وزیر خارجہ کے مشیر نے تہران میں مقیم غیر ملکی سفیروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: اب تک 10 سالہ زہرہ پاپی اور امیر حسین ناروئی اور 623 تھیلیسیمیا کے مریضوں کے نام آپ نے نہیں سنے ہوں گے ؟ جو اپریل 2018 سے یکطرفہ پابندیوں اور ادویات تک رسائی سے محروم ہونے کی وجہ سے مارے گئے۔؟!
وزیر خارجہ کے سیاسی مشیر علی باقری، نے تہران میں مقیم سفیروں اور غیر ملکی سیاسی ایجنسیوں کے سربراہوں کی موجودگی میں ایک بریفنگ اجلاس منعقد کیا اور ان تمام ممالک کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے شاہ چراغ شیراز کے مزار پر بزدلانہ دہشت گردانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے ایرانی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا: دہشت گردی ایک ایسا خطرہ ہے، جس سے ہر کسی کو بیزاری کا اظہار کرنا چاہیے۔ کوئی بھی باشعور انسان ایسے واقعہ کو منظور نہیں کر سکتا جو معصوم ساتھی انسانوں کو اندھا دھند نشانہ بنا کر تمام مشترکہ انسانی اقدار کو پامال کرنے کو روا سمجھتا ہو۔
شیراز میں دہشت گردانہ حملہ کی کاروائی، اسلامی جمہوریہ ایران کو، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مزید مضبوط اور مستحکم بنا دے گی
انہوں نے مزید کہا: شیراز میں دہشت گردانہ حملہ؛ تشدد، انتہا پسندی اور داعش کی دہشت گردی کے خلاف،علاقہ میں ہماری جانب سے ہمہ وقت کھڑے ہونے کے مقصد اور یکجہتی کا ثبوت ہے۔ اس دہشت گردانہ حملے نے ثابت کردیا ہم اور درحقیقت پورا خطہ اور دنیا لیفٹیننٹ جنرل سلیمانی کی قابل فخر شہادت کے کتنے مرہون منت ہیں۔ ایک ایسا شہید جو داعش کی دہشت گردی کے خلاف سب سے مضبوط طاقت ثابت ہوا۔ یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ اسے اسی ٹرمپ نے قتل کیا جس نے اس سے پہلے اعتراف کیا تھا کہ داعش امریکہ کی پیداوار ہے۔
وزیر خارجہ کے سیاسی مشیر نے گفتگو جاری رکھتےہوئےکہا کہ : "داعش کے دہشت گردانہ حملے کو غیر مستحکم کرنے والی مہم سے منسوب نہ کرنا بے ہودہ ہو گا،جس کی حمایت، متعدد مغربی ممالک کی طرف سے جعلی اشتعال انگیز کہانیاں شائع کرکے اور لندن میں واقع سوشل میڈیا اور ٹیلی ویژن چینلز پر تشدد اور نفرت کو ہوا دے کر کی گئی تھی۔"
انہوں نے کہا: یہ بات ایک طویل عرصے سے ہر کسی پر ثابت ہو چکی ہے کہ داعش اور دیگر شدت پسند گروہ، دہشت گردی اور تشدد کو پھیلانے کے لیے ہر اس صورت حال کو استعمال کرتے ہیں جسے وہ غیر قانونی اور بدنظمی سمجھتے ہیں۔ شیراز میں ہونے والا دہشت گردانہ حملہ، جس میں بچوں اور خواتین سمیت 15 بے گناہ لوگوں کی قیمتی جانیں گئیں، اسلامی جمہوریہ ایران کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مزید مضبوط اور مستحکم بنا دے گا۔ انتہائی افسوس اور مایوسی کے ساتھ ہمیں یہ اعلان کرنا پڑتا ہے کہ بعض مغربی ممالک نے اس دہشت گردانہ حملے پر افسوس کا اظہار نہیں کیا اور زبانی طور پر اس دہشت گردانہ حملے کی مذمت کرنے سے بھی گریز کیا۔ حتیٰ کہ اس بچے کے ساتھ، جس نے اس واقعے میں اپنے والد، والدہ اور بھائی کو کھو دیا ،انہوں نے اظہار ہمدردی نہیں کیا۔
امریکہ، یورپ اور انگلستان میں قائم متعدد فارسی زبان کے ٹی وی چینلوں کی طرف سے نفرت پھیلانے اور تشدد کو فروغ دینے کی کوشش
