ڈاکٹر خزعلی نے تجویز پیش کی؛
ہم خاندان کے میدان میں عالمگیر مشترکات تلاش کر رہے ہیں
مشیر صدر مملکت برائے خواتین اور خاندانی امور نے، اجلاس میں، خواتین اور خاندان کے شعبے کے ممتاز ماہرین کے درمیان، صدر اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کے موقع پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
صدر مملکت کے سینیئر مشیر کی تاکید کے مطابق، کہ کوئی بھی کام یا منصوبہ بند نہیں ہونا چاہئے، ہم نے آج کا پروگرام منصوبہ بندی کے عین مطابق منعقد کیا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ صدر نے جو پلان بنائے تھے اسی کے مطابق ان کے اھداف کے حصول کو ممکن بنایا جائے
انہوں نے مزید کہا: ہماری قوم نے بہت سی مشکلات اور مصائب کو برداشت کیا ہے اور مضبوطی کے ساتھ ڈٹ کر ہر مشکل کا مقابلہ کیا ہے اور چیلنجوں کو مواقع میں بدل دیا ہے۔ اسی لئے یہ دردناک واقعہ بھی امکانات فراہم کرے گا اور ہم قومی اتحاد کے ساتھ، ہدف تک پہنچنے کے لئے بھرپور اقدامات کریں گے۔
ڈاکٹر خزعلی نے مزید کہا: ہم اس منصوبے پر عمل پیرا ہیں جو مرحوم صدر نے بین الاقوامی سطح پر پیش کیا تھا۔ ہمارا مقصد حتمی شکل دینے سے پہلے آراء جمع کرنا اور ان پر عمل درآمد کرنا ہے
انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ خاندانی تحریک سے وابستگی کی دستاویز پر آراء کی درخواست، خاندان سے متعلق تمام انتظامی اداروں سے کی گئی تھی، کہا: خواتین کے موضوعات پر کام کرنے والے سے متعلق گروپوں کو ہماری دعوت رسانی اس وجہ سے تھی کہ اس منصوبہ پر خاص طور پر متعلقہ پروفیسرز کے ساتھ بات چیت کی جاسکے۔ سائنسی وزارت کی ویب سائٹ پر پوسٹ کئے گئے تحقیقی عنوانات کے علاوہ، ہم قدرتی اور فطری خاندانی مسائل پر بھی مقالہ جات، پوسٹ ڈاکٹریٹ پروجیکٹس، اور پروفیسرز کے پروجیکٹس کے لئے مزید مجوزہ عنوانات کی حمایت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں
مشیر صدر مملکت نے یہ بھی کہا: ہمارا مقصد ان دستاویزات کو نافذ کرنا بھی ہے تاکہ ہم آئیڈیل خاندان کو دنیا کے سامنے متعارف کروا سکیں اور قانون اور رہنما اصولوں میں موجود خامیوں کو دور کر سکیں۔ اس سلسلے میں، ایک ہم آہنگ پلیٹ فارم کی شکل میں طلاق کی روک تھام کی بحث، اقتصادی اور ثقافتی جہت میں آبادی پر بحث، خاندانی اشاریوں کی تالیف جیسے اقدامات کامیابی سے انجام پا چکے ہیں، اور ہم خاندانی نشان کی منظوری کے خواہاں ہیں
انہوں نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ دیگر ممالک کے ساتھ بنیادوں میں ہمارے اختلافات ہو سکتے ہیں کہا: اس دستاویز میں قومی سطح پر مذہبی مسائل نمایاں ہیں لیکن علاقائی سطح پر ہم کثیر المذہبی نقطہ نظر کے حامل ہوں گے۔ کیونکہ کثیر تعداد میں ایسے مذاہب اور ادیان ہیں جو حقیقی اور فطری خاندانی مسئلے کو اہمیت دیتے ہیں۔
آخر میں، ڈاکٹر خزعلی نے اس بات کی نشان دہی کی کہ : ہم خاندان کے میدان میں مشترکات تلاش کر رہے ہیں، اور روایت پسند خاندانی نظام اور جدت پسند خاندانی نظام،دونوں ہی میدانوں میں، ہم ایک تیسرے ماڈل کی تعریف اجاگر کرنے میں بھی کوشاں ہیں جن میں اقدار کو بھی محفوظ رکھا جائے زمانے اور اس کی ضروریات کے ساتھ ھم آہنگی کے ہمراہ آگے بڑھا جائے۔ یہ دستاویز، قومی سطح پر موجود ہے، اور آئیڈیل خاندان کی مختلف شاخوں کے ملکی سطح پر متعارف ہونے کے بعد، ہم بین الاقوامی مراحل میں بھی داخل ہوں گے