جمعرات کی شام آیت اللہ ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی نے بااثر خواتین کی بین الاقوامی کانگریس میں شرکت کرنے والے اعلیٰ عہدے داروں کے ساتھ ملاقات میں اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے مختلف ممالک کی بااثر خواتین کی میزبانی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا: مجھے امید ہے کہ عالمی کانگریس میں شریک خواتین؛ اتفاق رائے، یکسانیت اور مشترکہ خیالات کو سامنے رکھتے ہوئے عالمی سطح پر خواتین کے صحیح حقوق کے حصول کے لئے قدم اٹھائیں گی۔
ڈاکٹر رئیسی نے ان ملاقاتوں اور خیال کے تبادلوں کو مختلف ممالک اور اقوام کے درمیان تعاون کی راہ ھموار کرنے کے لئے سازگار قرار دینے ہوئےکہا کہ:ہمارے نزدیک، اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مرد اور عورت تخلیق کی بنیاد پر مختلف ہیں،تاہم انسانیت کی بنیاد پر مرد اور عورت میں کوئی فرق نہیں ہے۔ انسانی بلندیوں تک رسائی کے معاملے میں مرد اور عورت میں کوئی فرق نہیں ہے اور جو اس سمت میں زیادہ کوشش کرے گا وہ اتنا ہی اخلاق، روحانیت اور انسانیت کی بلندیوں پر پہنچے گا۔
صدر مملکت ایران نے پوری تاریخ میں مردوں کے شانہ بشانہ خواتین کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا: جب ہم تاریخ کا جائزہ لیتے ہیں تو ہم ابراہیم خلیل (ع) کے ساتھ ہاجرہ، موسیٰ کلیم (ع) کے ساتھ آسیہ، عیسیٰ مسیح کے ساتھ مریم،محمد مصطفیٰ(ص) کے ساتھ خدیجہ (س)،جبکہ فاطمہ اطہر (س) دنیا کی خواتین کے نمونے کے طور پر، اپنے والد، شوہر اور بچوں کے ھمراہ، اور وہ عظیم خاتون جن کی قبر پر آج آپ نے قم میں زیارت کی ہے۔ان سب کی موثرموجودگی کا مشاہدہ کرتےہیں۔
آیت اللہ رئیسی نے کہا کہ ہمیں تاریخ میں ایسا کوئی اہم واقعہ نظر نہیں آتا ہے ،جس میں خواتین نے اہم کردار ادا نہ کیا ہو۔ انہوں نے واضح کیا: خواتین کو معاشروں میں پسماندہ یا الگ تھلگ نہیں کیا جانا چاہیے۔ مغربی طاقتوں اور سیاست دانوں کی طرف سے خواتین کے بارے میں دقیانوسی یا اسے نمائشی سامان سمجھنے والے دونوں ہی نظریات، ناکام اور مسترد ٹہرائے جاچکے ہیں۔عورت کی صحیح تعریف یہ ہے کہ مرد اور عورت دونوں ایک ہی جیسے انسان ہیں، بلکہ ایسی خواتین بھی ہیں جو مردوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
صدر نے یورپ ،افریقہ اور ایشیا کی تاریخ میں اہم اور بااثر کردار کی حامل خواتین، فنکاروں، تاریخ دانوں، سائنسدانوں اور سیاست دانوں کا تذکرہ کرتےہوئےکہاکہ:اسلامی جمہوریہ ایران میں امام خمینی(رح) نے اسلامی نظام کے بانی کی حیثیت سے، شروع سے ہی خواتین کے بااثر کردار کی یاد دہانی کرائی اور ہماری خواتین نے ہمیشہ سائنسی، ثقافتی، سماجی اور سیاسی واقعات میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔
ڈاکٹر رئیسی نے مزید کہا: آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ کے دوران جب ملک پر حملہ کیا گیا، شہروں کے دفاع اورمردوں میں مزاحمت کی تحریک کو جوش و جذبہ سے سرشار کرنے میں ہماری خواتین کا کردار بہت اہم اور موثر تھا۔
صدر مملکت نے صیہونی حکومت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف فلسطینی قوم کی مزاحمت کو فلسطینی خواتین کے بااثر کردار سے بھی منسوب کیا اور کہا: وہ خواتین جو مزاحمت کے قومی فریضہ کے دوران، شہید یا زخمی ہوئیں یا جنہوں نےالفاظ اور تاثرات کے ذریعے ظلم و بربریت کے خلاف آواز بلند کی، انہوں نے بھی اس قوم کی تاریخ رقم کرنے میں مرکزی اور بااثر کردار ادا کیا ہے۔