اس سلسلے میں ہمارے ملک کے اس سینئر سفارت کار نے اس اجلاس میں موجود سفیروں سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا: اسلامی جمہوریہ ایران اس معاملے میں کافی پختگی اور بیداری کو پہنچ چکا ہے کہ نہ صرف پرامن اجتماعات میں دہشت گردی کی اجازت نہیں دیتا، بلکہ دہشت گرد گروہوں کو ان مظاہروں کو پرامن حالت سے باہر لے جانے کی اجازت بھی نہیں دیتا۔
باقری نے اپنی بات جاری رکھتےہوئےکہا : مہسا امینی کی المناک موت کے بعد جو پرامن اجتماعات ہوئے وہ اپنے نوجوان ہم وطن کے ساتھ رحم دلی، یکجہتی اور ہمدردی کے ایرانی جذبے کا مظہر تھے اور یہ بھی ظاہر کرتے تھے کہ ملک بھر کے ایرانی خواہ کسی بھی نسل اور مذہب سے تعلق رکھتے ہوں۔ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہیں.. یہ تعزیتی انداز ایرانی عوام کے درمیان مشترکہ اقدار اور جذبات کا اظہار تھا
انہوں نے یاد دلایا: تاہم، یہ پرامن اجتماعات، کچھ ایسے موقع پرست اور دہشت گرد گروہوں کی مداخلت کے بعد پرتشدد ہو گئے جن کی تشدد اور نفرت پیدا کرنے کی ایک طویل تاریخ ہے۔ امریکہ اور کچھ یورپی ممالک بشمول انگلینڈ کے سوشل میڈیا اور ان ممالک میں قائم، فارسی زبان کے متعدد ٹی وی چینلز نے پہلے سے طے شدہ کاموں کو پورا کرنے کے لیے نفرت پھیلانا اور تشدد کو فروغ دینا شروع کر دیا۔
وزیر خارجہ کے مشیر نے کہا کہ گذشتہ چھ ہفتوں کے دوران جھوٹی معلومات اور غلط خبروں کو جس حد اور مقدار میں تیار کیا گیا اور شائع کیا گیا، اس کی مثال نہیں ملتی، اور کہا: اس عرصے کے دوران، جھوٹے دعوے پھیلائے گئے، حقائق کو آسانی سے نظر انداز کیا گیا یا مسخ کیا گیا۔ اور گمراہ کن داستانوں کوغیر معمولی رفتار کے ساتھ پھیلایا گیا۔ اشتعال انگیز مداخلتوں اور بدگمانی کو ہمارے شہریوں کے پرامن اجتماعات پر مسلط کیا گیا۔ جس نے 30 پولیس اہلکاروں سمیت بے گناہ لوگوں کی جانیں لے لیں اور سینکڑوں سرکاری و نجی مقامات کو تباہ کیا اور جلا دیا۔یہاں تک کہ ایمبولینس اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں بھی اس سے محفوظ نہیں رہیں، اور بہت سے صحت اور آگ بجھانے والے محکموں کے ملازمین ان حملوں کے نتیجےمیں زخمی ہوئے۔
انہوں نے یہ بھی کہا: پرامن اجتماعات میں دراندازی کرنے والے کچھ فسادیوں کے وحشیانہ حملوں کے باوجود بھی سیکورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے زیادہ سے زیادہ تحمل سے کام لینے کے لیے نئی ہدایات پر مبنی رویہ پیش کیا۔ پولیس یونٹوں میں ہلاکتوں کی زیادہ تعداد اس دعوے کا ثبوت ہے۔ اہم نکتہ یہ ہے کہ کچھ دہشت گرد نفرت انگیز گروہ اور علیحدگی پسند عناصر پرامن اجتماعات میں گھس کر پولیس کے خلاف آتشیں اسلحے کا استعمال کرتے ہوئے اور مزید تشدد بھڑکانے کے مقصد سے بے گناہ مظاہرین کو نشانہ بنا کر تشدد میں تبدیل کرنے میں کامیاب رہے۔
اس سینئر ایرانی سفارت کار نے اس بات کا بھی تذکرہ کیا کہ تشدد کو ہوا دینے میں بعض مغربی نیٹ ورکس اور میڈیا کا کردار ناقابل تردید ہے۔انہوں نے اس نکتے کی بھی نشاندہی کی کہ دہشت گرد گروہ اور علیحدگی پسند عناصر، آزادی صحافت کی آڑ میں مکمل استثنیٰ حاصل کرتے ہوئے،پوری سرگرمی سے تشدد کو آگے بڑھا رہے ہیں اور ان میڈیا چینلز کو بعض یورپی ممالک کی طرف سے حمایت اور مالی امداد فراہم کی جاتی ہے،۔وہ اپنی بدنیتی پر مبنی مہم کے نتائج کے لیے کسی کو جوابدہ نہیں ہیں جبکہ اسے ایرانی قوم کے خلاف ایک وسیع جنگ کا حصہ سمجھا جا سکتا ہے۔
پابندیوں کے سنگین نتائج کے لیے امریکہ، یورپی یونین اور دیگر ممالک کو جوابدہ ہونا چاہیے
