id: 17854
1402/12/24 21:31

مندرجہ ذیل موضوع پر ایک خصوصی پینل منعقد کیا گیا "خواتین کی خودمختاری؛ خاندانی صلاحیتوں میں اضافہ، کمیونٹی کی ترقی"

ڈاکٹر خزعلی: ظاہر ہے کہ جو معاشرے خواتین کی خودمختاری پر خاطر خواہ توجہ دیتے ہیں وہ معاشی، سماجی اور ثقافتی طور پر زیادہ متحرک اور ترقی یافتہ ہوتے ہیں، اور اس سلسلے میں انہوں نے ٹیکنالوجی، صحت، ثقافت اور آرٹ جیسے مختلف شعبوں میں ہمارے ملک کی خاطر خواہ کامیابیوں کی طرف اشارہ کیا

شعبہ مشاورت صدر مملکت برائے خواتین اور خاندانی امور کے تعلقات عامہ کی رپورٹ کے مطابق؛ ہمارے ملک نے پہل کرتے ہوئے، مندرجہ ذیل موضوع پر خصوصی پینل تشکیل دیا  "خواتین کی خودمختاری؛ خاندانی صلاحیتوں میں اضافہ، کمیونٹی کی ترقی"

یہ پینل  اقوام متحدہ کے 500 نشستوں والے ایکوسوک ہال میں منعقد ہوا، جسے دنیا بھر سے آنے والے شرکاء کی جانب سے خوب پذیرائی حاصل ہوئی

اس پینل کی سربراہ کے طور پر مشیر صدر مملکت برائے خواتین اور خاندانی امور  ڈاکٹر خزعلی نے کہا: خاندان کی کامیابی اور معاشروں کی ترقی میں خواتین کی فعال شرکت کی بہت اہمیت کو دیکھتے ہوئے، خواتین کو بااختیار بنانے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے، ایک طرف اپنی منفرد صلاحیتوں کی وجہ سے دوسری طرف، خاندان کے افراد پر ان کے بہت زیادہ اثر و رسوخ کی وجہ سے اور معاشرے کی روحوں رواں اور متحرک ہونے کی وجہ سے، وہ معاشروں کی ترقی اور پیشرفت میں بے مثال کردار ادا کرتی ہیں۔ خواتین، خاندان کی کلیدی رکن کے طور پر جن کے متعدد کردار ہیں، زیادہ صلاحیت اور آگاہی کے ساتھ، نہ صرف خود کامیاب ہوں گی، بلکہ وہ ایک زیادہ باخبر نسل کی تعلیم میں سب سے زیادہ حصہ دار بھی ہو سکتی ہیں اور اس کے نتیجے میں،معاشروں کی ہمہ گیر ترقی کا باعث بن سکتی ہیں

انہوں نے مزید کہا: ظاہر ہے کہ جو معاشرے خواتین کو بااختیار بنانے پر کافی توجہ دیتے ہیں وہ  اقتصادی، سماجی اور ثقافتی طور پر زیادہ متحرک اور ترقی یافتہ ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے ٹیکنالوجی، صحت، ثقافت اور آرٹ کے مختلف شعبوں میں ہمارے ملک کی کچھ کامیابیوں کی طرف اشارہ کیا

اس کے علاوہ قطر کی سماجی اور خاندانی ترقی کی وزیر مریم بنت علی بناصر المسند نے، خواتین اور خاندان کے شعبے میں اپنے ملک کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے،۔ خواتین کو بااختیار بنانے اور ان کی شرکت کو بڑھانے کے لیے، قانونی اصلاحات، اداروں کی تعمیر اور ثقافت کی تعمیر کی ضرورت پر زور دیا

مسز المسند نے کہا کہ گھریلو خواتین،بحیثیت ؛ ماں، بیوی، استاد اور تربیت کرنے والی کے طور پر، خاندان کا ستون سمجھیں جاتی ہیں اور حکومت کو چاہئے کہ وہ خاندانی اور سماجی ذمہ داریوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لئے ان کا ساتھ دیں

اس کے بعد اقوام متحدہ کے سماجی اور اقتصادی امور کے سیکرٹری جنرل لیو جمن نے ایک ویڈیو تقریر میں اظہار خیال کیا: خواتین کی غربت کے خاتمے کے لئے مالی معاونت اور سرمایہ کاری پر توجہ مرکوز کرکے، ہم ترقیاتی اہداف کے حصول کی طرف قدم بڑھا سکتے ہیں۔ آج ہمیں خواتین کی تعلیم پر توجہ دینی چاہئے اور ملازمتوں کو  اس طرح طے کیا جانا چاہئے کہ خواتین تنخواہوں کے حصول کے ساتھ ساتھ ،اپنے بچوں سے دور نہ رہیں

