ڈاکٹر انسیہ خزعلی: 13ویں دور حکومت میں لڑکیوں نے اب تک 877 تمغے جیتے ہیں
مشیر صدرمملکت برائے خواتین و خاندانی امور نے بااثر خواتین کی بین الاقوامی کانگریس کے اختتام پر اس بات کااظہارکیا: امام خمینی کی قیادت میں رونما ہونے والے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ایرانی خواتین؛ سائنسی اور ثقافتی سرگرمیوں میں نمایاں ترقی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں اور ناخواندگی کو جڑ سے ختم کیا۔
ڈاکٹر خزعلی نے مزید کہا: حفظان صحت کے لحاظ سے، خواتین کی کمیونٹی اچھی طرح سے صحت اور صفائی پلاننگ کا حصہ بنی۔ جبکہ متوقع عمر کی شرح 54 سال سے بڑھ کر 78 سال ہوگئی۔ آج طبی عملے کا نصف حصہ خواتین پر مشتمل ہے۔
مشیر صدر مملکت نے اس بات پر زور دیا کہ: "خواتین نے اپنی قومی اور اسلامی اقدار کو برقرار رکھتے ہوئے، مختلف قومی اور عالمی میدانوں میں شاندار طریقے سے خود کو ثابت کیا ہے۔
انہوں نے اس نکتے کی جانب اشارہ کیا کہ : خواتین کی شاندار پرفارمنس کی ایک واضح مثال کھیلوں کے وہ میدان ہیں،جہاں انہوں نے ہزاروں تمغے جیتے ہیں، صرف موجودہ دور حکومت میں لڑکیوں نے، اب تک 877 تمغے جیتے ہیں۔
ڈاکٹر خزعلی نے کہا: آپ سب امتیازی سلوک اور عدم مساوات سے پریشان رہتے ہیں۔اپنے اندر موجود نزاکت اورخاص تخلیقی پوزیشن کے باوجود عورتیں برابری سے بالاتر ہو کر سوچتی ہیں۔آپ منفرد اور نامورخواتین میں سے اکثریت یہ مانتی ہیں کہ، مساوات کے نام پر عورتوں پر ایسی چیزیں مسلط کی گئی ہیں کہ جو بے انصافی پر مبنی ہیں۔
مشیر صدر مملکت نے اعلان کیا کہ: آج ہماری خواتین برابری سے بالاتر ہوکر انصاف چاہتی ہیں، وہ عدل و انصاف جو خواتین کے مقدس تشخص کو تسلیم کرے۔ جس طرح قانون سازی،رویوں میں اصلاحات اور تہذیبی ترقی کو فروغ دے کر، خواتین پر تشدد اور زیادتی کو کسی بھی شکل میں روکا جانا چاہیے، اسی طرح خواتین کی نزاکت کے پیش نظر خاندان اور معاشرے میں ان کی حمایت کی ضرورت پربھی تاکید کی جانی چاہئے۔
انہوں نے مزید کہا:تاہم خواتین حمایت طلبی سے آگے بڑھ چکی ہیں اور بااثر، مختلف کرداروں کی حامل اور رھنما خواتین میں تبدیل ہوچکی ہیں۔