انہوں نے مزید کہا: اسرائیلی حکومت، جس نے طویل عرصے سے ایران کو غیر مستحکم کرنے کا خواب دیکھ رکھا ہے اور اس کے پاس خطے کے کئی ممالک کے خلاف، فوجی مداخلت، جارحیت، دہشت گردانہ حملوں اور سسٹمیٹک تخریب کاری کا ریکارڈ ہے۔ اور وہ منظم طریقے سے اپنے مذموم مقاصد کے حصول میں مصروف ہے۔
باقری نے اپنی تقریر کو جاری رکھتے ہوئے ناظرین سے کہا: براہ کرم یہ نہ بھولیں کہ ایران امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کی طرف سے شدید ترین یکطرفہ اقتصادی پابندیوں کا شکار ہونے کے بعد اسی جابر ملک کے معاھدے JCPOA ( مشترکہ جامع پلان آف ایکشن )سے غیر قانونی انخلاء کا بھی شکار ہوا ہے۔ میں ایک بار پھر اس بات پر زور دینا چاہوں گا کہ پابندیاں لگانے کے اصل محرکین کے طور پر نہ صرف امریکہ، بلکہ یورپی یونین، یورپی ٹرائیکا اور ان کی پیروی کرنے والے دیگر ممالک کو بھی بنیادی طور پر،ایرانی عوام کے بنیادی حقوق پر عائد ایسی پابندیوں کے سنگین نتائج کے لیے جوابدہ ہونا چاہیے۔
انہوں نے سوال کیا: اب جب کہ ایرانی شہریوں کے خلاف امریکہ کے جرائم میں یورپی ممالک جان بوجھ کر ملوث ہیں تو وہ ایرانی عوام سے یہ کیسے توقع رکھتے ہیں کہ ایرانی قوم اس بات پر یقین کرلے کہ وہ لوگ واقعی میں انسانی حقوق کو اھمیت دیتے ہیں؟!
باقری نے ایرانی قوم کے خلاف غیر قانونی اور ظالمانہ یکطرفہ پابندیوں کو دنیا میں انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزی کا سب سے بڑا منصوبہ قرار دیا؛ جس میں امریکہ پروجیکٹ مینیجر ہے اور بہت سے مغربی ممالک اس کے دلال اور نفاذ کرنے والے ملازم ہیں۔انہوں نے مزید کہا: اس منصوبے کا مقصد صرف ایرانی قوم کو ایک مخمصے میں ڈالنا ہے؛ یا تو ہتھیار ڈال دیں یا موت کو گلے لگالیں !
ابھی تک آپ نے لورستان سے تعلق رکھنے والی دس سالہ زہرہ پاپی اور زابل سے تعلق رکھنے والے دس سالہ امیر حسین ناروئی اور تھیلیسیمیا کے 623 مریضوں کا نام نہیں سنا ہے جو یکطرفہ ظالمانہ پابندیوں اور رسائی سے انکار کی وجہ سے اپریل 2018 سے اب تک ضروری ادویات سے محروم ہونے کی وجہ سے قتل ہو چکے ہیں؟!
حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے پوچھا: کیا آپ جانتے ہیں کہ یکطرف طریقے سے لگائی جانے والی پابندیوں نے میرے کتنے ہم وطنوں کو مارا ، کتنے زخمی ہوئے، بے روزگار ہو گئے، ان کی آمدنی میں شدید کمی ہوئی، یا انسانی ہمدردی کی اشیاء تک رسائی سے محروم ہو گئے؟ اب جن معصوم لوگوں کے بنیادی حقوق پامال ہوئے ہیں، ان کا سوال یہ ہے کہ وہ کون سے ممالک ہیں جو انسانی حقوق کی کونسل میں یکطرفہ پابندیوں کے ذریعے ایرانی قوم کے حقوق کی منظم، وسیع اور مسلسل پامالی سے نمٹنے جا رہے ہیں؟
وزیر خارجہ کے سیاسی مشیر نے اس بات کا بھی اضافہ کیا کی آپ لوگوں نے اب تک خود سے یہ پوچھا ہے کہ گذشتہ چند ہفتوں میں ایرانی لڑکی مھسا امینی؛ کا نام ، مغربی اخبارات اور ذرائع ابلاغ ، کیوں مسلسل دہراتے رہے ہیں؟! لیکن اب تک دس سالہ زہرہ پاپی جس کا تعلق لورستان سے ہے،اور امیر حسین ناروئی جس کا تعلق زابل سے ہے، اور تھیلیسیمیا کے دیگر 623 بیمار،اپریل 2018 سے ظالمانہ پابندیوں اور ضروری دوائوں سے محرومی کی بنا پر کس جرم میں قتل کئے گئے ہیں؟! اس سوال کا جواب بہت واضح ہے پابندی لگانے والے اس بات کے لئے تیار نہیں ہیں کہ وہ پابندیوں کے نتیجے میں جن جرائم کے مرتکب ہو رہے ہیں اس کا اعتراف کریں۔حالانکہ وہ اپنے اس کام کے لیے سیاسی پلیٹ فارم اور سوشل میڈیا پراپنی حمایت میں ماحول بھی بنا رہے ہیں۔
