یہودی مذھبی رہنماؤں کی مشیر صدر مملکت برائے خواتین اور خاندانی امور سے ملاقات
ڈاکٹر خزعلی نے خاندانی وابستگی کی عالمی تحریک کے موضوع پر ایک ویبینار کے انعقاد کا اعلان کیا، جس کی تجویز اقوام متحدہ میں ہمارے شہید صدر کے جدید اقدام کے طور پر پیش کی گئی تھی۔ اور اس سلسلے میں انہیں اور خاندانی نظام سے وابستہ تمام مفکرین اور کارکنان کو، فاؤنڈیشن کی حمایت کے مقصد کے پیش نظر شرکت اور تعاون کے لئے دعوت دی گئی
بین الاقوامی شعبہ مشاورت صدر مملکت برائے خواتین اور خاندانی امور کی رپورٹ کے مطابق، منگل 28 مئی 2024 کو، ڈاکٹر خزعلی نے متعدد یہودی مذھبی رہنماؤں کی میزبانی کی جو اسلامی جمہوریہ ایران کے معزز صدر خادم الرضا اور ان کے ساتھ موجود وفد کی نماز جنازہ میں شرکت اور تعزیت کے لئے ہمارے ملک تشریف لائے تھے
جناب یسرال جو اس وفد کی سربراہی کررہے تھے، انہوں نے گفتگو کا آغاز کیا اور کہا: چند سال قبل خدا نے ہماری مدد کی اور ہم اسلامی جمہوریہ ایران کے متعلق مطلع ہوسکے۔ آیت اللہ خمینی نے یہودیت اور صیہونیت کے درمیان فرق رکھا تھا اور ان دونوں کو ایک دوسرے سے بالکل مختلف سمجھا تھا، جو کہ ایران کے خلاف منفی پروپیگنڈہ اور یہودیت کی بجائے صیہونیت کے خلاف ایران کی جدو جہد کا سبب بنا۔
انہوں نے ہمارے ملک کے شہید صدر کو،عوام میں بے پناہ مقبول اور کوشاں مانتے ہوئے مزید کہا کہ ان کی نماز جنازہ کے موقع پر عوام میں آپ کی موجودہ قیادت اور صدر کی محبت کا سمندر موجزن تھا۔ہم جس طرف جاتے تھے وہاں لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا۔ہم چلتے چلتے تھک گئے مگر لوگوں کا ہجوم ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔
خواتین اور خاندان کے مسائل کے سلسلے میں مہمانوں نے ایرانی عوام کے اندر موجود، ایمان اور خوف خدا کی طرف اشارہ کیا اور اسے خاندان کی حفاظت اور اسے نقصان سے تحفظ کے لئے ایک عنصر قرار دیا
اس ملاقات میں ڈاکٹر خزعلی نے بھی الہی مذاہب کے درمیان اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اظہار کیا: امام خمینی (رح) اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ اگر تمام انبیاء ایک زمانے میں یکجا ہو جائیں تو ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہوگا کیونکہ وہ سب واحد خدائی مقصد کے حصول کے خواہاں ہیں"
اگر مختلف مذاہب کے ماننے والے بھی اس نظریہ کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک بڑے مقصد کے بارے میں فکرمند بن جائیں تو تمام مذاہب ایک دوسرے کے ساتھ متحد رہ کر واحد خوبصورت دنیا کے حصول کو ممکن بنا سکتے ہیں
انہوں نے مزید کہا: آپ نے ہمارے مرحوم صدر کے بارے میں بالکل درست باتیں کہی ہیں۔ دشمن نے ان کو اور ان کے مقام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ منتخب کرکے ان کی شہادت کے ذریعے عوام کے درمیان اعلی قیادت اور صدر سے محبت اور جذبہ کو ایک بار پھر گلی کوچوں میں نمایاں کردیا
مشیر صدر مملکت نے مزید کہا: خداوند متعال قرآن مجید میں فرماتا ہے: "جو شخص خدا کے لئے کام کرتا ہے، خدا اس کی محبت کو لوگوں کے دلوں میں ڈال دیتا ہے" اور ہم نے اس محبت اور جذبے کا کچھ حصہ، شہید صدر اور ان کے ساتھیوں کی نماز جنازہ میں مشاہدہ کیا
انہوں نے مزید کہا: "ہمارے شہید صدر کے راستے پر چلتے ہوئے،ہمارے ایک اور فریضہ یہ ہے کہ ہم شیاطین صفت لوگوں کے پیدا کردہ ان انحرافات کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں جو انسانوں کو فطرت اور قدرتی زندگی سے دور کرتے ہیں۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان سے مقابلہ کرتے ہوئے، انسانیت اور اخلاق کی حفاظت کریں۔ تمام مذاہب میں حجاب اور حیا کو اہمیت دی گئی ہے اور تمام مذاہب میں حجاب پر عقیدہ موجود ہے۔ تمام مذاہب میں خواتین کا خصوصی احترام اور قدر موجود ہے اور ہمارا فرض ہے کہ معاشرے اور خاندان میں اقدار کو برقرار رکھیں اور خواتین کے تشخص کی حفاظت کریں