انہوں نے پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لئے مطلوبہ وقت کے اختتام کے قریب ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہا: خواتین کے شعبے میں مزید پالیسیوں سے ہی ان اہداف کا حصول ممکن ہو سکتا ہے

انڈونیشیا کی خودمختارخواتین اور صنفی مساوات کی نائب وزیر مسز روزلین اس پینل کی دوسری مقرر تھیں۔ انہوں نے بین الاقوامی پروفائلز کی بنیاد پر خواتین کے شعبے میں اپنے ملک کی ترقی کی حالت کا تعارف کراتے ہوئے، اپنے ملک میں  SMEs کی صلاحیت کے استعمال اور ملازمتوں میں داخلے کے لئے مختص سہولیات کو خواتین کی کامیابی کا سبب قرار دیتے ہوئے کہا: انڈونیشیا میں خواتین اور خاندانوں کی حالت کو بہتر بنانے کے لئے 5 اہم اہداف نافذ کئے گئے ہیں جن میں؛ خواتین کی کاروباری تخلیقی صلاحیت میں بہتری، خاندان میں خواتین کے بطور ماں کردار میں اضافہ، خواتین پر تشدد میں کمی اور چائلڈ لیبر اور کم عمر بچوں کی شادی کی روک تھام شامل ہیں

اس پینل کی دوسری مقررہ امریکہ سے تعلق رکھنے والی محترمہ ڈیزی خان تھیں، جو ایک سول کارکن اور امریکہ میں " مسلم خواتین تحریک برائے روحانیت اور مساوات" کی ڈائریکٹر تھیں، جنہوں نے پیغمبر اسلام (ص) کی زوجہ محترمہ حضرت خدیجہ (س) کو  موجودہ کمیونٹی میں خواتین کی کامیابی کے معیار کے ساتھ ایک کامیاب عورت کی واضح مثال کے طور پر بیان کرتے ہوئے کہا : جناب خدیجہ (س) ایک کامیاب خاتون کی مثال کے طور پر موجود ہیں۔خاتون  جنس سے تعلق ہونے نے کبھی بھی ان کی وسیع سماجی سرگرمیوں میں رکاوٹ نہیں ڈالی۔ آج کے دور میں بھی خاندان میں، مسلم خواتین کو وسیع مالی حقوق حاصل ہیں۔ ڈاکٹر خان نے خصوصی طور پر کہا: مسلم خواتین پوری دنیا میں سرگرم ہیں اور اگرچہ میڈیا ان کی مختلف انداز میں تصویر پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن وہ خاندان، معاشرت، سائنس، معیشت، سیاست، تعلیم اور بچوں کی پرورش میں سرگرم ہیں، اور اس پینل  میں مسلمان خواتین کی موجودگی اس بات کی گواہ ہے

اس ملاقات میں اقوام متحدہ میں وینزویلا کے مستقل نمائندے کے مشیر نے غزہ میں خواتین اور بچوں کی نسل کشی کا ذکر کیا اور اس سلسلے میں ہمارے ملک کے موقف کو سراہا۔ انہوں نے ایران اور وینزویلا سمیت مختلف ممالک کے خلاف ظالمانہ پابندیوں کی شدید مذمت کی اور اسے خواتین اور بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا

اسی طرح اقوام متحدہ میں سری لنکا کے  نمائندے کے مشیر نے اس ملاقات میں اس ضمنی اجلاس کے انعقاد پر ایران اور پینل کے ارکان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مزید کہا: خاندان،وہ  پہلا اور بنیادی گروہ ہے جس کا رکن،ہر  فرد بنتا ہے اور ہر شخص پیدائش سے ہی  خاندان کا بطور  ایک سماجی گروپ حصہ دار ہوتا ہے. ایک صحت مند خاندان، لوگوں خصوصاً خواتین کی جسمانی اور ذہنی تندرستی میں مددگار ثابت ہوتا ہے

انہوں نے کہا: خواتین کی مددگار معاشی مواقع، ترقی میں اضافے کا باعث بنتے ہیں اور خواتین کو معاشی سرگرمیوں میں حصہ لینے اور مالی وسائل فراہم کرنے کی ترغیب دے کر ہم خاندان کے ادارے کو سب سے بنیادی سماجی اکائی کے طور پر مضبوط بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں

آخر میں حاضرین کے سوالات کے جوابات دیئے گئے۔ قابل ذکر ہے کہ تاجکستان کی خواتین اور خاندانی امور کی وزیر اور اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر، ڈاکٹر ایروانی اس پینل  میں مہمان خصوصی کے طور پر موجود تھے۔