ڈاکٹر خز علی نے اقوام متحدہ کی خواتین کی حیثیت سے متعلق کمیشن کے اجلاس میں کہا؛
انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کرنے والے،عورت کمیشن کی کرسی پر ایران کے حق رائے دہی، کو ختم کرنے میں پیش پیش تھے۔
اقوام متحدہ میں عورت کمیشن کی کرسی پر ایران کے حق رائے دہی، کو ختم کرنے کے لیے مخصوص ممالک کی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے مشیر صدر مملکت برائے خواتین و خاندانی امور نے کہا: ’’ اس واقعے کا مزاحیہ تلخ پہلو یہ ہے کہ وہ ممالک اس معاملے میں آگے آگے تھے،جن کے اپنے ملکوں میں خواتین، بالخصوص سیاہ فاموں کے قتل اور قید کے کیسز کی تعداد سب سے زیادہ ہے اور ان ممالک میں خواتین پر تشدد، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کی ایک مثال ہے۔
ڈاکٹر انسیہ خزعلی نے خواتین کی حیثیت سے متعلق کمیشن کے 67ویں اجلاس میں، جس کا مقصد، خواتین کے حالات اور دنیا بھر میں خواتین کی ترقی کی بہتری کا جائزہ لینا تھا، میں کہا: خواتین کی حیثیت سے متعلق کمیشن کے 67ویں اجلاس کو میں، اپنے لئے ایک موقع سمجھتی ہوں،جس کا مقصد، خواتین کے حالات اور دنیا بھر میں خواتین کی ترقی کی بہتری کا جائزہ لینا ہے،
یہاں میں نہ صرف بطور قانونی مشیر صدر مملکت اسلامی جمہوریہ ایران بلکہ اس نظام کی بااختیار ایرانی خاتون کی حیثیت سے اس بات کو تسلیم کرتی ہوں کہ؛ خواتین کی حیثیت سے متعلق کمیشن اور اقوام متحدہ کے دیگر اداروں کا قیام،ان خواتین اور مردوں کی طویل برسوں کی جدوجہد کا نتیجہ ہے،جو نہ صرف سپر پاورز بلکہ تمام دنیا کے انسانوں سے یہ چاہتے تھے کہ وہ طاقت کے استعمال، رنگ و نسل، جنس اور مذہب، جغرافیائی خطوں اور معاشی خصوصیات سے بالاتر ہو کر یکساں انداز میں بات کریں اور فیصلے کریں۔
انہوں نے مزید کہا: آج کی ہماری ملاقات میں کثیرالجہتی میدانوں میں کامیابی کی تمام کوششوں کی عکاس ہونا چاہئے تھی،مگر کیا واقعی ایسا ہوا ہے؟ کیا ہم آج یہاں اپنی نشستوں پر،مساوی انداز میں،اور مساوی حق رائے دہی کے ساتھ جمع ہوئے ہیں؟ مغرب کے سیاسی کھلاڑیوں نے ذرائع ابلاغ پر قبضہ کے ذریعے جھوٹے ڈھونگ اور جھوٹے کھیل رچاکر، ایرانی خواتین کو قانونی مراحل طے کرنے کے بعد، جس طرح اس کمیشن میں رکنیت کے قانونی حق سے محروم کیا، وہ نہ صرف اقوام متحدہ کے اصولوں اورعالمی سطح پر کثیر الجہتی مقاصد کے حصول کے نظریات کی خلاف ورزی ہے، بلکہ ایسا خطرناک اور غیر مناسب جدید ردعمل ہے جسے آنے والے وقتوں میں بھی بار بار دیکھا جاسکے گا ۔
ڈاکٹر خزعلی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ ایران کی رکنیت ایسے زمانے میں منسوخ کی جا رہی ہے جب اس ملک کی خواتین مختلف شعبوں بالخصوص صحت میں مذکورہ ممالک سے بہتر صورتحال میں ہیں، مزید کہا: ان سب کے علاوہ میرا ملک،اپنی خواتین کی ترقی کے ساتھ ساتھ، افغان مہاجر خواتین کو بھی اعلیٰ سطح تک تعلیم یافتہ بنانے میں کامیاب رہا ہے۔
ان کا ماننا ہے کہ ایران کی رکنیت منسوخ کرنے کا بہانہ، جھوٹ اور تسلط پسند طاقتوں کے دباؤ اورخریدے ہوئے میڈیا کے ہنگاموں پر مبنی تھا،جس کا خالصتاً سیاسی مقصد ایران کو تنہا کرنا تھا۔
اپنی تقریر کے دوسرے حصے میں مشیر صدر مملکت برائے خواتین و خاندانی امور، نے ایرانی خواتین کی ترقی کے اعدادوشمار پیش کیے اور اس بات کی نشاندہی کی : میرے ملک نے پرائمری اور سیکنڈری میں صنفی فرق کو 97 فیصد تک کم کرتے ہوئے مربوط اور مساوی تعلیم پر سنجیدگی سے توجہ مرکوز کی ہے۔جس کے بعد ناخواندگی، لڑکیوں میں جڑ سے ختم ہوگئی ہے۔
ڈاکٹر خزعلی نے کہا کہ ایسے حالات میں مخالف میڈیا کے پروپیگنڈے نے عالمی سطح پر ایرانی خواتین مفکرین کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کی کوشش کی ہے کہ جب پچھلی دہائیوں میں مرد گریجویٹس کی تعداد میں 7 گنا اضافہ ہوا ہے، جبکہ ایرانی خواتین گریجویٹوں کی تعداد میں، ماضی کے مقابلے میں 17 گنا اضافہ ہوا، انہوں نے واضح کیا کہ: یونیورسٹیوں کی فیکلٹی میں خواتین ممبران کا تناسب تقریباً 40% تک بڑھ گیا ہے اور 60% اساتذہ خواتین پر مشتمل ہیں۔ گلوبل انوویشن انڈیکس کی 2022 کی رپورٹ کے مطابق، میرے ملک کے اعلیٰ تعلیم اور ثانوی تعلیمی کورسز میں مردوں کے شانہ بشانہ 56 فیصد سے زیادہ خواتین کی موجودگی نے اختراع کے میدان میں کارکردگی کی تیز ترین ترقی کا عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے۔
انہوں نے کہا: خواتین کی سرپرستی یا شراکت کے ساتھ 940 علمی سائنسی کمپنیوں کی سرگرمی اور 2700 سے زیادہ نولج بیسڈ کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں خواتین کی شرکت، ملک بھر میں 303 خواتین کی تخلیقی کمپنیوں کی سرگرمی، اور سینکڑوں کی حمایت۔ ٹیکنالوجی اور ورچوئل اسپیس کے شعبے سے متعلق منصوبے کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی، خواتین کی زیادہ سے زیادہ شرکت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
مشیر صدر مملکت برائے خواتین و خاندانی امور، نے اپنے خطاب کے آخر میں یاد دہانی کرائی: اسلامی جمہوریہ ایران، عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ خواتین کے ترقی کے حق کی خلاف ورزی ،جو کہ جنگوں اور یکطرفہ جبر کی پابندیوں کی وجہ سے ہے اور جو انسانی حقوق کے نام پر جدید غلط طریقہ کار کے طور پر وجود میں لائی گئی ہے، کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور خاص طور پر خواتین اور بچوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے ان طریقوں کو روکنے کی کوشش کریں