آیت اللہ رئیسی نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے،حضرت زینب کبری (س) کو تاریخ کی سب سے بااثر خواتین میں سے ایک کے طور پر متعارف کرایا، جنہوں نے ظلم و جبر کے خلاف آواز بلند کی اور حق خواہی کے پرچم کو لہرایا۔انہوں نے کہا کہ: ہم امید کرتے ہیں کہ یہ اجلاس حقوق اور انصاف کے حصول اور دفاع میں خواتین کے کردار کو اجاگر کرے گا۔
انہوں نے خواتین کے حقوق اور عزت کے تحفظ کو اسلامی جمہوریہ کے آئین کا سب سے اہم اور نمایاں محور قرار دیا اور کہا: یقیناً یہ وہ حق نہیں ہے جو سیاست دانوں اور حکومتوں نے خواتین کو دیا ہے بلکہ یہ حقوق، اللہ تعالیٰ نے خواتین کو عطا کیے ہیں اور حکومتوں کو صرف اس کی حفاظت کرنی چاہیے۔
ڈاکٹر رئیسی نے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران میں شروع سے ہی ہم نے بین الاقوامی فورمز میں اس حق کا دفاع کرنے اور مختلف شعبوں میں خواتین کی شرکت اور اس کے اثرات بڑھانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ خوش قسمتی سے آج ہمارے ملک میں یونیورسٹی کے 30% سے زیادہ پروفیسرز، طب اور صحت کے شعبے میں 34% سے زیادہ فعال افراد اور سائنسی و علمی مراکز کے مختلف شعبوں میں تقریباً 60% ایرانی خواتین اور لڑکیاں جبکہ انتظامی عہدوں اور ماہرین کا 30 فیصد حصہ بااثر ایرانی خواتین کے اختیار میں ہے۔
صدر نے مزید کہا: "اس کے علاوہ آج ان خواتین کی تعداد بھی پہلے سے بڑھ گئی ہے جنہیں ملکی اور بین الاقوامی کھیلوں کے میدان میں چیمپئن شپ تک پہنچنے کا موقع ملا ہے۔
صدر مملکت نے اقتصادیات اور صنعت کاری میں ایرانی خواتین کے بااثر کردار کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا: ہم سمجھتے ہیں کہ خواتین مختلف سائنسی، اقتصادی، سیاسی، ثقافتی، سماجی اور کھیلوں کے میدانوں میں مردوں کے شانہ بشانہ موثر ثابت ہوسکتی ہیں۔
آیت اللہ رئیسی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ دعووں کے باوجود مغربی ممالک میں بہت سے معاملات میں خواتین کے حقوق پامال ہوتے ہیں، مزید کہا: امریکی اور برطانوی میڈیا میں شائع ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق ان ممالک کی پولیس کے ہاتھوں ہر سال کئی خواتین کو محض اس جرم کی پاداش میں قتل کیا جاتا ہے کہ انہوں نےاپنے حقوق مانگنے کی کوشش کی تھی۔
صدرمملکت نے مزید کہا:آج اسلامی جمہوریہ ایران سے ان ممالک کی ناراضگی کا سبب یہ ہے کہ اس نے معاشرے کی خواتین کے اصولوں اور اقدار کے تحفظ کے ذریعے زندگی کا ایک نیا طریقہ پیش کیا ہے، جو انہیں ثقافتی سیاسی، سماجی اور تفریحی میدانوں میں اعلی مقام تک پہنچنے میں کامیابی عطا کرتا ہے۔
ڈاکٹر رئیسی نے کہا: اس طرز زندگی میں، اسلامی جمہوریہ ایران ،خواتین کے بارے میں نہ ہی دقیانوسی نظریہ پر یقین رکھتا ہے اور نہ ہی خواتین کے بارے میں نمائشی سامان جیسے مغربی نظریہ کو منظور کرتا ہے، بلکہ اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ خواتین بذات خود شخصیت کی مالک ہیں اور اس نے ہمیشہ خواتین کے اس مقام کا دفاع کیا ہے۔
صدر مملکت نے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران میں ہم نے ہمیشہ خواتین سے متعلق قوانین و ضوابط میں اس بات پر زور دیا ہے کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ اور خاندان کی تشکیل کے مسئلے پر خصوصی توجہ دی جائے۔
آیت اللہ رئیسی نے تہذیبی خصوصیت کے عنوان سے ہم جنس پرستی کے قبیح رجحان کے پھیلنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: اس طرح کے نظریات انسانیت کی تباہی اور زوال کا باعث ہیں اور اسلامی جمہوریہ ایران ان زوال پذیر مظاہر کی مذمت کرتے ہوئے خواتین کے فعال کردار کو اہمیت دیتا ہے۔ اور اس حوالے سے بہت کچھ کہنے کی گنجائش موجود ہے۔
