیوں کے نفاذ کا آئینی آرٹیکل 101،جسے وزراء کے بورڈ نے 17_2-2019 میں منظور کیا)

 

• عدالتی اصلاحات کی دستاویز، جنہیں عدلیہ کے سربراہ کی طرف سے 20_12_2020 میں منظوری دی  گئی، جس کا مقصد خواتین کے شعبے کے قوانین کی تعمیل کرنا اور صنفی انصاف کے تقاضوں کے مطابق، مندرجہ ذیل سطحوں کی وضاحت کرنا ہے، اور اس سلسلے میں، ٹائم فریم اور عمل درآمد کے لیے ذمہ دار ادارہ کو  ایک ہی وقت میں، وقتاً فوقتاً اور مسلسل اس میں متعین کردہ کاموں کے آپریشن کے بارے میں رپورٹ بھی  کرتا ہے اور جو عدالت کے ماتحت کام کرنے والے محکموں  سے دستاویز وصول کرتا ہے اور ان کی کارکردگی کی نگرانی کرتا ہے،وہ  امور یہ ہیں:

 

- خواتین کے شعبے میں قانونی فرائض کو شامل کرنے اور متعلقہ اداروں سے ان کی تعمیل کے لیے متوقع نظام کی تشکیل،نیز  عدلیہ کی جانب سے فرائض کی عدم تکمیل کے مقدمات کی پیروی

 

- عدلیہ میں کام کرنے والی خواتین کے لیے زیادہ سے زیادہ ہم آہنگی پر زور دیتے ہوئے ملازمت کے فروغ کے لیے خصوصی نظام وضع کرنا۔ موزوں سرگرمیوں اور شعبوں جیسے خاندان، خواتین اور بچوں (نائب) سے متعلق ملازمتوں میں ان کی صلاحیتوں کا استعمال ( انسانی وسائل اور ثقافتی امورسے متعلق ذیلی تنظیمیں،محدود مدتی پروگرام)

 

• عوامی حکومت کی تبدیلی کی دستاویز، جسے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے 27_2_2022 کو 13ویں حکومت کے ایک ایکشن پلان کے طور پر منظور کیا ۔ انہوں نے خواتین کے حقوق کے شعبے کو ایک آزاد موضوع تفویض کیا ہے اور اس موضوع  کی اہمیت کی ضرورت پر مختلف محوروں، اقدامات، پروگراموں اور ذمہ دار اداروں کو چلانے کے لیے درج ذیل سطحیں بیان کی گئی ہیں۔ اس پروگرام کے تحت، ذمہ داران اور نگران یونٹ کو دستاویز کے نفاذ کا  نگران مقرر کیا گیا ہے۔ مندرجہ ذیل امور کے متعلق مرحلہ وار رپورٹ طلب کی جاتی ہیں:

 - خواتین کے خاندانی اور سماجی کردار کے درمیان توازن قائم کرنا

 - انفرادی صلاحیتوں کو بہتر بنانا اور

 - خواتین کے حقوق کا احترام

- خواتین کے شعبے میں قوانین کی نظر ثانی

- قوانین کے نفاذکی سطح پر خواتین کے شعبہ کے ڈھانچے کو مضبوط بنانا۔

 

•2019 کے قانون کے تحت، ان بچوں کے لیے ایرانی شہریوں کے تمام حقوق اور ذمہ داریوں کو تسلیم کرنا ،جن کی ایرانی شہریت کو قانون کے مطابق تسلیم کیا گیا ہے، (ایرانی خواتین کی غیر ملکی مردوں کے ساتھ شادی کے نتیجے میں بچوں کی شہریت کی ذمہ داریوں کے تعین کے قانون  کا آرٹیکل 21 جس کی  20_5_2020کو منظوری دی گئی )

 

 • قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں میں خواتین اور خاندانی امور کے مشیر کی ملازمت کی اسامیاں قائم کرنا اور  اس کے علاوہ، متعلقہ ایگزیکٹو باڈییز میں خواتین اور خاندان کے شعبے میں پالیسیوں، منصوبوں، قوانین، قواعد و ضوابط اور پروگراموں کی مسلسل نگرانی کے  مقصد کے ساتھ، ان کی  فیصلہ سازی کے عمل میں فعال شرکت کو یقینی بنانا۔ خواتین اور خاندان کے شعبے سے متعلق فیصلے میں جنرل کونسلز، کونسلز اور ایگزیکٹو باڈی کے اندر ورکنگ گروپس، ڈھانچے اور منصوبہ بندی کی ترتیب اور منظوری، خواتین اور خاندان کے حوالے سے اداروں کی سرگرمیوں کو منظم اور مربوط کرنا اور مسلسل نگرانی اور جائزہ لینا۔ اداروں میں اہداف، پالیسیوں اور ایگزیکٹو پروگراموں کا حصول اور خواتین اور خاندان کے شعبے میں سپریم کونسل اور دیگر مجاز حکام کو راؤنڈ رپورٹس جمع  کروانا  وغیرہ ( خواتین اور خاندانی امور میں ایجنسیوں کی کارکردگی کی نگرانی،رہنمائی، مشترکہ رویوں اور اتحاد کے منصوبے کی منظوری کا پیراگراف 2 اور 3، جسے 31_7_2022 میں منظور کیا گیا )

 

 • خواتین کے مختلف مسائل میں فعال سرگرمی کو آسان بنانا اور اسے مزید موثر بنانا؛ نیز خواتین کے اس شعبے میں بیان کردہ سماجی، ثقافتی اور اقتصادی سمیت تمام جہتوں پر مبنی ایک جامع شماریاتی نظام کے نفاذ کے ساتھ نگرانی (خواتین اور خاندانوں کے جامع شماریاتی نظام کو مرتب کرنے کے منصوبے کا منصوبہ،جس  کو نیشنل خواتین اور خاندان کے قومی  صدر دفتر نے 28_12_2022 می منظور کیا)

 

 • خواتین کی گھریلو زندگی اور ملازمت کی ذمہ داریوں میں توازن کے لیے ضروری بنیادوں کو اکٹھا کرنے کی اہمیت (خواتین کی ترقی اور روزگار سے متعلق قومی اسمبلی کے مسودے کی منظوری، جسے خواتین اور خاندان کے قومی ہیڈکوارٹر نے 28_12_2022 میں منظوری دی )

 

• شہری زندگی کے تمام شعبوں میں تمام شہری حقوق کے حصول کا حق  (تہران سٹی کونسل کے شہری حقوق کے چارٹر کا پیراگراف 3، 2015 میں منظور شدہ)

 

• بچے کے بنیادی حقوق کی حالت کو بہتر بنانے کی حکمت عملی ان کے ساتھ امتیازی سلوک کی ممانعت، زندگی کا حق، ان کے بہترین مفادات کی فراہمی اوران کی آواز سننے کا حق

(قومی دستاویز) میں وزارت انصاف کی طرف سے منظور شدہ 2025  کے افق میں بچوں اور نوعمروں کے حقوق کے لیے جامع ایکشن پلان جسے 2016 میں منظور کیا گیا

 

4-صنفی انصاف کی بالادستی سے متعلق قوانین کے نفاذ کی ضمانتیں

 

• لوگوں کو انتظامی، عدالتی اور قانون ساز اداروں کے کام کاج کی نگرانی کرنے اور اسلامی کونسل کو ایگزیکٹو، عدالتی اور قانون سازی کی شاخوں کے کام کے بارے میں شکایت درج کرنے کے حق کی فراہمی (اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کا آرٹیکل 90 ،1979 میں منظور ہوا، 1989 میں ترمیم کیا گیا )

 

