ڈاکٹر خزعلی نے ازبکستان میں خواتین کے فورم کے بین الاقوامی اجلاس میں کہا
ایرانی خواتین کی شاندار کامیابیوں کا تعارف / اسلامی جمہوریہ، تعلیمی مواقع کی یکساں فراہمی کے معاملے میں انصاف کے میدان میں دنیا کے کامیاب ترین ممالک میں سے ایک ہے،
مشیر صدرمملکت برائے خواتین و خاندانی امور ڈاکٹر انسیہ خزعلی نے خواتین کی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کی غرض سے
ازبکستان کا سفر کیا، وہ آج صبح تاشقند پہنچیں جہاں ازبکستان کے وزیر اعظم کی مشیر زلیخا محکموف سمیت مقامی حکام نے سرکاری طور پر ان کا خیرمقدم کیا۔
ڈاکٹر خزعلی نے اس کانفرنس کے پہلے غیر ملکی مقرر کے طور پر، اسلامی جمہوریہ ایران میں خواتین کے اعلیٰ مقام اور ان کے مادی اور اخلاقی حقوق کی تکمیل کے سلسلے میں متعدد قوانین و ضوابط کی موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران اس بات کا عقیدہ رکھتاہے کہ خواتین ماں اور زوجہ کا کردار ادا کرتے ہوئے ، اپنے اور معاشرے کی ترویج و ترقی میں موثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔
انہوں نے مختلف شعبوں میں ایرانی خواتین کی شاندار کامیابیوں اور اعدادوشمار کا ذکر کیا؛ جن میں؛تعلیم، متوقع عمر کے انڈیکس میں بہتری، صحت اور علاج کے شعبے میں خواتین کی مضبوط اور موثر موجودگی، ان کے لیے وسیع انشورنس کوریج مختص کرنا وغیرہ ۔ جبکہ سائنسی میدانوں میں خواتین کی کمپنیاں، زراعت، صنعتوں، فن تعمیر، خوراک اور ادویات کے شعبوں میں ان کی فعال موجودگی، کاروباری افراد، اقتصادی کارکنوں اور تاجروں کے روپ میں موجودگی وغیرہ جیسی چیزیں خواتین کی سطح پر بہت سے ناگفتہ مسائل کو ثابت کرتی ہیں۔
مشیر صدرمملکت برائے خواتین و خاندانی امور نے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم کے میدان میں صنفی فرق کو 97 فیصد تک کم کرکے تعلیمی انصاف کے قیام کے لحاظ سے دنیا کے پہلے کامیاب ممالک میں سے ایک بن چکا ہے۔
ڈاکٹر خزعلی نے اس بات کی نشاندہی کی کہ ایرانی خواتین کی متوقع عمر 78 سال تک پہنچ گئی ہے اور بچے کی پیدائش کی پیچیدگیوں کی وجہ سے زچگی کے نتیجےمیں شرح اموات نمایاں طور پر کم ہو کر فی 100,000 افراد میں 20 سے بھی کم ہو گئی ہے۔
انہوں نے پیشہ ورانہ کھیلوں کے میدان میں ایرانی خواتین کی مفید شرکت اور بین الاقوامی تمغوں کی شاندار کامیابی کی طرف اشارہ کیا اور فن، سینما اور میڈیا کے میدان میں خواتین کی فعال موجودگی کی پر زور تاکید کی۔
یونیورسٹی کی اس پروفیسر نے خواتین معاشی خودمختاری کے فریم ورک میں گھرانوں کی سربراہ خواتین کے لیے پائیدار کاروباری نظام اور دیہی خواتین کے مائیکرو فنڈ کے پروگرام اور حکمت عملی کے نفاذ سے باخبر کرتے ہوئے کہا: خواتین کے لیے موجودہ 2 ہزار کوآپریٹیو سسٹم کے تحت، 60 ہزار خواتین کو روزگار اور سیلز مارکیٹ تک رسائی حاصل رہی ہے۔
ڈاکٹر خزعلی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: یہ کامیابیاں غیر قانونی یکطرفہ پابندیوں کے باوجود حاصل ہوئی ہیں اور اسلامی جمہوریہ ایران اضافی عزم اور حوصلہ کے ساتھ مستقبل میں انسانی ترقی اور خواتین کی ترقی و بلندی کے اس سفر کو جاری رکھے گا۔
خواتین سے متعلق چار مسائل میں انہوں نے وسط ایشیائی ممالک اور دیگر ممالک کے شرکاء کے ساتھ تعاون کی تجویز پیش کی اور کہا: ان تجاویز میں خواتین کے زیر انتظام سائنسی کمپنیوں ، ہر قسم کی بدعنوانی کے خلاف خواتین بالخصوص ملازمت اور روزگار سے متعلق تنظیموں کی تشکیل، منشیات اور خواتین کی اسمگلنگ،اور خاندان کی حیثیت اور ان کی صحت اور استحکام کو بہتر بنانے جیسے امور میں تعاون شامل ہے۔
مشیر صدرمملکت برائے خواتین اور خاندانی امور نے خاندان کو اس کے فطری راستے سے ہٹانے کے لیے بین الاقوامی سطح پر جاری غلط اور تباہ کن پالیسیوں کے خلاف لڑنے کی ضرورت پر زور دیا اور اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے اپنے تجربات اور مثبت اقدامات سے آگاہ کرنے کے لئے آمادگی کا اظہار کیا