مشیر صدرمملکت برائے خواتین و خاندانی امور ڈاکٹر انسیہ خزالی نے میزبانی پر ازبکستان کا شکریہ ادا کیا اور اس ملک کی جانب سے خواتین کی حمایت اور خاندان کی حالت کو بہتر بنانے کے لیے کئے گئے اقدامات کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان ایگزیکٹو اور قانون ساز اداروں کے درمیان دو طرفہ اور بین الاقوامی سطح پرتعاون کو مزید وسعت دی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا:حکومتی سطح پر قوانین کی منظوری میں تیزی لانے کے لیے خواتین اور فیملی ہیڈ کوارٹر تشکیل دیا گیا ہے۔
مشیر صدرمملکت برائے خواتین و خاندانی امور نے پارلیمنٹ میں خواتین کے تحفظ کے فروغ اور نوجوان جوڑوں کو مشورے فراہم کرنے کے بل کی منظوری کے عمل میں پیش رفت کا بھی اعلان کیا اور کہا: دودھ پلانے کی مدت کے اختتام تک خواتین کے لیے بیمہ مختص کرنا، 5 سال تک کے بچوں کے لیے ہیلتھ انشورنس، بانجھ پن کے بیمہ کی 100% کوریج، تنخواہ کے ساتھ، زچگی کی چھٹی میں 6 ماہ سے بڑھا کر 9 ماہ تک توسیع،6 سال سے کم عمر بچوں کی ماؤں، معذوروں اور گھرانوں کی سربراہ خواتین کے لئے کام کے اوقات میں کمی، اور تمام اداروں اور تنظیموں کی خواتین ملازمین کے بچوں کے لیے کنڈرگارٹن بنانے کو لازمی قرار دینا وغیرہ،خواتین کی مدد کے لیے قانون سازی کے اقدامات کا حصہ ہیں۔
ڈاکٹر خزعلی نے نشاندہی کی کہ : اسلامی جمہوریہ ایران اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ صنفی مساوات صرف خواتین کے مفادات ہی فراہم نہیں کرتی بلکہ خواتین کی،گھرداری اور پرورش جیسی عظیم ذمہ داری کو دیکھتے ہوئے خواتین کی زیادہ خصوصی حمایت کی جانی چاہئے، اس لیے ہماری جانب سے صنفی انصاف کے قیام پر زور دیا گیا ہے۔
انہوں نے مغربی ممالک سے خاندان کے تصور کے انحراف کا ذکر کرتے ہوئے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ ایران کی طرح ازبکستان نے بھی فطری خاندانی نظام کو تسلیم کیا ہے اور کہا: ہمیں امید ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور آپریشنل کام کے لیے ایک مشترکہ کلینڈر قائم کیا جائے گا۔
اس ملاقات میں ازبکستان کی سینیٹ کی اسپیکر تنزیلہ نربایوا نے گزشتہ سال ہمارے ملک کے صدر کے دورہ سمرقند اور ازبکستان کے صدر کے حالیہ دورہ تہران کو تعلقات اور تعاون کے ایک نئے باب کا آغاز قرار دیا اور دونوں ممالک کے درمیان بین الاقوامی تعاون کو مزید وسعت دینے کی امید کا اظہار کرتے ہوئے شنگھائی تنظیم میں ہمارے ملک کی رکنیت کی تکمیل پر مبارکباد دی۔
انہوں نے گذشتہ سال، اسلامی کونسل کے اسپیکر ڈاکٹر قالیباف کے دورہ تاشقند اور ازبکستان کے ایوان نمائندگان کے اسپیکر کے دورہ تہران کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اعلیٰ سطح کے تعاون کے سبب ازبکستان کے تمام انتخابات میں ایران کا ایک وفد بطور مبصر موجود ہے اور توقع ہے کہ ہم آئندہ انتخابات میں ایرانی نمائندوں کی میزبانی کریں گے۔
ازبکستان کی سینیٹ کی اسپیکر نے تہران میں بااثر خواتین کے اجلاس کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ازبک مہمانوں نے خواتین اور خاندان کے شعبے میں ایران کی پیشرفت کو قریب سے دیکھا اور ہم خواتین کی صحت کے شعبے میں خواتین کی حمایت کے لیے قانون سازی کرنا چاہیں گے۔ خواتین کی ملازمت اور معاشرے میں ان کی موجودگی کی حمایت سمیت ایران کے ساتھ تعاون کرنا ہماری خواہش ہے۔
نربائیوا نے اسلامی ممالک کی پارلیمنٹ کی خواتین نمائندوں کے آئندہ اجلاس کا ذکر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس اجلاس میں ایرانی نمائندے شرکت کریں گے۔
انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر عمل درآمد اور اس کی نگرانی کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا: "حالیہ برسوں میں ازبکستان میں خواتین کے تحفظ کے لیے 40 قوانین کی منظوری دی گئی ہے، اور خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے تناظر میں تمام مسودہ قوانین کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
اس ازبک سربراہ نے اپنی بات جاری رکھتےہوئےکہا : ہم خواتین کے لئے بھی صنفی انصاف کا اطلاق چاہتے ہیں۔ اس وقت ازبکستان کی پارلیمنٹ میں خواتین کی 32% نشستیں ہیں۔ خواتین کے لیے 3 سال کی زچگی کی چھٹی ہوتی ہے، جس میں سے 2 سال تک تنخواہ کی ادائیگی بھی کی جاتی ہے، اور حکومت بھی خواتین کی کفالت کے لیے نجی شعبے کو حصہ ادا کرتی ہے۔
ناربائیوا نے نشاندہی کی کہ: ازبکستان کو بااثر خواتین کی انجمن کا رکن ہونے پر فخر ہے۔ نیز، 5 وسطی ایشیائی ممالک کی خواتین رہنماؤں کا کلب قائم کیا گیا ہے، جسے ہم امید کرتے ہیں کہ خواتین کی بااثر تنظیم میں قانونی حصہ کے طور پر قبول کیا جائے گا۔