دوطرفہ مشترکہ تعاون کے سلسلے میں زمبابوے کے صدر کی اہلیہ کی آمد
زمبابوے کے صدر کی اہلیہ نے ایران میں مشترکہ تعاون کی فضا قائم کرنے کے لئے ایران آئیں
اس سلسلے میں، Auxillia Manangagawa
نے مشیر صدرمملکت برائے خواتین اور خاندانی امور کے ساتھ مختلف اجلاسوں میں شرکت کی،جس میں ایرانی نامور اور کاروباری خواتین بھی موجود تھیں۔
مشیر صدرمملکت ڈاکٹر انسیہ خزعلی نے، اس ملاقات میں کہا: زمبابوے کے ساتھ، سب سے پہلی خصوصیت جو مشترک ہے وہ اس ملک کی مزاحمت اور استقامت ہے۔یہ ملک استعمار کے خلاف کھڑے ہونے اور اپنے ملک کو استعمار کے ہاتھوں سے آزاد کرانے میں کامیاب رہا۔
انہوں نے جاری رکھا: ہمارے ساتھ توڑے گئے معاہدے جیسا تجربہ اور معاہدہ کرنے والے فریق کا اپنے وعدوں سے مکر جانا،ایسا واقعہ ہے جو زمبابوے میں ہوبہو دہرایا گیا ہے۔ دوسری جانب پابندیوں کا دباؤ بھی ہے جس کا دونوں ممالک کو سامنا ہے۔ اگلی مشترکہ خصوصیت، خاندان اور خواتین کو اھمیت دینا اور خواتین کی؛ اقتصادی شعبوں میں ترقی اور پیشرفت ہے۔
نیز محترمہ آکسیلیا منانگاگوا Auxillia Manangagawa نے بھی کہا: ہم نے ایران کی خواتین اور زمبابوے کی خواتین کے درمیان سیاسی اور اقتصادی میدانوں میں اچھے امکانات دریافت کئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی طرح زمبابوے بھی کئی سالوں سے امریکہ، برطانیہ اور مغربی ممالک کی پابندیوں کی زد میں تھا اور ہم نے 1980 میں آزادی حاصل کی، اگرچہ ہمارے پاس ؛خواتین کے معاشی معاملات، بچوں کی تعلیم، خاندانی اقتصادیات ، خاندان کے صحت و سلامتی کے میدان میں خواتین کی ٹریننگ اور صنعتی کھیتی باڑی کے توسیعی منصوبوں میں اچھے تجربات ہیں لیکن ہمارے پاس اب بھی ان میدانوں میں پسماندگی موجود ہے۔ ہمیں ان پابندیوں کے اثرات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
زراعت، معیشت، خلائی اور ثقافتی تبادلوں کے شعبوں میں مشترکہ تعاون؛ زمبابوے کے صدر کی اہلیہ سے انسیہ خزعلی کی ملاقات کے اہم ترین پہلوؤں میں شامل تھا۔
واضح رہے کہ اس سفر کے دوران زمبابوے کی خاتون اول نے، مختلف شعبوں کی با صلاحیت خواتین سے ملاقاتیں کیں اور خواتین کے زیر انتظام نالج بیسڈ کمپنیوں کا دورہ کیا۔انہوں نےملک کی بڑی یونیورسٹیوں کے سرپرستوں کے ساتھ اجلاسوں میں بھی شرکت کی۔