علی باقری نے اپنے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے تہران میں مقیم غیر ملکی سفیروں اور سربراہوں کے سامنے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران انسانی حقوق کے مختلف شعبوں منجملہ پرامن مظاہروں پر عقیدہ رکھتا ہے اور اس پر تاکید بھی کرتا ہے۔ ہم حالات کو ملاحظہ کئے بغیر بیرونی مداخلتوں اور ذرائع ابلاغ میں بدنیتی پر مبنی سوشل میڈیا کمپین کی درخواستوں کی پرزور مذمت کرتے ہیں، جو پرامن اجتماعات کے پر تشدد مظاہروں میں تبدیل ہونے کوایک معمولی عمل بنا کر پیش کرتے ہیں۔ پرامن اجتماعات میں دہشت گردی پر مبنی سوچ اور زیادتی کے مرتکب عناصر کو روکا جانا چاہیے نہ کہ ان کے آگے تسلیم ہوا جائے یا ان کے ساتھ مدارا کیا جائے۔
اپنے سیاسی مفادات میں پیشرفت کے لیے بین الاامی اداروں سے غلط فائدہ اٹھانا ایک خطرہ ہے
انہوں نے اپنی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ اس سے قبل اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے سے اجتماعی حقوق کی آزادی اور پرامن تنظیموں کے بارے میں وضاحت لی جا چکی تھی، " اجتماعات اور اعتراضات پر مبنی مظاہروں کو پرامن ہونا چاہیے تاکہ بین الاقوامی قوانین کے ذریعے سے ان کی حفاظت کا عمل انجام پائے اور پرامن اجتماعات کے حق کو تشدد کے ارتکاب کا بہانہ نہ بنایا جائے" ہمارا عقیدہ ہے کہ یہ حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ پرامن مظاہروں اور امن و امان کی صورتحال کو بگاڑنے والے مظاہروں میں فرق رکھیں۔ مظاہروں کی پہلی قسم کو احترام اور حمایت دی جائے جبکہ دوسری قسم کو قانونی طریقے سے روکا جائے اور اس کے حل کو عدالت کے سپرد کیا جائے۔
انہوں نے تمام ممالک کو اس بات کی دعوت دی کہ وہ قانون کی بالادستی کا احترام کریں اور بین الاقوامی قوانین کی ،اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق پابندی اور احترام کریں۔انہوں نے مزید اضافہ کیا کہ یکطرفہ بنیادوں پر زبردستی اپنا کر کئے جانے والے اقدامات چاہے کسی بھی قسم کے ہوں یا کسی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت، ایک ہی سکے کی دو تصویریں ہیں۔ اور ہم دونوں کی مذمت کرتے ہیں اور ان کو ختم ہونا چاہیے۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مشیر نے سنجیدگی سے،اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے، بین الاقوامی تنظیموں سے مسلسل فائدہ اٹھانے کے نقصانات کے بارے میں خبردار کیا اور کہا: نیویارک اور جنیوا میں امریکہ کی، اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف کی گئی کمپین اس ملک کے ساتھ ختم نہ ہونے والی دشمنی اور ایران کو خطرناک ملک ثابت کرنے اور ہمارے ملک کو دباؤ میں رکھنے کی ایک مثال ہے۔امریکہ، اقوام متحدہ، منجملہ سکیورٹی کونسل اور انسانی حقوق کی کونسل کو اپنے دوستوں کو نوازنے اور دشمنوں کو سزا دینے کے وسیلے کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے۔ کوئی بھی آزاد منش اور ذمہ دار ملک، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو اس بات کی اجازت نہیں دے سکتا کہ میں متحدہ کے نظام کو اپنے ہی سسٹم میں موجود افراد کے خلاف وسیلہ کے طور پر استعمال کرے۔
انہوں نے کہا کہ ہم تمام ممالک سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہوشیاری اپنائیں اور امریکہ کو اس بات کی اجازت نہ دیں کہ وہ بین الاقوامی تنظیموں سے غلط فائدہ اٹھا کر تنظیم کے ڈھانچے کو مخدوش کرنے کے لئے مزید کسی خطرناک رویے کا ارتکاب کرے۔