id: 16886
1401/8/14 16:32

بین الاقوامی شعبہ مشاورت صدر مملکت برائے خواتین و خاندانی امور کی ڈائریکٹر جنرل: یکطرفہ زبردستی مسلط کردہ اقدامات کے باوجود،ایرانی خواتین کی تمام شعبوں میں نمایاں کامیابیاں

 تہران میں مقیم سفیروں اور سیاسی مراکز کے سربراہوں نے وزارت خارجہ میں، شیراز میں شاہ چراغ دہشت گردی کے واقعے اور گذشتہ چند ہفتوں میں رونما ہونے والے حالات پر منعقدہ میٹنگ میں شرکت کی۔

شعبہ مشاورت صدر مملکت برائے خواتین و خاندانی امور کی رپورٹ کے مطابق،وزارت خارجہ کے سیاسی مشیر،باقری کنی،قانونی و بین الاقوامی مشیر،نجفی،سربراہ  بین الاقوامی شعبہ مشاورت صدر مملکت برائے خواتین و خاندانی امور،کریمی،کی موجودگی میں ہونے والی اس ملاقات میں، مقررین نے اس واقعہ کی جہتیں بیان کرتے ہوئے ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کی۔

اس ملاقات کے ایک حصے میں، سربراہ  بین الاقوامی شعبہ مشاورت صدر مملکت برائے خواتین و خاندانی امور، نے کہا: ایک ایرانی خاتون کی حیثیت سے، جو اس سرزمین میں پیدا ہوئی، پلی بڑھی، محنت کی، تعلیم حاصل کی اور جو اب طویل مدت سے اپنے عوام کی خدمت کر رہی ہے، اپنے ملک میں خواتین اور لڑکیوں کی ترقی کے کچھ ایسے حقائق کی طرف اشارہ کرنا چاہوں گی جو یکطرفہ، ظالمانہ اور غیر قانونی جبری اقدامات کے دباؤ کے باوجود حاصل ہوئی ہیں۔

ڈاکٹر خدیجہ کریمی نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ صنفی فرق کو کم کر کے اسلامی جمہوریہ ایران نے پرائمری اور سیکنڈری سطح  پر خواتین اور لڑکیوں میں ناخواندگی کے خاتمے کی طرف ایک بڑا قدم اٹھایا ہے، مزید کہا: اعلیٰ تعلیم کے لحاظ سے اس سال 56. %خواتین طلباء نے ملک کی سرکاری یونیورسٹیوں میں داخلے لئے ہیں۔ میڈیکل سائنسز کی یونیورسٹیوں میں خواتین فیکلٹی ممبران کے تناسب میں 34 فیصد اضافہ اور ملک کی دیگر یونیورسٹیوں میں خواتین فیکلٹی ممبران کے لیے اس تناسب کا 3.33 فیصد سے زیادہ ہونا دیگر چیزیں ہیں جن کا  ذکر کرنا میں ضروری سمجھتی ہوں۔

انہوں نے کہا: ایرانی خواتین میں متوقع عمر کا انڈیکس 78 سال تک پہنچ گیا ہے اور ملک میں 95 فیصد پیدائش کیسز ، ماہر امراض نسواں  کے ذریعہ انجام دیئے جاتے ہیں، حمل اور ولادت کی پیچیدگیوں کی وجہ سے زچگی کی شرح اموات نمایاں طور پر کم ہوگئی ہیں اور یہ تناسب ہر 100 افراد میں 20/% سے بھی کم ہوکر رہ گیا ہے۔

سربراہ  بین الاقوامی شعبہ مشاورت صدر مملکت برائے خواتین و خاندانی امور، نے کہا: آج ایران میں 40 فیصد اسپیشلسٹ ڈاکٹرز اور 30   فیصد سرجن  ڈاکٹرز، خواتین ہیں۔ کریمی نے بتایا کہ شہر اور گاؤں کے انتظامی امور میں 3,547 خواتین دیہی اور شہری  اسلامک کونسلز کی ممبر ہیں اور انتخابات کے حالیہ دور میں 43 فیصد اضافے کے ساتھ 2,393 خواتین، ویلج کونسلر بھی ہیں،انہوں نے کہا کہ شہری انتظامی کرسیوں پر 482 خواتین،شہری اسلامی کونسلز،اور 8 خواتین میئرز خدمات انجام دے رہی ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرگرم خواتین کی شرح 31.5 فیصد ہے، جبکہ موبائل سوفٹویر کے توسیعی منصوبوں میں خواتین کی تعداد 23 فیصد ہے اور ڈیجیٹل تبدیلی کے محرکات کا 50 فیصد حصہ، یعنی تخلیقی صلاحیتیں، ان سے مخصوص ہیں۔ان تمام کامیابیوں پر اسلامی جمہوریہ ایران کو ان  پر فخر ہے۔