 • امور کی ہموار روانی اور سرکاری اداروں میں قوانین کے درست نفاذ کے سلسلے میں ملک کے جنرل انسپکشن آرگنائزیشن کے لیے نگرانی کے فرائض کے امکانات(اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کا آرٹیکل 174 ،1979 میں منظور ہوا، 1989 میں ترمیم کیا گیا )

 

. انفرادی اور سماجی حقوق کے تحفظ اور عدلیہ کے لیے انصاف کے حصول کے فرض کی توقع کرنا (اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کا آرٹیکل 1561979 میں منظور ہوا، 1989 میں ترمیم کیا گیا )  اس اصول کے نفاذ کے ساتھ ہی سپریم کورٹ اور قانونی فوجداری عدالتیں، قوانین میں فراہم کردہ تقسیم کے مطابق، بشمول دیوانی طریقہ کار قانون، فوجداری طریقہ کار قانون اور انتظامی انصاف کی عدالت، نجی افراد اور انتظامی اداروں کی طرف سے حقوق کی خلاف ورزیوں کی شکایات موصول ہونے کے ذریعے شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ذمہ دار ہیں۔

 

• ہر شہری کی درخواست پر عدالتی انتظامی انصاف کی طرف سے شہریت کے حقوق کے خلاف حکومتی حکمناموں اور ضوابط کی منسوخی کے امکان کا اندازہ لگانا (اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کا آرٹیکل 170 ،1979 میں منظور ہوا، 1989 میں ترمیم کیا گیا )

 

• حکومتی اداروں سے وابستہ اہلکاروں اور ایجنٹوں میں سے کسی کی طرف سے افراد کو ان کی ذاتی آزادی سے محروم کرنا یا انہیں ان کے حقوق سے محروم کرنا جو اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین میں درج ہیں ( تعزیرات کی کتاب کا آرٹیکل 1996 میں منظور شدہ)

 

 • صدر، کی جانب سے سماجی حقوق اور آزادیوں کے حصول کے ذمہ دار شخص سے پوچھ گچھ کا حق محفوظ ہے۔مارچ 2023

 

 

5 ۔ سماجی تحفظ کی فراہمی کی نگرانی کرنے والے حقوق کے لیے مالی کریڈٹ  کی فراہمی

 

 

 • ملک کے مالیاتی قوانین اور ضوابط میں درج معیارات کے مطابق خواتین کے حقوق اور ضروری تحفظات کا احساس کرنے کے لیے مخصوص کریڈٹ لائنز (بجٹ) کی تشکیل، ملک کا پبلک اکاؤنٹنگ قانون 1987میں منظور کیا گیا۔ ترامیم کے بعد، اس سلسلے میں، ملک کے بجٹ پروگرام کا قانون اسلامی کونسل میں وزراء کی تجویز سے سالانہ منظور کیا جاتا ہے، اور اس کے ذریعے گورننگ باڈیز کے لیے ضروری بجٹ اور مالیاتی کریڈٹ کا تعین کیا جاتا ہے، اور بجٹ لائن کے تحت، متعلقہ ادارے کی سرگرمی کی قسم کے مطابق، مسائل مالی اعتبار کی  تعریف اور تعین کیا جاتا ہے ۔من جملہ خواتین اور خاندان کے مختلف شعبوں کی مالی ضروریات فراہم ہوتی ہیں ۔

 

• احتساب عدالت کی جانب سے وزارتوں، اداروں، ریاستی کمپنیوں اور دیگر ایگزیکٹو باڈیز کے تمام کھاتوں کی جانچ پڑتال کے امکان کا اندازہ لگانا، ان کی جگہ پر فنڈز کے استعمال کی ضمانت دیتا ہے اور شہریوں کو تشخیصی رپورٹ فراہم کرتا ہے (اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کا آرٹیکل 170 ،1979 میں منظور ہوا، 1989 میں ترمیم کیا گیا )