صدر مملکت نے اس اجلاس کے عنوان کو نہایت موزوں اور معنی خیز بیان کیا اور کہا: ہمیں امید ہے کہ ہمسایہ ممالک، خطے اور دنیا کی خواتین کے لیے بااث خواتین کے عنوان سے ہونے والی اس ملاقات کے اثرات، مفید اور مثبت نتائج کے حامل ہوں گے۔
ڈاکٹر رئیسی نے مزید کہا: آج تمام ممالک کے لیے اسلامی جمہوریہ ایران کا پیغام تمام شہریوں کے لیے امن، دوستی، سکون، پرامن زندگی اور سلامتی کا پیغام ہے۔ ہم کسی بھی صورتحال میں کسی بھی قوم کے لیے جنگ کو پسند نہیں کرتے ہیں،کیونکہ ہم خود ایک مسلط کردہ اور ناگوار جنگ کا شکار ہو چکے ہیں۔ ہمیں کسی ملک کی سرزمین کے کسی ایک بالشت حصے سے بھی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔لیکن ہم تمام ممالک کی علاقائی سالمیت کے حامی اور مشکل وقت میں اپنے پڑوسیوں کے دوست رہے ہیں۔
صدر مملکت نے ،عراق و شام اور پورے خطے کے عوام کے دفاع میں شہید جنرل حاج قاسم سلیمانی کی قربانیوں کو اسلامی جمہوریہ ایران کی اسی اصولی اور انسان دوست پالیسی کا نتیجہ قرار دیا اور کہا: ہم سمجھتے ہیں کہ کسی بھی شخص پر ظلم نہیں ہونا چاہیے اور کسی طرح کا ظلم برداشت نہیں کرنا چاہیے۔ ہم سب کے لیے انصاف کو پسند کرتے ہیں اور تمام اقوام عالم کے لیے امن اور سلامتی کے خواہاں ہیں۔
آیت اللہ رئیسی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ آج آزادی اور خواتین کے حقوق کے دفاع کے خوبصورت نعروں کے ساتھ اس گروہ پر سب سے زیادہ مظالم ڈھائے جارہے ہیں، کہا: اسلامی جمہوریہ ایران تمام اقوام، تمام مردوں اور تمام عورتوں کی آزادی کو پسند کرتا ہے اور اس پر کاربند ہے۔
صدر نے مزید کہا: ہم سمجھتے ہیں کہ فلسطینی عوام پر ظلم انسانیت پر ظلم ہے اور دنیا میں کہیں بھی انسانی حقوق کو پامال کرنا،ہماری نظر میں قابل مذمت ہے۔
ڈاکٹر رئیسی نے عورتوں اور مردوں کے حقوق، انصاف اور حق کے دفاع میں اسلامی جمہوریہ ایران کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا: حضرت امام خمینی (رہ) ، رھبر معظم آیت اللہ خامنہ ای اور ہمارے قانون نے ابتدا سے ہی شہریوں کے حقوق پر توجہ دینے کی تاکید کی تھی۔ اور ہم بھی ان حقوق کی حفاظت اور قیام کے پابند ہیں۔
آخر میں صدر مملکت نے تاکید کرتے ہوئے کہا: مجھے امید ہے کہ اس اجلاس میں دانشور، سائنس دان اور ماہرین، خواتین اور خاندانی مسائل کے بارے میں نظریات کا تبادلہ کریں گے،جو مختلف شعبوں اور مختلف معاشروں میں خواتین کی تاثیر کو فروغ دینے کا باعث بنے گا اور جمہوریہ اسلامی ایران بھی اس میدان میں اپنے تجربات سے آگاہ کرنے کے لیے تیار ہے۔
آیت اللہ رئیسی نے مزید کہا: مجھے امید ہے کہ آپ کا ایران کا دورہ یادگار رہے گا۔ اور آپ اس ملاقات سے اپنے ممالک میں قیمتی تجربات سوغات کے طور پر لے جائیں گے۔
صدر کی تقریر سے پہلے برکینا فاسو کے وزیر اعظم کی اہلیہ، سربیا کے صدر کی اہلیہ، ایکواڈور کے پارلیمنٹ کی ڈپٹی سپیکر، آرمینیا کے وزیر اعظم کی اہلیہ اور عراقی پارلیمنٹ کی رکن نے ایک مختصر تقریر میں خواتین کے مختلف مسائل پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اس اجلاس کے انعقاد کے لیے اسلامی جمہوریہ ایران کی پیش قدمی اور پیش رفت کو سراہتے ہوئے ایران کے تجربات اور پیشرفت کا ذکر کیا اور خواتین کو بااختیار بنانے اور مختلف سیاسی، معاشی، سماجی، ثقافتی اور صحت اور طبی شعبوں میں ان کی تاثیر کو مضبوط بنانے کےطریقوں کو سراہا۔