سربراہ  بین الاقوامی شعبہ مشاورت صدر مملکت برائے خواتین و خاندانی امور نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ حالیہ برسوں میں سٹارٹ اپس ، ایکسلریٹر، سہولت فراہم کرنے والے گروپس، اور زراعت کے مختلف شعبوں کے انتظام میں خواتین کے کرداراور 12,000 کمپنیوں پر ان کی ملکیت، صنعتوں، فن تعمیر، طب، چیمبر آف کامرس اور اس طرح کے شعبوں میں ،کاروباری اور معاشی امکانات کی فراہمی میں خواتین کی فعال رکنیت کا پہلے سے کہیں زیادہ مشاہدہ کر رہے ہیں، انہوں نے واضح کیا کہ : فی الحال،32 فیصد سے زیادہ خواتین کی تعداد  مارکیٹنگ اور کاروباری معیشت میں سرگرم عمل ہے۔ خواتین کی جانب سے 250 نالج بیسڈ کمپنیوں کا قیام، نالج بیسڈ کمپنیوں کی سی ای اوز کے طور پر 735 خواتین کی سرگرمیاں اور کمپنیوں کے اس گروپ میں بورڈ آف ڈائریکٹرز کی ممبر کے طور پر 2390 خواتین کی سرگرمیاں اس سلسلے میں ایک موزوں دستاویزی شکل کی حامل  ہیں۔ اس کے علاوہ، ملک میں 4000 خواتین کاروباریوں کی موجودگی،جو 20% کاروباری شعبوں کا انتظام کررہی  ہیں، قابل ذکر ہے۔

سربراہ نے یہ بتاتے ہوئے کہ ہماری  باحجاب خواتین نے ، جس کو دنیا محدودیت کا نام دیتی ہے،اس میدان کے ساتھ ساتھ دیگر میدانوں میں بھی خود کو نمایاں کیا ہے،اس بات کی یاددھانی کروائی کہ کھیلوں کے میدان میں، خواتین کے لیے 16,111 اسپورٹس کلبس کی سرگرمیاں ، خواتین کھلاڑیوں کے حالیہ عالمی مقابلوں میں جیتے گئے  3,302  تمغے،  قومی اور بین الاقوامی مقابلوں کی، 88,366  خواتین ریفریز کی سرگرمیاں، عالمی اسپورٹس فیڈریشنز میں 97 بین الاقوامی نشستوں پر خواتین کی موجودگی، خواتین کے لیے 16,111 سپورٹس کلبوں کی سرگرمیاں، 51 خواتین سربراہان اور نائب سربراہان کی موجودگی، نیز  کھیلوں کی فیڈریشنوں کے صدور کے ساتھ ساتھ صوبائی سطح پر سپورٹس بورڈز کی 70 عدد خواتین سربراہ،اسلامی جمہوریہ ایران کے لئے فخر کا باعث ہیں۔

کریمی نے اپنی بات جاری رکھتےہوئےکہا: اس کے علاوہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرگرم خواتین کی شرکت کی شرح میں 5.31 فیصد تک اضافہ، نیز سینما کے شعبے میں تقریباً 3000 خواتین ماہرین کی سرگرمیاں وہ دیگر اقدامات ہیں جو مجھے پیش کرنے ہیں۔

سربراہ  بین الاقوامی شعبہ مشاورت صدر مملکت برائے خواتین و خاندانی امور نے آخر میں کہا کہ میری ہم وطن خواتین عملی طور پر ایسے یکطرفہ اجباری اقدامات سے مقابلہ کر رہی ہیں،جو غیر قانونی طور پر ایرانی قوم پر مسلط کئے گئے ہیں۔جبکہ ان حالات کے باوجود، خواتین مردوں کے شانہ بشانہ، خاطر خواہ نتائج وجود میں لانے میں کامیاب رہی ہیں۔

ڈاکٹر کریمی نے مختلف ممالک کے سفیروں کو دعوت دی کہ وہ ایرانی خواتین کی مسلسل ترقی، تحرک اور نشوونما کی حمایت میں ایران کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں۔